اونچی ذات کے ہندووں کا فلم’آرٹیکل 15‘پر پابندی کا مطالبہ

غیر معمولی طور پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی ہندی فلم ہے جو ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور مظالم کو بےنقاب کر رہی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم میں برہمنوں کو منفی روپ میں دکھایا گیا ہے  (فلم پوسٹر)

بھارت میں ذات پات کی تقسیم پر بننے والی سنسنی خیز  فلم پر ناقدین کی جانب سے پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اسی دوران یہ باکس آفس میں مسلسل کامیابی بھی حاصل کر رہی ہے۔

ابھینو سنہا کی فلم آرٹیکل 15 بھارتی ریاست اتر پردیش میں 2014 میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے جب دو دلت (سابقہ اچھوت) ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

حقیقی زندگی اور فلم میں بظاہر اس جرم کا مقصد دلتوں کو معاشرے میں ان کی بے وقعتی کا احساس دلانا تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی ان لڑکیوں کی جانب سے ان کی یومیہ مزدوری میں تین روپے اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس فلم کا آغاز دو لڑکیوں کے قتل اور تیسری لڑکی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے والے ایک شہری تعلیم یافتہ برہمن پولیس افسرایان رانجن (ایوشمان کھرانا) کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے ہوتا ہے۔ اسی دوران ذات پات میں بٹے اس گاؤں کی کہانی کھل کر سامنے آتی ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ جرم کیوں ہوا۔

28 جون کو اپنی ریلیز کے بعد یہ فلم اب تک 500 ملین بھارتی روپوں کا بزنس کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلمی ناقدین نے اس کی تعریف بھی کی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے لکشنا پلٹ کے مطابق:’ یہ فلم آپ کو ملک میں موجود ذات پر مبنی تقسیم جیسی ناگوار اور تلخ سچائی دکھاتی ہے۔‘

غیر معمولی طور پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی ہندی فلم ہے جو ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور مظالم کو بےنقاب کر رہی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارت میں ہر روز کم سے کم چار دلت خواتین ریپ کا نشانہ بن رہی ہیں۔

حال ہی میں فلم سازوں کی جانب سے ذات برادری کی تقسیم پر توجہ دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ 2016 میں مراٹھی فلم سیرات بھی اسی موضوع پر بنائی گئی تھی۔ 2018 میں بننے والے اس فلم کے ہندی ری میک دھڑک نے ذات پات پر مبنی تقسیم اور رکاوٹوں کو کافی واضح انداز میں دکھایا تھا۔

بالی وڈ کی جانب سے اس تقسیم کو منظر عام پر لانے سے کچھ لوگ خوش نہیں ہیں۔ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے کچھ ہندو قوم پرست گروہوں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پتہ ہوتا کہ اس فلم میں ولن کے کردار کو برہمن دکھایا گیا ہے تو وہ اپنی ریاست میں اس فلم کی عکس بندی ہی نہ ہونے دیتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلم کی ریلیز کے بعد اونچی ذات کے ہندووں کی ایک تنظیم برہمن سماج آف انڈیا (بی ایس او آئی) نے فلم کا لائسنس منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم میں برہمنوں کو منفی روپ میں دکھایا گیا ہے اور 2014 کے حقیقی واقعہ میں ملوث ملزم درمیانی ذات سے تعلق رکھتے تھے۔

درخواست میں فلم کے نام پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 15مذہب، قوم، ذات، صنف یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی تعصب سے روکتا ہے۔ درخواست دائر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’برہمن مخالف‘ یہ فلم آئین کے آرٹیکل 15 کو عوامی نظر میں نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی۔

اس ہفتے سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ درخواست دائر کرنے والوں کو فلم کے لائسنس جاری کرنے والے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن سے رجوع کرنے کا کہا گیا ہے۔

نیشنل دلت موومنٹ فار جسٹس (این ڈی ایم جے) کی پروگرام ریسرچ کوارڈینیٹر ڈاکٹر جوڈتھ این نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اتر پردیش میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینماؤں کو فلم کی نمائش روکنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر این کہتی ہیں:’ یہ فلم معاشرتی ارتقا کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ لوگوں کی جانب سے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔   ایک رجحان بنتا جا رہا ہے کہ جیسے ہی آپ انسانی حقوق، مظالم یا جبر کی بات کرتے ہیں تو آپ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔ اگر آپ ایسی فلم نہیں دیکھنا چاہتے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ لوگ فلم میں دکھائی جانے والی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ذات پات کی تقسیم موجود ہے۔‘

ڈاکٹر این کے مطابق فلم میں ذات برادری کی تقسیم کو واضح اندازمیں دکھانا معاشرے میں اس تقسیم کے بارے میں بات کرنے کی وجہ بنے گا۔ ماضی کے برعکس فلم میں مضبوط دلت کرداروں کو دکھایا گیا ہے۔ بالی وڈ میں دلتوں کی نمائندگی اتنی کم ہے کہ دلت کا کردار ادا کرنے کے لیے غیر دلت افراد کی خدمات لی جاتی ہیں۔

ان کی جانب سے فلم پر کی جانے والی تنقید کو دہراتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ مسائل کے شکار دلتوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک برہمن کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

ڈاکٹر این کہتی ہیں:’ فلم ایک موقعے پر ڈرامائی موڑ لیتی ہے جب پولیس افسر (ایوشمان کھرانا) پوری فلم میں واحد کردار رہ جاتا ہے جو ذات پات کی اس تقسیم سے واقف نہیں۔ لیکن فلم کے آخر میں انہیں ہی ایک آزادی دلانے والے کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔ یہ دکھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ دلت برادری اپنے لیے خود کھڑی نہیں ہو سکتی۔‘

فلم کے ڈائریکٹر سنہا کی جانب سے اپنے انٹرویوز میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ فلم میں ’برہمن ہی دلتوں کو بچا سکتے ہیں‘ کا تاثر دینے کو کوشش کی گئی ہے۔

فلم کے ایک سین میں ایوشمان کھرانا گاؤں کے پولیس سٹیشن میں کھڑے ہیں اور اپنی ذات اور معاشرے میں اس کا مقام سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کا تعلق شہری اشرافیہ سے ہے وہ اس گاؤں میں باہر سے آئے ہیں اور انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا اس بارے میں ردعمل بالکل ویسا ہی تھا جیسا کسی انسان کو زندگی میں پہلی بار بھارت کے ذات برادری کی تقسیم سمجھانے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ وہ چلا کر کہتے ہیں: ’ یہاں آخر چل کیا رہا ہے؟‘

سنہا نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اس فلم کا مقصد مختلف برادریوں کو ایک دوسرے کے مقابل لانا نہیں بلکہ نوجوان نسل میں اس بارے میں شعور پیدا کرنا ہے ورنہ وہ ایسے ہی لاعلمی میں رہتے رہیں گے۔

ان کے مطابق فلم میں پیغام دیا گیا ہے کہ ’ وہ نوجوان جو سوچتے ہیں کہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے مظالم ماضی کا قصہ ہیں، میں چاہتا ہوں کہ کیمرہ آپ کے کاندھے پر ہو اور وہ ان سب کو مخاطب کرے جو اگلے دس سال میں نئے انڈیا کی تعمیر کریں گے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم