عشق کی گتھیاں سلجھاتا ’عشق لا‘

کہانی کا محور اس کے ٹائٹل ’عشق لا‘ یعنی عشق کی نفی سے ظاہر ہے جو اس کے تین مرکزی کرداروں کی زندگی سے پردہ اٹھاتی ہے جو ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

اذکا نے اپنے شفاف دل، خدا پر پختہ یقین، احسان مندی اور بے لوث محبت سے ناقابل تسخیر قلعے بھی فتح کر لیے (تصویر: مومنہ درید پروڈکشنز)

ہم ٹی وی کا ڈراما ’عشق لا‘ معاشرے میں موجود عدم مساوات، سماجی تفریق، تکبر اور عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کے سفر کی کئی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے کے بعد جمعرات کی شب  اپنے اختتام کو پہنچا۔

مومنہ درید پروڈکشن کے بینر تلے بننے والے اس ڈرامے کو قیصرہ حیات نے تحریر کیا تھا جب کہ امین اقبال نے اس کی ہدایات دیں۔

ڈرامے کی بھاری بھرکم کاسٹ میں سینیئر اداکار ندیم بیگ، موسیقار عدنان سمیع خان کے صاحبزادے اذان سمیع خان، یمنیٰ زیدی، سجل علی، ’عہدِ وفا‘ سے شہرت حاصل کرنے والے عدنان صمد خان، غزالہ کیفی، سیمی راحیل، لیلیٰ واسطی، ، عظمیٰ حسن، سہیل سمیر، اور دیگر شامل رہے۔

کہانی کا محور اس کے ٹائٹل ’عشق لا‘ یعنی عشق کی نفی سے ظاہر ہے جو اس کے تین مرکزی کرداروں کی زندگی سے پردہ اٹھاتی ہے جو ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

سجل علی نے شنایہ کا کردار نبھایا ہے جو ایک ہمدرد، بہادر خاتون صحافی اور سماجی کارکن ہے۔

اذان سمیع خان نے اذلان کا کردار ادا کیا ہے جس کا تعلق اشرافیہ کلاس سے ہے لیکن وہ کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ایک خود پسند، مغرور اور خدا پر یقین نہ رکھنے والا نوجوان ہے۔ اذلان اور شنایہ کا تعلق دوستی سے شروع ہو کر مبحت، شادی اور آخر میں عشق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

تیسرا اور میرے نزدیک سب سے اہم یمنیٰ زیدی کی جانب سے نبھایا گیا اذکا کا کردار تھا جو ان لوگوں کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے جو معاشرے میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی محنت اور خلوص سے کامیابیوں کی منازل طے کر لیتے ہیں۔

اذکا نے اپنے شفاف دل، خدا پر پختہ یقین، احسان مندی اور بے لوث محبت سے ناقابل تسخیر قلعے بھی فتح کر لیے۔ 

شنایہ کی موت، اذکا کا ڈاکٹر بننا اور پھر اذلان سے کاغذی نکاح اس کہانی کے اہم موڑ تھے۔

اس ڈرامے پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور سب کو ہی اس کی کہانی معلوم ہے تو سیدھا اس کی آخری قسط پر چلتے ہیں جس میں اذکا کا خلوص، احسان مندی اور بے مثال قربانی نے اذلان کے دل میں گھر کر لیا اور سب سے بڑھ کر انہیں دعا اور خدا پر یقین کو جوڑنا ایسا کارنامہ تھا جو شنایہ اپنی زندگی میں بھی نہیں کر پائی تھی۔

اس کہانی کی تکمیل باقی ڈراموں سے مختلف تھی۔ ندیم بیگ کی طرف سے ادا کیا گیا پروفیسر رحمان کے روحانیت اور محبت الہی پر لیکچر والے سینز نے ابتدا ہی سے  پورے ڈرامے کی سمت متعین کر دی تھی۔

عشق لا کی کہانی کا سب سے قابل تعریف پہلو اس میں خواتین کے مضبوط کردار تھے۔ دیگر پاکستانی ڈراموں کے برعکس، جن میں عورت کو مظلوم کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے، اس ڈرامے میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مختلف مضبوط خواتین کرداروں کو دکھایا گیا ہے چاہے وہ شنایہ کا دلیر صحافی کا کردار ہو یا اذکا کا شروع میں بطور ہاؤس میڈ جرات مندانہ اور نڈر رویے کا مظاہرہ کرنا۔

ڈرامے میں عوام کی دلچسپی اور کامیابی کا ایک اور راز اس کے بامعنی اور خوبصورت مکالمے تھے۔ مثال کے طور پر یہ ڈائیلاگ ’عشق میں کوئی منزل نہیں ہوتی، عشق میں تو صرف سفر ہوتا ہے اور اس سفر میں چلنے والا عاشق۔‘ یہ ڈراما ناظرین کو محظوظ تو کرتا ہی ہے لیکن اس کے سبق آموز مکالموں کی وجہ سے خدا کی محبت اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے تصور کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

کہانی اور تمام کرداروں میں جاندار اداکاری اس ڈرامے کی کامیابی کے اہم ستون تھے لیکن اس کی غیر معمولی ہدایت کاری نے بھی ڈرامے کی خوبصورتی میں مزید رنگ بھر دیے۔ وائڈ اینگلز شوٹنگ، فضائی اور مووننگ شاٹس کے ساتھ بیرونی مناظر یقینی طور پر دلکش دکھائی دیے۔

ڈراما یقینی طور پر کامیاب رہا جس کی ہر قسط کو یوٹیوب پر دسیوں لاکھ بار دیکھا گیا جب کہ فلموں اور ڈراموں کے بین الاقوامی پلیٹ فارم ’آئی ایم ڈی بی‘ پر اس کو 8.6 رینکنگ ملی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی