لنڈے کے کپڑوں کے کام میں شرم محسوس نہیں کرتا: اسد رؤف

عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے یہ ہیرو اب لاہور کے لنڈے بازار میں انہی ملکوں سے آئے پرانے کپڑے اور جوتے فروخت کررہے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو امپائرز کو ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ایلیٹ پینل امپائرنگ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، ایک علیم ڈار دوسرے اسد رؤف ہیں، جو اب لنڈے کے کپڑوں کا کاروبار کر رہے ہیں۔

اسد رؤف کو بھارت میں ہونے والے پہلی پانچ انڈین پریمئر لیگ میں امپائرنگ کا اعزاز ملا۔ اس دوران ان کی کوئی غلطی رپورٹ نہیں ہوئی تھی، مگر 2013 میں ان کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا رہا جس کے بعد ان کا کیرئر زوال پذیر ہوگیا۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں انٹرنیشل کرکٹ میچز میں امپائرنگ کے فراض سرانجام دیتے رہے 2011 کے ورلڈ کپ میں بھی ان کا نام امپائرنگ کے لیے سلیکٹ کیا گیا۔

عالمی سطح پر اپنے ملک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے یہ ہیرو لاہور کے لنڈے بازار میں انہی ملکوں سے آئے پرانے کپڑے اور جوتے فروخت کررہے ہیں، جہاں کرکٹ کے میدانوں میں میچز کے دوران فیصلوں سے ٹیموں کی ہار جیت مشروط رہی۔

اسد رؤف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جب میں آئی سی سی ایلیٹ امپائر کے طور پر دنیا بھر میں گھومتا تھا اسی وقت اندازہ تھا کہ یہ عارضی شہرت ہے اس سے مسلسل روزگار جاری رکھنا مشکل ہے اس لیے میں نے اسی وقت سے اپنا یہ کاروبار شروع کیا تھا۔‘

اسد رؤف نے کہا کہ یہ ایک المیہ کے پاکستان میں ٹیلنٹ کی قدر نہیں ہے۔

’میں اور علیم ڈار دو ہی آئی سی سی ایلیٹ پینل کے امپائر رہے اس کے بعد ابھی تک کسی ہاکستانی کو وہاں تک پہنچتے نہیں دیکھا نہ ہی آئندہ ایسی کوئی امید کی جاسکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے  لیجنڈز کی قدر کرنے کی روایت ہی نہیں جو اپنے عروج کے دوران کچھ کمائی کر کے بہترین کاروبار کر لے وہ خوش حال اور جو اپنے کام پر توجہ دیتے رہے ہیں وہ فارغ ہوکر اس طرح کے چھوٹے موٹے کام کر کے باعزت روزگار کما کر گزارا کرتے ہیں۔

اسد رؤف نے کہا: ’مجھے لنڈے کا کام کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی بلکہ فخر سے یہ کام کرتا ہوں رزق حلال کمانے کے لیے ریڑھی بھی لگانا پڑی تو میں لگانے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔‘

ان کے بقول آئی سی سی کی جانب سے امپائرز کی ٹریننگ کے لیے کبھی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ’اگر ہمیں کوئی خدمات پیش کرنے کا کہتا تو خوشی سے تربیت کرتے لیکن جب کسی کو دلچسپی نہیں تو زبردستی تو کسی کو تربیت نہیں دی جاسکتی اور ویسے بھی عمر گزرتی جارہی ہے ہمارا تجزبہ ہمارے ساتھ ہی دفن ہوجائے گا۔‘

اسد رؤف کے بقول سابق کرکٹر ماجد خان نے پی سی بی میں امپائرز کی تربیت پر خصوصی توجہ کا سلسلہ شروع کیا اور وہ دو امپائرز آئی سی سی تک پہنچ گئے ان کے بعد کسی نے دلچسپی نہیں لی لہذا نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ عالمی کرکٹ کے میدانوں میں بننے والی یادیں یہاں بہت یاد آتی ہیں کہ جہاں عمر کا بڑا حصہ گزارا اب اس شعبے سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔

انہوں نے بتایا کہ امپائرنگ کے علاوہ فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیلتے رہے ہیں اور اس طرف بھی کافی نام کمایا ہے۔

واضح رہے کہ اسد رؤف آئی سی سی پینل پر 2006 سے  2013  تک رہے۔

بھارت میں  آئی پی ایل کے دوران پراسپاٹ فکسنگ  کا الزام لگا اور تنازع کے دوران  آئی سی سی نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں 2013 کی چیمپئنز ٹرافی کے میچ آفیشلز کے پینل سے نکال دیا۔ اسد رؤف پر ممبئی پولیس نے 21 ستمبر 2013 کو ممبئی کی ایک عدالت میں غیرقانونی سٹے بازی کا الزام لگایا، دھوکہ دہی اور فراڈ کا مرتکب قرار دیا تھا.

انہوں نے ان الزامات کی تردید کی۔ فروری 2016  میں انہیں  قصوروار ٹھہرایا گیا اور ان پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی اس کے بعد ان کا کیرئرختم ہوکر رہ گیا اور وہ کپڑے کے کاروبار پر انحصار کرنے لگے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ