گیلی بال سے اچھی وائڈ یارکر پاکستانی بولر ہی کرسکتے ہیں: بابر اعظم

 پاکستانی کپتان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے کھلاڑیوں کو پیغام دیں گے کہ وہ بڑے ایونٹ میں اپنا سو فیصد دیں، نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں نتیجے کے لیے کوشش نظر آنی چاہیے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور انگلینڈ کے کپتان جوز بٹلر 19 ستمبر 2022 کو ٹی ٹوئنٹی سیریز کی ٹرافی کے ہمراہ کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں موجود ہیں (اے ایف پی فائل)

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ’ہر چیز کو بہتر ہونے میں وقت لگتا ہے، ہماری بولنگ پہلے بھی بہتر ہو رہی تھی اب مزید ہو رہی ہے، انشااللہ بیٹنگ میں بھی بہتری آئے گی۔‘

ان کا یہ بیان منگل کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایک تازہ پوڈکاسٹ کا حصہ ہے۔

اس پوڈکاسٹ میں 17سال بعد پاکستان میں ہونے والی پاکستان برطانیہ کی کرکٹ سیریز کے حوالے سے کپتان بابر اعظم اور انگلینڈ کے کپتان جوز بٹلر کے بیانات شامل ہیں۔

پوڈکاسٹ میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے حوالے سے دیے گئے بیان میں پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز بہت اچھی رہی، انگلینڈ  ٹیم بھی ٹی ٹوئنٹی میچز میں بہت ٹف ٹائم دیتی ہے، میچز بہت ٹف ہوئے، میچ آخری اوورز تک گیا اور سخت مقابلہ ہوا اور ان ہی مشکل میچز کی وجہ سے ورلڈ کپ کی بھرپور تیار ہوئی ہے۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ’آخری میچ میں عامر جمال نے جو بولنگ کی ہے وہ بہت اچھی کی ہے۔ آخری اوور میں اتنا دباؤ تھا، ڈو اینڈ ڈائی میچ تھا، اس کے پلان پر چلے اور اس نے وائڈ یارکر کا کہا اور کیا بھی اور اتنی گیلی بال کے ساتھ بہت اچھی وائڈ یارکر کی جو کہ صرف پاکستانی بولر ہی کر سکتے ہیں۔‘

انہوں  نے کہا کہ سیریز میں مختلف کومبی نیشن آزمائے تاکہ پلیئنگ الیون اور پنچ اسٹرینتھ کا اندازہ لگایا جاسکے، دن بدن ٹیم میں بہتری آتی جارہی ہے۔

 پاکستانی کپتان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے کھلاڑیوں کو پیغام دیں گے کہ وہ بڑے ایونٹ میں اپنا سو فیصد دیں، نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں نتیجے کے لیے کوشش نظر آنی چاہیے۔

معین علی اور جوز بٹلر کراچی کے کھانوں کے معترف

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان جوز بٹلر نے اسی پوڈ کاسٹ میں کہا کہ پہلے سیریز تین تین سے برابر ہوئی اور فائنل میچ میں کامیابی ملی، سیریز کے میچز بہت اچھے رہے۔

انہوں نے پاکستان میں کھیلے جانے والے میچز میں اچھی سپورٹ ملنے کا ذکر کیا اور اس بات پر افسوس کیا کہ وہ زیادہ میچز پاکستانی فینز کے سامنے نہیں کھیل سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انگلش کپتان کا  کہنا تھا کہ ورلڈکپ سے پہلے بہترین ٹیم سے سیریز کھیلی، ہماری میزبانی بہت شاندار تھی جب کہ پاکستان ٹیم بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق انگلینڈ کی ٹیم کئی کھلاڑیوں کی انجری سے نبرد آزما رہی اور ورلڈ کپ کی تیاری بھی کرتی رہی جو کہ ایک چیلینج ہے مگر نئے کھلاڑیوں کی پود بھی تیار ہو رہی ہے۔

جوز بٹلر نے بھی کراچی کے کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مختلف ریستوران اور ہوٹلز میں کھانے کا اتفاق ہوا جو بہت ذائقے دار تھے۔ انہوں نے پاکستان میں مہمان نوازی کی بھی تعریف کی۔

اس سے قبل معین علی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ لاہور میں کھانوں کے ذائقے سے مایوس ہوئے البتہ کراچی میں کھانوں کے ذائقوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ لذیذ تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ