خاتون جج دھمکی کیس: عمران کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران کہا کہ محض تقاریر پر ایسے پرچے درج ہونے لگے تو دہشت گردی کے مقدمات کا فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان 31 اگست 2022 کو ان کے خلاف کرپشن کے مقدمے کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے بعد واپس جا رہے ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کے لیے دھمکی آمیز بیان کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمے میں شامل جرائم کی دفعات میں سے کوئی ایک دفعہ بھی نہیں بنتی۔

انہوں نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمہ سے دہشت گردی کی دفعہ ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ مقدمہ دیگر دفعات کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالت سے منتقل کیا جائے۔

اخراج مقدمہ کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت مقدمے کی کاروائی جاری رہے گی۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے 20 اگست کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں جلسے سے خطاب کے دوران خاتون جج زیبا چوہدری کو مبینہ دھمکی دی تھی۔

خاتون جج کو مبینہ دھمکی دینے کے معاملے پر 21 اگست کو سول مجسٹریٹ کی مدعیت میں اسلام آباد کے مارگلہ تھانے میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عمران خان کی اس انداز میں کی گئی تقریر سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا، لہذا ملک میں انتشار پھیلانے کے جرم میں ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

عمران خان نے نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔

پیر کو سماعت کے آغاز میں پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جے آئی ٹی نے عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درست قرار دیا ہے۔

‘جے آئی ٹی کی یہی رائے ہے کہ اس کیس میں دہشت گردی کی دفعہ بنتی ہے۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے جے آئی ٹی کو تفتیش کے بعد اپنی رائے سے آگاہ کرنے کی ہدائت کی تھی۔’

عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے مختلف عدالتی فیصلوں کی نظیریں پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی دفعات کے لیے کچھ بنیادی عناصر ضروری ہوتے ہیں، جو عمران خان کے خلاف درج مقدمے میں موجود نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے دریافت کیا کہ عمران خان کی تقریر کا متنازعہ حصہ کون سا ہے؟

سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے عمران خان کی تقریر کے متنازعہ جملے پڑھ کر سنائے تو چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہی بات ہے صرف؟

عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے ایکشن لینے کی بات کی جو لیگل ایکشن کی بات تھی۔

‘آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی پر بھی کیس کرنے کی بات کی گئی، درخواست متاثرہ افراد کی طرف سے آنی چاہیئے تھی کہ وہ اس بیان سے خوفزدہ ہوئے۔ یہ کمپیوٹرمیں ٹائپ شدہ درخواست ہے، جو تحمل سے لکھی گئی جس کے پیچھے کوئی ماسٹر مائنڈ ہے۔’

سلمان صفدر نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا مقدمہ خوف اور دہشت کی فضا پیدا کرنے پر ہی بن سکتا ہے، اور محض ایسی فضا پیدا ہونے کے امکان کو دہشت گردی کے مقدمے کی وجہ نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان پر بنایا گیا مقدمہ عالمی سطح پر کیا تاثر چھوڑے گا؟

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے ایک ریلی میں بات کی جس پر مقدمہ بنا، اور تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ انسداد دہشت گردی قانون کو مذاق بنانے جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے چالان داخل کرانے سے روکا تھا مگر پولیس نے چالان تیار کر رکھا ہے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ سے سیکشن 186 نکال دیا گیا ہے۔

اس پر عمران خان کے وکیل عمران صفدر نے عدالت سے کہا کہ جو سیکشن ہٹانا چاہئے تھا وہ ختم نہیں کا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے عمران خان کی تقریر کے متنازعہ جملے دوبارہ پڑھ کر عدالت کو سنائے تو چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ پوری تقریر میں صرف یہی متنازعہ بات ہے یا کچھ اور بھی ہے؟

انہوں نے کہا: ‘اگر آپ تقاریر پر ایسے پرچے درج کرائیں گے تو ایک فلڈ گیٹ کھل جائے گا، دہشت گردی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے۔’

چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان پولیس کے سامنے پیش ہو کر تفتیش میں شامل ہوئے ہیں، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے کوئی احسان تو نہیں کیا، وہ اس عدالت کی ہدایت پر شامل تفتیش ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ عمران خان کی تقریر میں کسی کو نقصان پہنچانے کی کوئی بات کی گئی؟

پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے تقریر میں اشتعال دلایا، وہ سابق وزیراعظم اور شائد مستقبل کے بھی وزیراعظم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے فالورز میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں شامل ہیں، اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کوئی لیگل ایکشن لیں گے بلکہ کہا کہ ہم ایکشن لیں گے۔

‘اگر ایس ایچ او کسی کو کہے کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا تو اس کے سنجیدہ اثرات اور نتائج ہو سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح سابق وزیر اعظم کے اس اشتعال انگیز بیان کے بھی اثرات ہیں۔’

پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ انہی حقائق پر تفتیشی نے آئی جی سے دو بار کہا کہ مجھے کیس سے الگ کیا جائے۔ عمران خان نے بیان سے یقینا افسران کو خطرے میں ڈالا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دہشت گردی کی دفعات کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے، اور فیصل رضا عابدی پر بھی دو دہشت گردی کے مقدمے بنے، جبکہ وہ ان دونوں مقدمات میں بری ہو گئے۔

چیف جسٹس اسلام ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ دہشت گردی کے قانون کی تشریح کر چکی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے فیصلہ مخفوظ کر لیا جو آدھے گھنٹے بعد سنایا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان