’مہنگائی، بیروزگاری میں سہارا‘: سکردو میں اجتماعی شادیاں

گلگت بلتستان میں المیثم ٹرسٹ کے زیر اہتمام 25 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے لیے مخیر کاروباری حضرات نے مالی تعاون کیا تھا۔

تمام دلہا ٹوپی اور سفید کپڑوں میں شادی کی تقریب میں شریک ہوئے (فوٹو: ویڈیو سکرین گریب)

گلگت بلتستان کی ایک نجی تنظیم المیثم ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہر سال مستحق افراد کی شادی کی اجتماعی تقریب منعقد کی جاتی ہے، اس سال ایسی ہی ایک تقریب میں 25 جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے۔

اس اجتماعی تقریب کے اخراجات اٹھانے کے لیے مخیر کاروباری حضرات نے مالی تعاون کیا تھا۔

تقریب میں ٹرسٹ کی جانب سے شرکا کو کھانا کھلانے کے بعد تمام دلہنوں کو خوبصورت گفٹ پیکج بھی دیا گیا۔ دلہنوں نے سرخ، زرد اور نیلے عروسی لباس زیب تن کر رکھے تھے جبکہ دلہا ٹوپی اور سفید کپڑوں میں شادی کی تقریب میں شریک ہوئے۔

ایک دولہا کے والد نے اس موقعے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تقریب اچھی تو ہے لیکن اس میں نئے جوڑوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے مالی امداد دینا اور کوئی ہنر بھی سکھانا چاہیے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے المیثم ٹرسٹ کے سرپرست ماسٹر مسلم نے بتایا کہ ’یہ ٹرسٹ 2009 میں بنا تھا اور ہم اپنے طور پر فلاحی کام کرتے رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پھر لوگوں کی طرف سے تقاضا ہوا کہ اجتماعی شادی کروائی جائے اور اب تک 250 جوڑوں کی اجتماعی شادی کروا چکے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس سال انہیں اجتماعی شادی کے لیے 90 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد ایک کمیٹی بنا کر 25 مستحق ترین جوڑوں کا انتخاب کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماسٹر مسلم نے کہا کہ ’ہمارا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ مستحق جوڑا جس مسلک سے بھی ہو ہم امداد کرتے ہیں۔ دو سال پہلے ہم نے دو مسیحی جوڑوں کی بھی اجتماعی تقریب میں شادی کروائی تھی۔‘

مقامی سماجی کارکن سیدہ صائمہ اشرف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’المیثم ٹرسٹ ہر سال اجتماعی شادی کروا کے یہاں ایک اچھا کام کر رہا ہے۔‘

جوڑوں میں سے ایک کی خاتون رشتے دار آمنہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو ٹرسٹ سے رابطہ کرنے کے عمل کے حوالے سے بتایا: ’جب ہم نے سنا کہ المیثم والے اجتماعی شادیاں کرواتے ہیں تو میں نے ان کے پاس اپنی بہن اور بھائی کے شناختی کارڈ اور نکاح فارم جمع کروائے۔‘

آمنہ نے بتایا کہ ’ٹرسٹ والوں نے ہمیں شادی کا جوڑا دیا۔ انہوں نے ہماری بہت مدد کی ہے۔ آج ہم اپنی بہن کی شادی کر کے جائیں گے۔ ہم بہت خوش ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان