’سبزی خوروں کی جنت‘: پرانی دہلی کی پراٹھا گلی

ہندوستان کے قدیم ترین بازاروں میں سے ایک میں پرانی دہلی کے چاندنی چوک کی ’پرانتھا والی گلی‘ ہے جو اس مصروف ترین بازار کی گلیوں میں چھپی ہوئی ہے۔

(سکرین گریب)

پراٹھے والی گلی نئی دہلی کے چاندنی چوک میں واقع ہے جو 1650 میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ جگہ چاندی کے برتنوں کی دکانوں کے لیے مشہور تھی۔

بھارت کے قدیم ترین بازاروں میں سے ایک میں پرانی دہلی کے چاندنی چوک کی ’پرانتھا والی گلی‘ ہے جو اس مصروف ترین  بازار کی گلیوں میں چھپی ہوئی ہے۔

یہ جگہ سب سے زیادہ مقبول مقامات میں سے ایک ہے جہاں 1875 سے صرف سبزی خور ہی پراٹھا بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔

اس بازار کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں سبزی خور کھانوں کی بہت سی اقسام ہیں جو ہر مذہب کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ لال قلعہ کے قریب چاندنی چوک کی ایک تنگ گلی میں فوڈ سٹریٹ ہے۔ یہ جگہ ثقافتی لحاظ سے بہت مالا مال ہے اور یہاں روزانہ سینکڑوں سیاح آتے ہیں۔

پراٹھا کھانے کے لیے مشہور مقامات میں سے ایک کنیا لال ہے اور جب بھی آپ جاتے ہیں وہاں بہت ہجوم ہوتا ہے۔ لوگ اجنبیوں کے ساتھ جگہ بانٹتے ہیں کیونکہ یہ دکانیں چاندنی چوک کی تنگ گلی میں واقع ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ جگہ سبزی خوروں کی جنت بھی کہلائی جاسکتی ہے کیونکہ اس گلی کی دکانیں خالص سبزی سے بنے کھانے پیش کرتی ہیں، وہ ہندو برہمن روایات کے مطابق پیاز اور لہسن کا استعمال بھی نہیں کرتے۔ 

پراٹھا گلی میں ایک دکان کے مالک گورو کہتے ہیں کہ ’ہم کئی دہائیوں سے اپنے مختلف اقسام کے پراٹھوں کے ساتھ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اور ہم ہر مذہب، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے صارفین کو پورا کرتے ہیں۔ ہم صرف سبزی کی چیزیں پیش خدمت ہیں لہذا یہ یہاں ہر کسی کے لیے موزوں ہے۔‘

’یہاں کے لوگ یہاں ملنے والے انواع و اقسام کے کھانے کے عادی ہیں۔ اگر کوئی یہاں ایک بار جائے تو وہ بار بار ضرور آئے گا۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جو ایک شخص کو زندگی کا تجربہ فراہم کرتی ہے۔‘

پراٹھا گلی میں آنے والے راج نامی گاہک کہتے ہیں ‘میں جب سے دہلی آیا ہوں یہاں کا دورہ کر رہا ہوں، یہ جگہ ہمیشہ مجھے حیران کر دیتی ہے، جب بھی میں وہاں جاتا ہوں ان لوگوں کے پاس اپنے گاہکوں کو خوش کرنے کے لیے نئی قسمیں ہوتی ہیں۔ میں اس جگہ سے کبھی نہیں تھک سکتا، جب میں نان ویجیٹیرین کھانا کھا کر تھکا ہوا محسوس کرتا ہوں تو میں یہاں آجاتا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا