پاکستان کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت

وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے آج جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان نے اسرائیلی افواج کی حفاظت میں آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے آج جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان نے اسرائیلی افواج کی حفاظت میں آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی ہے۔ 

’پاکستان اسرائیلی قابض افواج کی حفاظت میں اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’اس اشتعال انگیز اقدام سے قبلہ اول کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔‘

’ایسے واقعات بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی اصولوں اور طریقوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنا چاہیے۔‘

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت اور خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدام کرے۔ اسرائیلی اقدام خطے میں تشدد، کشیدگی اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نیوز ایجنسی کے مطابق 1700 سے زیادہ اسرائیلی آباد کار آج یعنی اتوار کی صبح اسرائیلی فوج کی نگرانی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں اتوار کو فلسطینیوں اور صحافیوں پر حملہ بھی کیا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی فوج کی جارحیت تیسرے دن میں داخل ہونے کے بعد اتوار کی صبح مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں متعدد اسرائیلی انتہا پسندوں نے، جن میں آباد کار بھی شامل ہیں، مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اتوار تک 29 افراد کی جان جا چکی ہے، جن میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔

فلسطینی گروپ ’اسلامی جہاد‘ نے بھی اسرائیلی حملوں کے جواب میں راکٹ داغے ہیں، جس سے خطرہ پیدا ہوگیا کہ مئی 2021 میں 11 دن تک جاری رہنے والی کشیدگی دوبارہ نہ شروع ہو جائے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلسطینی گروپ حماس کے زیر انتظام علاقے میں صحت کے حکام نے ہلاکتوں کی تازہ ترین تعداد کے بارے میں بتایا ہے کہ جمعے کو ’اسرائیلی جارحیت‘کے آغاز سے اب تک جان سے جانے والے افراد میں چھ بچے بھی شامل ہیں جب کہ 253 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے کہا کہ اس کے پاس ’ناقابل تردید‘ ثبوت ہیں کہ ’اسلامی جہاد کے عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے راکٹ سے ہفتے کو شمالی غزہ کے شہر جبالیہ میں متعدد بچوں کی اموات ہوئیں۔‘

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ جبالیہ میں کتنے بچے جان سے گئے تاہم  اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے علاقے کے ایک ہسپتال میں چھ لاشوں کو دیکھا، جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔

اسرائیل کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جہاد کے خلاف اس کے فضائی اور توپ خانے کی مدد سے کیے جانے والے حملے ایک ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

ادھر مصر کے صدر عبد الفتح السیسی نے کہا ہے کہ قاہرہ تشدد کے خاتمے کے لیے فریقین کے ساتھ ’24 گھنٹے‘ بات چیت میں مصروف ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد کے خلاف ’پیشگی آپریشن‘ شروع کرنا ضروری تھا کیوں کہ یہ گروپ غزہ کی سرحد پر کئی دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد فوری حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

اس دوران اسرائیل میں عام شہریوں نے راکٹ حملوں سے بچنے کے لیے بنائی گئی پناہ گاہوں میں پناہ لی۔ اے ایف پی کے نمائندوں نے ہفتے کی شام تل ابیب پر داغے گئے راکٹوں کی وارننگ کے سائرن سنے۔

غزہ کی مصر کے ساتھ سرحد پر رفاہ کے علاقے میں شہری دفاع کے یونٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچے عمارتوں کے ملبے تک دب گئے۔

دوسری جانب امدادی کارکنوں نے اس مقام پر کھدائی کی ہے جہاں ہفتے کو اسرائیل نے مبینہ طور پر اسلامی جہاد کے کمانڈر خالد منصور کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

منصور کے جان سے جانے کی کوئی مخصوص تصدیق نہیں کی گئی لیکن اسرائیل کے فوجی آپریشنز کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اودد بسیوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’غزہ میں اسلامی جہاد کے فوجی ونگ کی اعلیٰ قیادت کو غیر فعال بنا دیا گیا ہے۔‘

غزہ میں زندگی مشکل

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں معمولات زندگی متاثر ہیں جب کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے کے بعد ایندھن کی کمی کی وجہ سے واحد پاور سٹیشن بند ہو چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ اگلے چند گھنٹے ’اہم اور مشکل‘ ہوں گے۔ وزارت نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کی کمی کے نتیجے میں 72 گھنٹے کے اندر اہم خدمات معطل ہونے کا خطرہ ہے۔

غزہ شہر کی رہائشی دونیا اسماعیل نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ فلسطینی شہری رقم اور ادویات جیسی اشیا پر مشتمل ’ضروری بیگ‘ تیار کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’حالیہ کشیدگی خوف، پریشانی اور اس احساس کو واپس لے آئی ہے کہ ہم مکمل طور پر تنہا ہیں۔‘

دوسری جانب اسرائیل میں میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروس نے کہا ہےکہ دو ایسے افراد کو ہسپتال داخل کروایا گیا ہے، جو راکٹ پھٹنے کے نتیجے میں زخمی ہوئے جبکہ دیگر 13 افراد کو جان بچانے کے لیے بھاگنے کے دوران چوٹیں آئیں۔

فلسطینی گروپ اسلامی جہاد، حماس کے ساتھ منسلک ہے لیکن اکثر آزادانہ طور پر بھی کارروائی کرتا ہے۔ مغربی ملکوں نے دونوں تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔

2007 میں غزہ کا انتطام سنبھالنے کے بعد سے حماس اسرائیل کے ساتھ چار بار جنگ کر چکی ہے، جس میں گذشتہ برس مئی میں ہونے والی کشیدگی بھی شامل ہے۔ اسرائیل کی جانب سے اسلامک جہاد کے کمانڈر جعبری کے پیشرو ابو عطا کو ہلاک کرنے کے بعد 2019 میں کشیدگی بڑھی تھی، تاہم حماس نے اس لڑائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا