عامر لیاقت حسین: ’عجب آزاد مرد تھا‘

جیو ٹی وی پر عالم آن لائن پروگرام سے مشہور ہونے کے بعد عامر لیاقت حسین نے رمضان ٹرانسمیشن میں قدم رکھا تو شہرت کی بلندیوں کو چھولیا مگر اس کے بعد ان کی زندگی متعدد تنازعات کا شکار نظر آئی۔

 (فائل تصویر: ٹوئٹر عامر لیاقت آفیشل)’اب ان کا مذاق اڑانا بند کیا جائے۔‘

معروف ٹی وی اینکر اور رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی زندگی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈاکٹر عامر لیاقت کے حوالے سے صارفین جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گوگل سرچ پر ان کی سرچ میں آج شدید اضافہ نظر آیا۔

اسی طرح ٹوئٹر پر بھی وہ ٹاپ ٹرینڈ ہیں اور اب تک 30 ہزار ٹویٹس #amirliaquat کے ٹرینڈ سے ہو چکی ہیں۔

جیو ٹی وی پر عالم آن لائن پروگرام سے مشہور ہونے کے بعد عامر لیاقت حسین نے رمضان ٹرانسمیشن میں قدم رکھا تو شہرت کی بلندیوں کو چھوا مگر اس کے بعد ان کی زندگی متعدد تنازعات کا شکار نظر آئی۔

 معروف صحافی سلمان مسعود نے ان کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عامر لیاقت نے شہرت اور تنازعات کی بلندیوں کو چھویا۔ ’سکینڈلز اور تنازعات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ناہموار موڑ آئے۔ کئی ٹیلنٹ کا مالک شخص اپنے غیر متوازن رویوں کی نذر ہو گیا۔‘

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی سید عمار یاسر زیدی نے افسوس کا اظہار کچھ اس طرح کیا: ’عامر لیاقت حسین کا اچانک انتقال اداس کر گیا، سب ٹھیک ہے مگر یہ نہیں ہونا چاہیے تھا ، اللہ مغفرت فرمائے اور بچوں کو صبر دے۔‘

معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے ساتھ اپنے طویل تعلق اور جیو اور اے آر وائے میں ساتھ کام کرنے کو یاد کرتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر عامر لیاقت کی زندگی تنازعات سے بھرپور رہی۔ اسی وجہ سے کچھ صارفین نے ان کی موت کے بعد ان پر تنقید کرنے والے افراد کو اس امر سے بعض رہنے کی تاکید کی۔ شازیہ محمود نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’اب ان کا مذاق اڑانا بند کیا جائے۔‘

عائشہ نامی صارف نے معاشرے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم لوگ کسی کی دماغی صحت خراب میں بہت ماہر ہیں۔‘

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا: ’ عامر لیاقت حسین خدا مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔۔۔۔ وقت کی موجیں انسان کو پٹخنے پر آ جائیں تو کچھ نہیں ہو سکتا عامر لیاقت نے وقت کے بہت تغیر دیکھے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل