کے پی ایل: ’افتتاحی تقریب پھیکی تھی، بہتر تھا ٹی وی پر دیکھ لیتے‘

شائقین کا کہنا ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ کے دوسرے سیزن کی افتتاحی تقریب میں ’صرف تقریریں‘ ہی تھیں۔

13 اگست، 2022 کی شام جلال آباد کرکٹ سٹیڈیم کا منظر جہاں کے پی ایل لیگ کھیلی جا رہی ہے (جلال الدین مغل)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہفتے کو کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے دوسرے سیزن کا آغاز ہو گیا۔ 

دوسرے سیزن کی افتتاحی تقریب ہفتے کی شام چھ بجے جلال آباد کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہوئی. صدر بیرسٹر سلطان محمود نے دوسرے سیزن کا افتتاح کیا۔ تاہم افتتاحی تقریب میں گذشتہ سال جیسے انتظامات تھے اور نہ ہی جوش و خروش، البتہ سٹیڈیم کے اندر تماشائیوں کی  بڑی تعداد موجود تھی۔

 

لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے مقابلے 13 سے 26 اگست تک جاری رہیں گے اور فائنل میچ 26 اگست کو کھیلا جائے گا۔ گذشتہ سال چھ ٹیموں کی بجائے اس مرتبہ لیگ میں جموں جانباز کے نام سے ایک ٹیم کا اضافہ ہوا ہے جس کے کپتان شاہد آفریدی ہیں۔ 

دیگر چھ ٹیموں میں گذشتہ سال کی فاتح ٹیم راولاکوٹ ہاکس اور دوسرے نمبر پر رہنے والی مظفرآباد ٹائیگرز کے علاوہ باغ سٹالینز، کوٹلی لائنز، میرپور رائلز اور اوورسیز واریئرز شامل ہیں۔

پہلے میچ میں راولاکوٹ ہاکس فاتح

افتتاحی تقریب کے بعد ٹورنامنٹ کا پہلا میچ دفاعی چیمپیئن راولاکوٹ ہاکس اور جموں جانباز کے درمیان کھیلا گیا۔ جموں جانباز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 178 رنز بنائے۔ جواب میں راولاکوٹ ہاکس نے 5.1 اوورز میں 50 رنز بنائے تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور میچ روکنا پڑا۔  موسلا دھار بارش کے باعث میدان گیلا ہو گیا اورمیچ دوبارہ شروع نہ ہوسکا، جس کے بعد تیکنیکی بنیادوں پر راولاکوٹ ہاکس کو میچ کا فاتح قرار دے دیا گیا۔

اس سیزن میں شاہد آفریدی کے علاوہ عمر اکمل، محمد حفیظ، شعیب ملک، صہیب مقصود، عامر یامین، اسد شفیق، رومان رئیس، خرم منظورسمیت کئی قومی کھلاڑی شامل ہیں۔ 

تاہم منتظمین کے مطابق شائقین کسی عالمی سٹار کو دیکھنے سے قاصر رہیں گے اور اس کی وجہ سے سکیورٹی کلیئرنس کا نہ ملنا۔ البتہ ایک اچھی بات سمندر پار کشمیری کھلاڑی اس سال بھی مختلف ٹیموں کا حصہ ہونا ہے۔ 

کرکٹ اور سیاحت کا فروغ
افتتاحی تقریب کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شہزاد اختر چوہدری نے کہا کہ گذشتہ سال بھارت میں بھی سات فیصد لوگوں نے لیگ کو دیکھا۔
 
انہوں نے کہا کہ مظفرآباد کے بعد دوسرا ہدف میرپور  سٹیڈیم میں کرکٹ شروع کرنا ہے۔ ان کے بقول: ’ہم ثابت کرکے دکھائیں گے کشمیر کا ٹیلنٹ کسی سے کم نہیں ہے۔ ہماری دوسری ترجیح سیاحت کو فروغ دینا ہے۔‘

پھیکی افتتاحی تقریب

پہلے سیزن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے کئی مہمانوں کو شکوہ تھا کہ اس مرتبہ افتتاحی تقریب کا وہ رنگ ڈھنگ نہیں جو پچھلے سال تھا۔ مظفرآباد کے رہائشی شاہد راجا کہتے ہیں کہ’پچھلے سال اچھا خاصا جوش و خروش تھا۔ لوگ دور دور سے یہاں آئے مگر اس مرتبہ بہت کم لوگ آئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پچھلے سال آتش بازی ہوئی تھی۔ فنکاروں نے تقریب میں پرفارم کیا مگر اس سال تو تقریروں کے علاوہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس سے تو بہتر تھا گھر بیٹھ کر ٹی وی پر میچ دیکھ لیتے۔‘

مظفرآباد کی رہائشی ثمینہ بی بی اپنے دو بچوں کے ساتھ سٹیڈیم میں آئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ پچھلے سال بھی بچوں کے ساتھ افتتاحی تقریب دیکھنے آئی تھیں۔ 

ثمینہ کہتی ہیں کہ’اس سال بھی بچوں نے ضد کی کہ ہم نے جانا ہے۔ مگر یہاں آ کر تو کچھ دکھائی نہیں دیا۔ نہ پرفارمنس ہے، نہ آتش بازی ہے اور کوئی تفریح کا انتظام۔ بس صرف تقریریں ہی سنی ہیں۔ یہ پتہ ہوتا تو ٹی وی پر ہی میچ دیکھ لیتے۔‘

’لیگ بھی اپنی، گراؤنڈ بھی اپنا اور ٹیم بھی اپنی‘

کچھ عرصہ قبل دبئی سے پاکستان آنے والے راولاکوٹ کے رہائشی سعید اقبال راولاکوٹ ہاکس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ میچ تو ہم دبئی میں بھی دیکھ لیتے ہیں مگر یہاں کا مزا ہی اپنا ہے۔ یہاں لیگ بھی اپنی، گراؤنڈ بھی اپنا اور ٹیم بھی اپنی۔

سعید اقبال کے مطابق: ’میں اس مرتبہ خاص طور پر اسی سیزن میں آیا ہو تا کہ اپنی ٹیم کو سپورٹ کر سکوں۔ اب ٹیم کے ساتھ ہی دوسری ٹرافی بھی لے کر جاؤں گا۔

صحافی اشفاق شاہ البتہ اس لیگ کے انعقاد کے حوالے سے کافی پرجوش ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بھی جب لیگ کا انعقاد ہوا تو اس سے یہاں لوگوں کو نہ صرف تفریح کا موقع ملا بلکہ شہر میں سیاحتی اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اس ٹورنامنٹ کی بدولت خطے میں کرکٹ کو فروغ مل رہا ہے اور نئے کھلاڑی سامنےآ رہے ہیں۔ 

لیگ کے منتظمین کے مطابق اس مرتبہ محرم کے تقدس کے پیش نظر میوزک اور فنکاروں کی پرفارمنس کا اہتمام نہیں کیا گیا البتہ افتتاحی تقریب کے شروع کی بجائے آخر پر آتش بازی ہوئی۔ تاہم اس وقت تک زیادہ تر شائقین سٹیڈیم سے جا چکے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ