’جج زیبا صاحبہ کو بتانا عمران خان آئے تھے‘

جج زیبا چوہدری کے ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’آپ نے جج زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے، زیبا چوہدری سے معذرت کرنے آیا تھا۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان کی 12 ستمبر 2022 کو اسلام آباد کی دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے لیے آتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے معذرت کرتے ہوئے عدالتی عملے کو اپنا پیغام پہنچانے کا بھی کہا۔

عمران خان اسلام آباد کی سیشن عدالت میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں پیش ہوئے تھے جس میں ان کی ضمانت قبول کر لی گئی۔

عمران خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز میں جج نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا عمران خان پر الزام صرف ایما کا ہے؟‘

 جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’ایما صرف لفظ کی حد تک ہے۔‘

 عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’پراسیکیوشن نے ایما کی حد تک ثبوت پیش کرنے ہیں، کیا ایما کی حد تک آپ کے پاس ثبوت ہیں؟ ایما کی بنیاد پر دفعہ 144 نافذ کرنے والے آفیسر کا بیان لکھا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ’ان کا بیان نہیں لکھا گیا‘ جبکہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’ساڑھے سات کلومیٹر میں 21ویں ایف آئی آر ہے۔ اب اگر تفتیشی اس کا بیان لکھ بھی لیں تو قابل قبول نہیں۔‘

 جس کے بعد عدالت کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

بعد ازاں عمران خان اپنے وکیل کے ہمراہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کی عدالت پہنچے۔ ایڈیشنل جج کے رخصت پر ہونےکی وجہ سے وہ وہاں موجود نہیں تھیں۔

ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’آپ نے جج زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے، زیبا چوہدری سے معذرت کرنے آیا تھا۔ میری کسی بات سے ان کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔ آپ گواہ رہنا کہ ان کی عدالت میں معذرت کی ہے۔‘

جس پر عدالتی عملے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کا پیغام پہنچا دیں گے۔‘

واضح رہے 20 اگست 2022 کو اسلام آباد میں ریلی کے دوران عمران خان کی جانب سے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو دھمکی دینے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان