انڈیا: غیر شادی شدہ خواتین کو بھی 24 ہفتوں میں اسقاط حمل کا حق

انڈیا میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں تمام خواتین کے لیے حمل کے 24 ہفتوں تک اسقاط حمل بنیادی حق قرار دے دیا ہے، چاہے خاتون شادی شدہ ہوں یا نہیں، جس پر سماجی کارکن خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

دہلی میں 22 جنوری 2020 کو لی گئی تصویر میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے باہر صحافی جمع۔ عدالت عظمیٰ نے ملک کی تمام خواتین کو اسقاط حمل کا حق دے دیا ہے (روئٹرز)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے فیصلہ دیا ہے کہ تمام خواتین، چاہے ان کی ازدواجی حیثیت جو بھی ہو، کو حمل کے 24 ہفتوں تک اسقاط حمل کروانے کا بنیادی حق حاصل ہے، جس کے بعد سماجی کارکنان نے اسے سراہا ہے۔

بھارت کے اسقاط حمل کے قانون کے تحت اس سے قبل شادی شدہ خواتین اپنے حمل میں 24 ہفتوں تک اسقاط حمل کروا سکتی تھیں لیکن غیر شادی شدہ خواتین کو 20 ہفتوں تک محدود رکھا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عدالت نے جمعرات کو جاری ہونے والے اپنے فیصلے میں ملک کی تمام خواتین کے لیے مدت 24 ہفتے تک مقرر کر دی۔

میڈیکل ٹرمینیشن پریگنینسی ایکٹ کے تحت 1971 سے انڈیا میں اسقاط حمل قانونی ہے۔ 2021 میں اس قانون میں ترمیم کی گئی تاکہ مخصوص خواتین بشمول شادی کے بعد طلاق یافتہ یا بیوہ ہونے والی خواتین، نابالغوں، ریپ کا شکار یا ذہنی طور پر بیمار خواتین کو 24 ہفتوں تک اسقاط حمل کرانے کی اجازت دی جا سکے۔

 لیکن ان تبدیلیوں میں غیر شادی شدہ خواتین کو شامل نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ قانون نے ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر فرق کیوں کیا۔

اے ایف پی کے مطابق عدالت کے فیصلے میں کہا گیا: ’ایم ٹی پی ایکٹ ہر حاملہ عورت کی اس تولیدی خودمختاری کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے حمل کو ختم کرنے کے لیے طبی طریقہ کار کا انتخاب کرے۔‘

اس میں مزید کہا گیا: ’محفوظ اور قانونی اسقاط حمل‘ کے لیے غیر شادی شدہ خواتین کے حقوق کا کوئی بھی اخراج ’غیر آئینی‘ ہوگا۔

جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ نے کہا: ’شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین کے درمیان مصنوعی فرق کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ خواتین کو اپنے حقوق کے آزادانہ استعمال کے لیے خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔‘

عدالت نے کہا: ’غیر شادی شدہ خواتین کو اسقاط حمل تک رسائی نہ دینا  انڈیا کے آئین کے تحت قانون کے مطابق برابری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ کی وکیل کرونا نندی کا کہنا تھا: ’بین الاقوامی سطح پر فیصلے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے کیونکہ یہ ایک خاتون کے اپنے جسم پر حق اور تولیدی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، اس سے قطع نظر کہ حکومتیں اور مقننہ جو بھی کہیں۔‘

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جولائی میں ایک ذیلی عدالت نے رضامندی سے تعلقات میں ایک غیر شادی شدہ خاتون کو اسقاط حمل سے روک دیا تھا کیونکہ اس کے حمل میں 20 ہفتے گزر چکے تھے۔

 اسی مہینے کے آخر میں، سپریم کورٹ نے انہیں حمل کے 24 ویں ہفتے تک اسقاط حمل کرانے کی اجازت دے دی، اور جمعرات کو یہ حق تمام خواتین کو دے دیا گیا۔

آئی پاس ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے 2017 کے مطالعے میں کہا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں ہر سال64 لاکھ اسقاط حمل کیے جاتے ہیں اور نصف سے زیادہ غیر محفوظ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اے پی کے مطابق اس فیصلے پر تولیدی حقوق کے کارکنوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ عدالت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ قانون امتیازی سلوک نہ کرے اور محفوظ اور قانونی اسقاط حمل کا حق غیرشادی شدہ خواتین تک بھی پہنچے۔

تولیدی حقوق پر کام کرنے والی نیشنل لا سکول آف انڈیا میں قانون کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اپرنا چندرا کا کہنا ہے کہ ’شادی شدہ عورتوں کو جتنے بھی حقوق حاصل ہیں،  اب وہ سب غیر شادی شدہ خواتین کو بھی حاصل ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اپنے فیصلے میں عدالت نے ’غیر شادی شدہ خواتین کے حاملہ ہونے سے منسلک بدنامی کو دور کردیا ہے۔‘

سماجی کارن برندا اڈیگے نے اسے عدالت کے جاری کردہ ’سب سے زیادہ ترقی پسند فیصلوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ’یہ فیصلہ خواتین کے حقوق اور انتخاب کا مکمل احترام کرتا ہے۔‘

 

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی پرتگیا مہم نے کہا کہ یہ فیصلہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔

تاہم ٹوئٹر پر کچھ صارفین اس پر ناخوش بھی نظر آئے۔

ایجنڈا بسٹر کے نام سے اکاؤنٹ چلانے والے ایک صارف نے لکھا کہ اس سے ہندو اقدار متاثر ہو رہے ہیں۔

کرشنا سوامی بھروا نے بھی اس پر سوال اٹھایا۔  

 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین