پاکستان نے کمرشل بینکوں سے ریلیف نہیں مانگا: وزیر خزانہ

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان سیلاب کی وجہ سے پیرس کلب کے کریڈٹرز سے قرض میں ریلیف چاہتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قرضوں میں ریلیف کے حوالے سے بات ایک ٹویٹ میں کہی ہے (اے ایف  پی/ فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جمعے کو واضح کیا ہے کہ حکومت کمرشل بینکوں یا یورو بانڈ کریڈٹرز سے کوئی ریلیف نہیں مانگ رہی۔

مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر ہم پیرس کلب کے کریڈٹرز سے قرض میں ریلیف چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم کمرشل بینکوں یا یورو بانڈ کریڈٹرز سے نہ تو کوئی ریلیف مانگ رہے ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی ضرورت ہے۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ کی ایک ترقیاتی ایجنسی زرمبادلہ کی کمی کے شکار ملک پر اپنے قرضوں کی از سر نو تشکیل کے لیے زور دے رہی ہے جس کے بعد جمعے کو پاکستان کے بانڈز کی قیمت آدھی رہ گئی۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کے امیر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان کو قرضوں میں ریلیف دیں کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے بدترین سیلاب سے ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق نیویارک میں موجود شہباز شریف نے جمعے کو امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کوانٹرویومیں کہا کہ ’اس وقت مجھے اپنے ملک میں ہونا چاہیے تھا کیونکہ پاکستان میں سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں انہیں ریلیف کی ضرورت ہے لیکن میں دنیا کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے آیا ہوں۔

’پاکستان کوموسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بدترین سیلاب کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والے عوامل میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت عالمی رہنماؤں کو اس صورت حال سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ پاکستان تنہا اس صورت حال سے نہیں نمٹ سکتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ’ہمیں لوگوں کی بحالی اورتعمیر نو کےلیے مدد کی ضرورت ہے، متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کرنا ہے اور زراعت اورصنعت کو بحال کرنا ہے۔‘

وزیراعظم نے دنیا کے خوش حال ملکوں، آئی ایم ایف اورعالمی بینک سے اپیل کی کہ پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دیا جائے کیونکہ آئندہ دو ماہ کے دوران پاکستان پر قرضوں کی ادائیگی کی بھاری ذمہ داری ہے، حال ہی میں آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر معاہدہ ہوا ہے ہر ماہ بجلی اور پٹرولیم پر ٹیکس لگانا پڑ رہا ہے، پاکستان کےلیے یہ بہت مشکل صورت حال ہے بالخصوص ایسے میں جبکہ سیلاب متاثرین کی بحالی اورتعمیرنو کا چیلنج درپیش ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں غیرمتوقع طور پر بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں، سردیوں کے لیے گیس کی قلت ہے، ترقی یافتہ اقوام اور ممالک کوہم سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے موجودہ صورت حال پر ہماری مدد کرنا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ روس کے صدر نے ملاقات میں گیس کی فراہمی کے حوالےسے جائزہ لینے کا یقین دلایا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوئی۔

’پاکستان روس سے گندم کی خریداری کا خواہاں ہے کیونکہ سیلاب کے باعث زمین گندم کی بوائی کے لیے تیار نہیں ہوسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے ہماری مدد کرنے میں تاخیرکی تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت