سرکاری حصص دوسرے ملکوں کو دینے کے لیے قانون سازی ہو گی: مفتاح

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے لیے اپنے حصص کسی دوسری حکومت کو فروخت کرنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں لیکن امید ہے اس حوالے سے قانون سازی یا آرڈیننس لے آئیں گے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل 26 جولائی، 2022 کو مقامی تھنک ٹینک تبادلیب کو انٹرویو دیتے ہوئے (تصویر تبادلیب)

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ زرمبادلہ کی کمی کے شکار پاکستان کو بین الاقوامی قرضوں کی واپسی کے حوالے سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ نہیں کیوں کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ملک میں ڈالرز کی ترسیل میں اضافہ ہو گا۔

مفتاح اسماعیل کا یہ بیان پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 1.17 ارب ڈالرز کی قسط کی ترسیل کے معاہدے پر پہنچنے کے ایک ہفتے سے زائد عرصے کے بعد سامنے آیا۔

عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیے مشلات کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر محض 9.32 ارب ڈالرز رہ گئے ہیں جو کہ 45 دنوں کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے بمشکل کافی ہیں جبکہ مقامی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح تک گر چکی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے منگل کو مقامی تھنک ٹینک ’تبادلیب‘ کے ساتھ گفتگو میں کہا: ’مجھے یقین ہے کہ ہم دیوالیہ نہیں ہو رہے۔ گورنر سٹیٹ بینک اور  وزیر اعظم بھی جانتے ہیں کہ ہم ڈیفالٹ نہیں کریں گے۔‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کی وزارت ادائیگی کے توازن کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے دو تین ماہ کے لیے اعتدال پسندی سے درآمدات کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’دو ہفتوں میں آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں ڈالرز کی آمد باہر سے زیادہ ہو گی۔ اور ایک بار ایسا ہو جائے گا تو روپے پر دباؤ ختم ہو جائے گا۔‘

پاکستانی کرنسی منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 232.93 روپے کی کم ترین سطح پر گر گئی تھی کیونکہ درآمدی ادائیگیوں کی مانگ سے روپے پر دباؤ زیادہ ہے۔

کسی ملک کا نام لیے بغیر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انہوں نے ایک دوست ملک سے زرمبادلہ بڑھانے میں مدد کی درخواست کی تھی لیکن وہ مسترد کر دی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’میں نے فی الحال ایک دوست سے ڈپازٹ کے لیے کہا لیکن انہوں نےجواب دیا کہ ہم اب ڈپازٹ نہیں کرتے کیونکہ آپ لوگ کبھی ڈپازٹ واپس نہیں کرتے۔‘

تاہم دوست ملک نے کہا کہ ’ہم آپ کے سٹاک مارکیٹ میں حکومت کی ملکیت والے حصص میں سرمایہ کاری کریں گے۔‘

لیکن وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کے لیے اپنے حصص کسی دوسری حکومت کو فروخت کرنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب امید ہے کہ ہم اس حوالے سے قانون سازی یا آرڈیننس لے کر آئیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک کے مرکزی بینک میں جلد ہی ایک نیا گورنر لایا جا رہا ہے کیونکہ تقرری کا عمل منگل کو شروع ہوا تھا اور توقع ہے کہ بدھ تک اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔

ڈاکٹر رضا باقر کی چار مئی کو تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید قائم مقام گورنر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست