اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری: 10 افراد چل بسے، 75 زخمی

اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد فلسطینی گروپ نے بھی جوابی کارروائی میں راکٹ داغے۔ یہ سلسلہ رات بھر جاری رہا۔

پانچ اگست 2022 کی اس تصویر میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اسرائیلی جیٹ طیاروں کی جانب سے ہفتے کو صبح سویرے بھی غزہ میں  گولہ باری کی گئی، گذشتہ روز سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جان سے جاچکے ہیں جن میں ایک سینیئر کمانڈر اور ایک پانچ سالہ بچی بھی شامل تھی۔

اسرائیل کے فضائی حملے کے ردعمل میں فلسطینی گروپ اسلامی جہاد نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے۔ راکٹ فائر کرنے اور اسرائیلی حملوں کا سلسلہ رات بھر جاری رہا، جس سے خطرہ پیدا ہوگیا کہ مئی 2021 میں 11 دن تک جاری رہنے والی کشیدگی دوبارہ نہ شروع ہو جائے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے زیر انتظام علاقے میں صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 75 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچ نے بتایا کہ ’ہمارے اندازے کے مطابق غزہ میں کارروائی میں 15 کے قریب افراد مارے گئے۔‘

اسرائیل اور اسلامی جہاد دونوں نے جمعے کو ہونے والے حملے میں گروپ کے ایک اعلیٰ کمانڈر تیسیر الجعبری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ ابتدائی اسرائیلی بمباری ’اعلان جنگ‘ کے مترادف تھی، اس لیے اسرائیل کی طرف 100 سے زیادہ راکٹ چلائے گئے۔

غزہ کی سرحد پر کئی دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم یائر لاپید نے کہا کہ اسرائیل کو اسلامی جہاد گروپ کی طرف سے لاحق ’فوری خطرے کے پیش نظر دہشت گردی کے خلاف پہلے سے کارروائی‘ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے قومی ٹیلی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا: ’اسرائیل کو غزہ میں وسیع تر جنگ میں دلچسپی نہیں ہے لیکن وہ اس سے گریز بھی نہیں کرے گا۔‘

جنوبی اور وسطی اسرائیل میں کئی مقامات پر رات بھر فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے لیکن فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ سرحدی علاقوں میں حکام نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پناہ گاہوں کے قریب رہیں جو تجارتی دارالحکومت تل ابیب میں بھی بنائی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر غزہ سے کم از کم 70 راکٹ داغے جانے کی تصدیق کی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ 11 راکٹ غزہ میں ہی گرے جب کہ درجنوں راکٹوں کو فضائی دفاع کے نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا اور متعدد راکٹ کھلے مقامات پر گرے۔

اسرائیل اور غزہ کے مسلح گروپوں کے درمیان تاریخی ثالث کا کردار ادا کرنے والے مصر کے حکام نے غزہ میں اے ایف پی کو بتایا کہ وہ فریقین میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے اور رواں ہفتے کے اختتام پر اسلامی جہاد کے وفد کی میزبانی کر سکتا ہے۔

اس سے قبل جمعے کو ابتدائی اسرائیلی حملے کے بعد غزہ شہر کی ایک عمارت میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے، جہاں سے طبی عملے نے زخمی فلسطینی شہریوں کو عمارت سے باہر نکالا۔ اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والی پانچ سالہ بچی الا قدوم کو سر اور ماتھے پر زخم آئے تھے، ان کی لاش کو ان کے والد تدفین کے لیے لے کر گئے۔

غزہ شہر کے مکین عبداللہ العریشی نے اے ایف پی سے بات چیت میں بتایا کہ صورت حال ’بہت کشیدہ‘ ہے۔ ’ملک تباہ ہو گیا ہے۔ ہم بہت جنگیں کر چکے۔ ہماری نسل مستقبل سے محروم ہو گئی ہے۔‘

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل نئے جرائم کا مرتکب ہوا ہے، جن کی اسے قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘

اسرائیلی ٹینک سرحد پر موجود ہیں اور فوج نے جمعرات کو کہا تھا کہ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ادھر مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے امن سے متعلق نمائندے ٹور وینزلینڈ نے کہا کہ انہیں صورت حال پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’جنگ میں شدت بہت خطرناک ہے۔‘

حماس 2007 میں غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ چار جنگیں لڑ چکی ہے، جن میں گذشتہ مئی میں ہونے والی لڑائی بھی شامل ہے۔ اسلامی جہاد ایک الگ گروپ ہے جو حماس سے وابستہ ہے لیکن  آزادانہ طور پر کارروائیاں کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا