برطانیہ کے ایرانی آئل ٹینکر پکڑنے کے بعد جوہری معاہدہ خطرے میں

برطانوی رائل میرینز کی جانب سے جبرالٹر میں ایران کا آئل ٹینکر پکڑنے کے بعد نہ صرف جوہری معاہدے پر خطرات کے سائے منڈلانے لگے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

(AFP PHOTO / CROWN COPYRIGHT 2013)

برطانوی رائل میرینز کی جانب سے جبرالٹر میں ایران کا آئل ٹینکر پکڑنے کے بعد ناصرف جوہری معاہدے پر خطرات کے سائے منڈلانے لگے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

منگل کو ایران کے سخت گیر میڈیا کی جانب سے صدر حسن روحانی پر چار جولائی کو ایرانی تیل لے کر جانے والے گریس ون کے پکڑے جانے پر سخت تنقید کی گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایسا بظاہر امریکی ایما پر کیا گیا ہے۔

سخت گیر اخبار کیہان نے اپنے فرنٹ پیج پر یہ خبر جمائی کہ ’برطانیہ کو ایک باقاعدہ رد عمل جوابی رد عمل ہی ہو گا۔ سفارت کار کو بلا کر احتجاج کرنا یا ٹویٹ پوسٹ کرنا نہیں۔‘ اخبار کی جانب سے یہ طنر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر کیا گیا ہے۔ جواد ظریف نیوکلئیر ڈیل کے روح رواں سمجھے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹوئٹر پر کافی متحرک بھی رہتے ہیں۔

گریس ون کا پکڑے جانا گو کہ جوہری معاہدے سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا لیکن یہ ایران میں امریکی پابندیوں کے جواب میں نپا تلا ردعمل دینے کا کہنے والوں کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہ ٹینکر ایسے وقت میں پکڑا گیا ہے جب ایران اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے دو ماہ پر محیط مذاکرات کا آغاز کرنے جا رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرا خارجہ نے ایران کی جانب سے یورنیم کی افزودگی کو 3.67 سے بڑھا کر 4.5 فیصد تک لے جانے کے اعلان پر اظہار تشویش کیا تھا۔ ان کی جانب سے جوہری معاہدے کے مطابق اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

فرانسیسی صدر ایمیونول میکرون کے سفارتی مشیر ایمیونول بون کی تہران آمد متوقع ہے جہاں وہ ایرانی تیل کے ٹینکر پکڑے جانے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے ملیں گے۔


ایک اور سخت گیر ایرانی اخبار وطن امروز نے اپنی شہ سرخی میں تقاضا کیا: ’پانچ عالمی طاقتوں سے مذاکرات سے پہلے تیل کا ٹینکر چھوڑو۔‘ یہاں برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن جرمنی کی جانب اشارہ ہے۔

جبرالٹر کے حکام نے سوموار کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ٹینکر کو جبرالٹر کی حدود سے پکڑا گیا اور اس میں خام تیل لدا ہوا تھا۔ ایسا یورپی یونین کی جانب سے شام پر تیل کی برآمد پر عائد پابندیوں کے باعث کیا گیا ہے۔

اس جہاز کے پکڑے جانے کے بعد سمندری قوانین اور پابندیوں کے حوالےسے قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آرہی ہیں۔

یورپی کونسل میں ایران کے سفارتی تعلقات کی ماہر ایلی گیرانمیہ کہتی ہیں: ’برطانیہ کا یہ فیصلہ بہت غلط وقت پر سامنے آیا ہے اور اس کی وجہ سے یورپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کی جانے والی مفاہمت کی کوششوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے اگر کچھ ثابت ہو رہا ہے تو وہ ایرانی سخت گیر طبقے کا موقف ہے جس میں وہ یورپ اور ٹرمپ پر ’گڈ کاپ بیڈ کاپ ‘ کا الزام لگا رہے ہیں۔ اگر آپ تہران میں موجود ہیں تو آپ اس کو امریکی ایما پر کیے جانے والے اقدام کے طور پر ہی دیکھ سکتے ہیں۔‘

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ اس تیل کے جہاز کی منزل شام کی بندرگاہ بنیاس نہیں تھی۔ اس بندرگاہ پر تیل کی ایک ریفائنری بھی موجود ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق شام میں موجود یہ بندرگاہ اس صلاحیت کی حامل نہیں ہے۔ اس جہاز کی منزل کچھ اور تھی۔ لیکن ان کی جانب سے یہ واضع نہیں کیا گیا یہ جہاز کہاں جا رہا تھا۔ انہوں نے اس بارے میں صرف اتنا بتایا کہ پکڑے جانے کے وقت تیل کا ٹینکر بین الاقوامی سمندری حدود میں تھا اور برطانیہ اسے ضبط کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا تھا۔

کچھ ماہرین کی جانب سے یہ سوال بھی کیا جا رہا کہ کیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے علاوہ دوسری ممالک کو بھی پابندیوں پر عمل کروا سکتا ہے۔ جبرالٹر حکام کے مطابق انہیں اس ٹینکر کو کم سے کم 19 جولائی تک روکنے کا عدالتی حکم نامہ موصول ہوا ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ اور اس کا سمندر پار علاقہ جبرالٹر یورپی یونین کے رکن نہیں رہیں گے۔

ایران عالمی مارکیٹ میں تیل نہ فروخت کر سکنے پر نالاں ہے۔ امریکی کی جانب سے یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدنے والی کمپنی کو بھی سزا دے گا۔ تیل ایرانی معیشت کے لیے جسم میں خون جیسی اہمیت رکھتا ہے۔غیر جانبدار ماہرین کے مطابق خلیج میں تیل کے ٹینکروں پر ہونے والے حملون کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا اور ایسا امریکی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے برطانیہ کو وارننگ جاری کی گئی ہے کہ وہ گریس ون کو قبضے  میں لینےکے خلاف جوابی ردعمل دے گا۔

ایرانی آرمی چیف میجر جرنل محمد حسین باقری نے نے منگل کو خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ’برطانیہ کی جانب سے کی جانے والی اس حرکت کا جواب مناسب وقت اور جگہ پر دیا جائے گا۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ جتنا طول اختیار کرے گا اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔

گیرانمیہ کہتی ہیں :’ یہ صورتحال جتنی دیر جاری رہے گی تہران اس دوران ممکنہ ردعمل کے لیے سوچتا رہے گا۔ یہ سفارتی بھی ہو سکتا ہے، قانونی بھی اور جیسا کہ ایران نے واضع کیا ہے یہ عسکری بھی ہو سکتا ۔ کچھ ایسا بھی جو انتہائی اقدام سمجھا جائے یا سمندری حدود میں پابندی جیسا جوابی رد عمل۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا