ایران: ایک اور جوہری سائنس دان کی موت

ایران کے سرکاری ذرائع نےجوہری سائنس دان کی موت کا تذکرہ نہیں کیا، لیکن ایرانی اور اسرائیلی ویب سائٹس نے کامران ملاپور نامی جوہری سائنس دان کی موت کا انکشاف کیا ہے۔

کامران ملاپور (تصویر: العربیہ اردو)

ایران میں آئے دن کسی نہ کسی اہم شخصیت کے قتل یا پراسرار حالات میں موت کی خبر کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ عرب چینل العربیہ اردو کے مطابق ایک تازہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ایک جوہری سائنس دان پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے ہیں۔

اس سے قبل میزائل اور ڈرون سائنس دان ایوب انتظاری کی مشتبہ موت کا واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔ اور اب ایرانی میڈیا نے صوبہ اصفہان میں نطنز کی تنصیب میں پراسرار حالات میں ایک اور ایرانی سائنس دان کی موت کا انکشاف کیا ہے۔

تاہم ایران کے سرکاری ذرائع نے جوہری سائنس دان کی موت کا تذکرہ نہیں کیا، لیکن ایرانی اور اسرائیلی ویب سائٹس نے کامران ملاپور نامی جوہری سائنس دان کی موت کا انکشاف کیا ہے۔ ملاپور نطنز جوہری تنصیب میں کام کر رہے تھے۔

فارسی میں سوشل میڈیا سائٹس اور ٹیلی گرام چینلز کامران ملاپور کی موت کی خبر کو رپورٹ کر رہے ہیں جبکہ ان کی تصاویر بھی شائع کی گئیں۔

فارسی زبان کی ویب سائٹ ’آوا ٹوڈے‘ نے بھی اس سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ شمال مشرقی اہواز کے شہر ایذج کے ایک شہری کامران ملاپور نے جوہری ادویات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی تھی اور نطنز میں ’پراسرار حالات‘ میں انتقال کرگئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں نطنز نیوکلیئر سائٹ پر بشمول دو دھماکوں کے حادثات کا ایک سلسلہ دیکھا گیا۔ ایران نے ان واقعات کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھرایا ہے۔

انڈپینڈنٹ فارسی کے مطابق کامران ملاپور، جو کہ جوہری ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں ایذج کے رہائشی ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کا نام ہے جو بعض اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق نطنز ویب سائٹ پر ’ایٹمی ماہر‘ بتایا گیا تھا۔

کامران ملاپور کی موت کی خبر پر تہران کے حکام نے ابھی تک سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں، ایران کے میزائل اور جوہری پروگراموں میں ملوث ایجنٹوں کی مشتبہ موت یا ہلاکت کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایران اکثر اسرائیل اور امریکہ کی جانب اس بابت الزام کی انگلی اٹھاتا ہے۔

مشتبہ اموات کا نیا دور ایسے وقت میں آیا ہے جب بائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر عمل پیرا ہے، اور اسرائیلی حکام نے بارہا امریکہ کو ایک کمزور معاہدے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

ایک تفصیلی رپورٹ میں اسرائیلی ویب سائٹ وائے نیٹ الرٹ نے حالیہ برسوں میں ایران کی فوجی اور ایٹمی شخصیات کی مشتبہ ہلاکتوں اور نطنز سمیت فوجی اور ایٹمی مقامات پر متعدد دھماکوں کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔

یہ رپورٹس گذشتہ دو دنوں میں جاری کی گئی جب اسرائیلی ذرائع نے یہ بھی بتایا تھا کہ ’ایرو اسپیس انڈسٹری کے ماہر‘ ایوب انطزاری کی موت کی مبینہ وجہ زہر کھانے سے تھی۔ لیکن اگرچہ یزد کے گورنر نے ایوب انطزاری کو ’شہید‘ قرار دیا، لیکن یزد کی عدلیہ نے انہیں صرف ایک صنعتی کمپنی کا ملازم قرار دیا اور خبردار کیا کہ وہ ’مشکوک‘ عناصر سے نمٹیں گے۔

ایران سے جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات معدوم؟

یورپی یونین کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے ہفتے کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے معاہدے پر عمل درآمد کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔

بوریل نے اپنی ٹویٹس میں کہا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان کے ساتھ ایک بار پھر بات کی ہے۔ ان کے مطابق جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے مزید کوشش کرنے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ایک رابطہ کار کے طور پر وہ جوہری مذاکرات میں دیگر حل طلب مسائل کے حل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ادھر ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روسی مندوب میخائل الیانوف نے ہفتے کو کہا کہ اگر عالمی توانائی ایجنسی مغربی ممالک کی ایران کے خلاف پیش کی قراردار منظور کی تو ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ویانا مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اس صورت میں مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔

الیانوف نے یورپی یونین سے اصرار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی حل پر زور دے۔ ان کے مطابق اگر یورپ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ چاہتا ہے تو زیادہ سفارتی کوشش کرے۔

جمعے کو ایرانی وزیر خارجہ عبداللہیان نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران ایرانی جوہری معاہدے پرعمل درآمد کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے غور کیا۔

ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والی بات چیت گذشتہ مارچ سے تعطل کا شکار ہے۔ تہران کی جانب سے پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکالنے پر اصرار کیا گیا تھا مگر امریکہ نے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ سے نہیں نکالا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا