پاکستان کا فیٹف ایکشن پلان مکمل کرنا بڑی کامیابی ہے: آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جی ایچ کیو میں موجود کور سیل نے سول اور ملٹری ٹیم کی رہنمائی کی جس سے ایکشن پلان پر عملدرآمد ممکن ہوا، جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔‘

پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں ڈالا تھا (تصویر: ایف اے ٹی ایف)

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم فیٹف نے پاکستان کے 34 نکاتی ایکشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اپنی جائزہ ٹیم جلد از جلد پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

فیٹف نے اپنی جاری شدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل اپنے دونوں ایکشن پلانز کو خاطر خواہ مکمل کر لیا ہے جس کے بعد اب فیٹف کی ٹیم پاکستان جا کر اصلاحات کا جائزہ لے گی۔

فیٹف کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی صورت حال پر وہ نظر رکھے ہوئے ہیں اور بہت جلد پاکستان کا دورہ کیا جائے گا۔

اس حوالے سے پاکستان فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا فیٹف ایکشن پلان مکمل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کوششوں سے پاکستان کے لیے وائٹ لسٹ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

ٹوئٹر پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’جی ایچ کیو میں موجود کور سیل نے سول اور ملٹری ٹیم کی رہنمائی کی جس سے ایکشن پلان پر عملدرآمد ممکن ہوا، جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔‘

اس سے قبل برلن میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں فیٹف نے کہا کہ ’پاکستان نےاس امر کا مظاہرہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے گروہوں کے سینیئر رہنماؤں کے خلاف تحقیقات اور ان کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔‘

فیٹف نے مزید کہا کہ ’منی لانڈرنگ تحقیقات کے حوالے سے بھی پاکستان میں ایک مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔‘ 
’پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان کو طے شدہ وقت سے پہلے مکمل کیا ہے۔‘

جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کر رہی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے آج گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کام اپنا کیس پلینری میں پیش کرنا تھا جو ہم نے کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان نے ایک بہت لمبا سفر طے کیا ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جو پیش رفت ہم نے کی ہے وہاں سے واپس نہ جائیں۔

برلن میں ہونے والے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ آن سائٹ دورہ کب تک متوقع ہے تو فیٹف کے کے صدر کہا کہ ’یہ ایک معمول کا عمل ہے، جب بھی کوئی ملک گرے لسٹ میں ہو تو اس ملک کے ساتھ ایکشن پلان بنایا جاتا ہے جس پر قدم بہ قدم عمل درآمد کیا جاتا ہے، پھر ایف اے ٹی ایف حکام ان اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر ایکشن پلان کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہو تو آن سائٹ دورہ کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا ہوتا ہے کہ آن گراؤنڈ کام مکمل ہوا ہے اور یہ چیک کرنا کہ یہ پائیدار اور ناقابل واپسی ہے۔ چونکہ یہ یہاں دو ایکشن پلان کا معاملہ ہے تو انہیں دو مختلف ایکشن پلان آئٹمز کو چیک کرنا ہو گا جو نسبتاً آن سائٹ طویل عمل ہو گا۔ ہم آن سائٹ کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے لیکن یہ یقیناً اکتوبر میں ہونے والے پلینری اجلاس سے پہلے ہو گا۔‘ 

دوسری جانب پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کے ایکشن پلان کی تکمیل کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے آخری قدم کے طور پر ہمارے دونوں ایکشن پلانز (2018 اور 2021) کی تکمیل کو تسلیم کیا ہے اور ایک آن سائٹ دورے کی اجازت دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ایف اے ٹی ایف کے اراکین نے پاکستان کی پیشرفت پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان کو 34 آئٹمز پر مشتمل دونوں ایکشن پلان مکمل کرنے اور خاص طور پر ریکارڈ مدت میں 2021 کے ایکشن پلان کی جلد تکمیل پر مبارک باد دی۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کرونا وبا سمیت بہت سے چیلنجز کے باوجود ان ایکشن پلانز کی کامیاب تکمیل کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا: ’پاکستان نے فیٹف ایکشن پلانز کے نفاذ کے دوران اے ایم ایل اور سی ایف ٹی ڈومین میں بہت زیادہ کام کیا ہے۔ فیٹف کے ساتھ تعاون سے پاکستان میں اس حوالے سے ایک مضبوط فریم ورک قائم ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمارے نظام میں بہتری آئی ہے۔‘

پاکستان کو کب گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو کہ مختلف ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور انسداد منی لانڈرنگ جیسے اقدامات پر نظر رکھتا ہے۔

جون 2018 میں فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا تھا اور 2019 کے آخر تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل در آمد کے لیے کہا تھا۔

بعد ازاں ان 27 نکاتی پلان کے بعد پاکستان کو ایک اور پلان بھی دیا گیا تھا جن میں 7 نکات پر پاکستان نے عمل در آمد کرنا ہے۔

گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کیا ہے؟

ایف اے ٹی ایف عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹس کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔

بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اعادہ کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت