لال بیگ مارنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی

سکاٹ لینڈ کی ہیریئٹ واٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے لیزر اور مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے لال بیگوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک نظام تیار کیا ہے۔

گھروں میں پانے جانے والے لال بیگوں کی آبادی لاکھوں میں ہوسکتی ہے (اے ایف پی)

سکاٹ لینڈ کی ہیریئٹ واٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے لیزر اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے لال بیگوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک نظام تیار کیا ہے۔

ایلدار رخمتولین کا ڈیزائن کردہ یہ نظام سستے اور ناکارہ آلات استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے جو 1.2 میٹر کی درستگی کے اندر اندر لال بیگ کا پتہ لگاتا ہے۔

لال بیگ ایک ایسا کیڑا ہے جو پوری دنیا اور برطانیہ میں پایا جاتا ہے۔

وہ ڈھیٹ ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ برسوں سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ جوہری بم سے بھی بچ سکتے ہیں۔

اس نظام کو گذشتہ سال کیڑوں پر آزمایا گیا تھا اور اب اس کے نتائج ’اورینٹل انسیکٹس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔

گھروں میں پانے جانے والے لال بیگوں کی آبادی لاکھوں میں ہوسکتی ہے۔

وہ کھانا اور آلات کو خراب کرسکتے ہیں جبکہ صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہیں- وہ الرجک ردعمل اور دمے کی علامات کو متحرک کرتے ہیں۔

لال بیگ کے لیے کیڑوں پر قابو پانے کے موجودہ طریقے غیر موثر رہے ہیں لیکن ایلدار رخمتولین کا نظام مشینی نقطہ نظر پر انحصار کرتا ہے۔

دو کیمرے کمپیوٹر پر سگنل بھیجتے ہیں جس سے لال بیگ کے مقام کا پتہ چلتا ہے۔

جب محققین نے لیزر کو کم  طاقت کے ساتھ استعمال کیا تو اس سے لال بیگ نے اپنا طرز عمل  تبدیل کیا: لیزر سے مستقل حرارت کا اخراج ان کی پوزیشن یا سمت کو تبدیل کرنے کا سبب بنتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چھپنے والی اندھیری جگہوں پر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔

لیزر پر حرارت کو تبدیل کرنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ 1.2 میٹر تک اسے بے اثر کرسکتے ہیں یا مار سکتے ہیں۔

رخماتولین کے مطابق: ’یہ لیزر سسٹم منتخب کردہ اور ماحول دوست کیڑوں کے کنٹرول کا طریقہ ہے۔ یہ انتہائی امید افزا ہے۔

’یہ ایک ٹیون ایبل سسٹم ہے لہٰذا یہ مچھروں سے بچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، بھڑ کو شہد کی مکھیوں یا کیڑوں کو قیمتی فصلوں یا گداموں سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ نظام گھریلو استعمال کے لیے موزوں نہیں۔ استعمال ہونے والی لیزر اندھے پن یا  آنکھوں کے لیے سنگین نقصان کا سبب بنے گی۔

’مجھے ان لوگوں کے لیے افسوس ہے جن کے گھر میں لال بیگ ہیں، لیکن یہ حل ان کے لیے نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی