افغانستان: قراقلی ٹوپیاں بنانے کا کاروبار بھی مندی کا شکار

کاروبار سے وابستہ حبیب اللہ کہتے ہیں کہ پہلے قرہ قلی کی ٹوپی افغانستان سے کئی ملکوں کو بھیجی جاتی تھیں لیکن اب صرف روس کو ہی برآمد کی جاتی ہیں۔

افغانستان میں زیادہ تر کاروبار شدید مندی کا شکار ہیں جن میں ایک قرہ قلی ٹوپی بنانےکا ہنر بھی شامل ہے جس پر زیادہ خرچہ آتا ہے اور وہ اب صرف کچھ تاجر حضرات کے شوق کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔

اسی کاروبار سے وابستہ 65  سالہ سید حبیب سادات کہتے ہیں کہ یہ ان کا خاندانی پیشہ ہے اور وہ خود گذشتہ 52 سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے خریداروں میں بڑے لوگ جیسے ظاہر شاہ، داؤد خان، سردار ولی اور حامد کرزئی بھی شامل ہیں۔

سید حبیب کے مطابق یہ کاروبار اب زوال کا شکار ہو رہا ہے۔

’ظاہر شاہ کے دورمیں جب بہت فراوانی اور مہنگائی کم تھی تو زیادہ لوگ اس ٹوپی کا استعمال کیا کرتے تھے اس لیے بہت سے لوگ اس پیشے سے منسلک تھے۔ لیکن اب اس کاروبار کا شاید 20 فیصد ہی رہ گیا ہو، کیونکہ پہلے کابل کے شاہ دو شمشیرہ کے اس بازار میں دریا کے دونوں کناروں پرقرہ قلی کی 120 سے زیادہ دکانیں تھیں جن میں اب صرف چھ دکانیں رہ گئی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حبیب اللہ کہتے ہیں کہ اس ٹوپی کے لیے چمڑا مزار شریف، قندوز، شبرغان، اندخوۓ اور میمنہ سے آتا ہے جس میں مزار شریف کے دولت آباد کےعلاقے کا چمڑا سب سے اچھا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق اس ٹوپی کی قیمت تو ویسے ایک ہزار سے شروع ہوتی ہے لیکن اس کی کچھ اقسام جیسے ’سور تقر‘ ہلکے بھورے رنگ کی ہوتی ہیں اور اس کا نقش اور ڈیزائن بھی خوبصورت ہوتا ہے جو جانور کے پیٹ کو پھاڑ کر بچے کو نکال کر اس کے چمڑے سے بنائی جاتی ہے اس چمڑے کی قیمت ایک لاکھ 50 ہزار افغانی تک ہوتی ہے۔

حبیب اللہ کہتے ہیں کہ پہلے قرہ قلی کی ٹوپی افغانستان سے کئی ملکوں کو بھیجی جاتی تھیں لیکن اب صرف روس کو ہی برآمد کی جاتی ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی فن