فیصلہ سازی میں تاخیر کی قیمت عوام چکائیں گے

بیڈ گورننس کی وجہ سے عمران خان کی قدرے کم تجربہ کار حکومت پر تنقید آسان تھی لیکن اب تو ہمارا اصل امتحان تجربہ کار حکومتی ٹیم کی کارکردگی اور دعوؤں میں فرق کو جانچ کر عوام کے سامنے رکھنا ہے۔

 وزیراعظم شہباز شریف 13 اپریل 2022 کو کراچی میں اپنے دورے کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد روانہ ہو رہے ہیں۔اس بات میں وزن ہے کہ معاشی اور توانائی سیکٹر میں موجودہ حکومت کی ٹیم تجربہ کار ہے لیکن صورت حال جن بروقت سنجیدہ  فیصلوں کا تقاضا کر رہی تھی اس میں اتحادی حکومت کی ناکامی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

میں گذشتہ کالم میں تحریر کر چکا ہوں کہ وزیراعظم شہباز شریف کے لیے اصل مسئلہ عمران خان نہیں بلکہ معیشت کی بحالی ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں سے اصل بڑی خبر یہ رہی ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ’پِٹتا‘ جا رہا ہے۔ اتحادی حکومت کی پہلی کنفیوژن یہ رہی کہ اقتدار میں رہنا ہے یا نہیں اور کتنا عرصہ۔ دوسری کنفیوژن (یہ جانتے ہوئے کہ فیصلہ نا گزیر ہے) تیل کی قیمتیں بڑھانی ہیں یا نہیں۔ تیسری کنفیوژن بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط پر دینا ہے یا نہیں (بجٹ میں پھر بھی ایسی ڈنڈی ماری گئی کہ جس سے نقصان ہوا)۔ بہ الفاظ دیگر فیصلہ سازی میں اتنی دیر کر دی گئی کہ جس کی قیمت اب پاکستانی عوام چکائیں گے۔

اس بات میں وزن ہے کہ معاشی اور توانائی سیکٹر میں موجودہ حکومت کی ٹیم تجربہ کار ہے لیکن صورت حال جن بروقت سنجیدہ  فیصلوں کا تقاضا کر رہی تھی اس میں اتحادی حکومت کی ناکامی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اقتدار میں آتے ہی بیانیہ بنایا گیا کہ سخت فیصلے ضروری ہیں جس سے انفلیشن ریٹ لازمی اوپر جائے گا لیکن اس کے بعد روپے کی قدر بڑھے گی اور معاملات بہتری کی جانب جائیں گے۔ چلیں مان لیا مہنگائی کنٹرول کرنا آپ کے بس میں نہیں لیکن ڈالر کو روپے کے مقابلے میں 160 تک لانے کا بیانیہ کہاں گم ہو گیا؟ مارکیٹ میں اس سب کچھ کے باوجود آپ کی تجربہ کار ٹیم کیسے استحکام نہیں لا پا رہی؟

شہباز شریف صاحب کیا پنجاب میں سیاسی استحکام لانے میں اتنے مگن ہو چکے ہیں کہ اب پاکستان میں معاشی استحکام لانے کا وعدہ ان کی اولین ترجیح نہیں رہی؟ اس وقت یہ سوال اٹھایا تو جا سکتا ہے اور مان بھی لیا جائے کہ واقعی ایسا ہے تو پنجاب کا سیاسی استحکام کیا ملکی معیشت کو سہارا دے پائے گا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحادی حکومت کے کچھ وزرا دن رات کام کر رہے ہیں، سخت فیصلے بھی (تاخیر سے صحیح) لے لیے گئے ہیں لیکن پاکستان کو ہر وقت فوکسڈ حکومت  کی ضرورت ہے جس کا اوڑھنا بچھونا ملکی معیشت ہی رہے۔

فیٹف کے معاملات تقریباً حل ہو چکے لیکن معاشی بحالی اب بھی شہباز شریف حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستانی روپے کا ڈالر کے مقابلے میں 210 کا ہندسہ عبور کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

 یہ تو یہ بتا دیا جائے کہ ’آئی ایم ایف کے کہنے پر‘ روپے کی اس بے قدری پر خاموش رہا جائے۔ اگر ایسا ہے تو پھر عوام کو کیوں نہیں ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا کہ تیل کی قیمتوں اور افراط زر میں بے تحاشہ اضافے کے بعد مہنگائی کا اگلا طوفان روپے کی بے قدری کا آئے گا؟

آپ کی تجربہ کار ٹیم کیوں عوام کو یہ نہیں سمجھاتی کہ ڈالر اب کبھی 160 روپے کا نہیں ہو گا؟ کیوں کھل کر آپ اپنے دعوؤں کی وضاحت نہیں کر رہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر کرنسی مارکیٹ میں یہ سب کچھ کیوں اور کون کروا رہا ہے؟ پھر آ کر کیوں نہیں کہا جا رہا کہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور استحکام آنے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 160 نہیں تو 180 تک دوبارہ آ سکتا ہے؟ مارکیٹ میں استحکام حکومتی کارکردگی اور پالیسی بیانات سے آتا ہے، اگر ٹی وی اینکرز یا ٹک ٹاکرز ایسا استحکام لا سکتے تو عمران خان مزید دس سال اقتدار میں رہ سکتے تھے۔

بیڈ گورننس کی وجہ سے عمران خان کی قدرے کم تجربہ کار حکومت پر تنقید آسان تھی لیکن اب تو ہمارا اصل امتحان تجربہ کار حکومتی ٹیم کی کارکردگی اور دعوؤں میں فرق کو جانچ کر عوام کے سامنے رکھنا ہے۔

خان صاحب نہ چاہتے ہوئے وہیں پہنچا دیے گئے جہاں وہ بطور سیاست دان جچتے ہیں، ایک پاپولر اپوزیشن لیڈر! لیکن بطور ایک مقبول اپوزیشن لیڈر بھی ان کی فیصلہ سازی پر بہت سے سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تحریر میں پھر اگر ’نوشتہ دیوار نہ پڑھنے‘ کی ان کی صلاحیت کا تذکرہ ہو چلے تو پی ٹی آئی کے دوست ایک بار پھر یہ گلہ کریں گے کہ خان صاحب سے آپ کو مسئلہ کیا ہے؟

ویسے بھی صحافی کو حکومت وقت کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے ہوتے ہیں اور اصل صحافت تو ہے ہی یہی، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے آگے بڑھنے میں معاملہ معیشت کی بحالی کا ہے اور معاشی بحالی، سیاسی استحکام کے بغیر ناممکن ہے۔ لیکن خان صاحب کے دماغ میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ سیاسی استحکام تبھی آئے گا جب آپ بلا شرکت غیرے اقتدار میں ہوں گے۔

معاملہ یہ ہے کہ اب ایسا ہونے سے تو رہا اور خان صاحب کو اس وقت یہی نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ انہیں فی الحال اپوزیشن اور وہ بھی ’تعمیری اپوزیشن‘ پر اکتفا کرنا ہوگا ورنہ گھر ہی بیٹھ کر آئندہ انتخابات تک ویڈیو لنک کے ذریعے خطابات پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔

معاشی میدان میں انہوں نے تین فل ٹائم اور ایک پارٹ ٹائم گھوڑا اتارا۔ حکومت کرنے کے تقریباً ڈھائی سال بعد اترنے والے آخری فل ٹائم گھوڑے شوکت ترین کے چارج سنھبالنے پر خیالات یہ تھے کہ ڈھائی سالوں میں معیشت کا ستیاناس کر دیا گیا۔ اسی گھوڑے کو اب سلطانی گواہ بنانا عمران خان کے انقلابی بیانیے کے ساتھ قطعاً نہیں جچتا۔

حقیقی اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے اب وہ حماد اظہر کو سامنے لانے پر مجبور ہوئے جن کے ساتھ شوکت ترین نے وہی کیا جو عمران خان نے اکبر ایس بابر کے ساتھ کیا۔

بطور وزیراعظم عمران خان کی فیصلہ سازی پر جو جائز سوالات اٹھائے آج وہ ان کو اپنی غلطی قرار دیتے ہیں اور آج بھی یہ الفاظ تحریر کرتے کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ بطور اپوزیشن لیڈر بھی وہ جن غلطیوں کے مرتکب ہو چکے، ان کی وہ سیاسی قیمت ادا کریں گے۔

حقیقی اپوزیشن کرنے پر یہ تمہید اس لیے ضروری سمجھی کہ خان صاحب کو یہ ذہن نشین کرنا ہو گا کہ بیساکھیوں کے بغیر اگر پاکستان میں اپوزیشن کرنی ہو تو بے نظیر بھٹو اور ولی خان کو پڑھ ضرور لیں۔ ویسے بھی ان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں قول و فعل کا تضاد کتنا عرصہ چل سکتا ہے؟


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ