جان کیپ ہاؤس کی قراقلی ٹوپیاں جنہیں کئی عالمی رہنماؤں نے پہنا

لگ بھگ 125 سال پہلے شروع ہونے والے سری نگر کے جان کیپ ہاؤس کے مالک کے مطابق یہاں سے محمد علی جناح سمیت کئی عالمی رہنما ٹوپیاں بنوا چکے ہیں۔

بھارت  کے  زیرِ انتظام  کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے  پائین شہر میں آتے  جاتے لوگ  اکثر  مظفر احمد جان کی دکان ’جان کیپ  ہاؤس‘ میں لٹکی ہوئی بھیڑ کی کھال کے بارے میں دریافت کرتے دکھائی  دیتے ہیں۔ 

مظفر کے  پردادا نے لگ بھگ 125 سال پہلے جان کیپ ہاؤس کی  بنیاد  ڈالی تھی۔ یہ دکان کشمیر میں قراقلی ٹوپیوں کے رواج کی بچی کھچی چند یادگار دکانوں میں سے ایک  ہے۔

مظفر  قراقل میمنے کی جلد سے قراقلی ٹوپیاں بناتے ہیں۔ ایک میمنے  کی کھال سے صرف ایک قراقلی ٹوپی بنائی جا سکتی ہے۔ 

قراقل نسل کی بھیڑیں اور میمنے پہلے ازبکستان کے شہر بخارا میں پائے جاتے تھے۔ 

یہ کاروبار یہاں سے افغانستان، نمیبیا  اور وسطی ایشیا کے  دیگر علاقوں میں پھیلا۔ آج کے دور میں افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ  قراقلی ٹوپیاں بنانے والا ملک ہے۔  

قراقلی  ٹوپیوں سے جڑے کاروبار کی کشمیر آمد  یہاں افغان فاتحین کے ساتھ  ہوئی۔ اس  زمانے میں حکمران، رئیس اور تاجر لوگ یہ ٹوپیاں پہنا کرتے تھے۔

جان کیپ ہاؤس نے کشمیر کے ساتھ  ساتھ  دنیا بھر میں قراقلی ٹوپیاں بنانے کی وجہ سے نام  کمایا ہے۔ کئی مشہور رہنماؤں نے، جن  میں محمد علی  جناح کا نام قابل ذکر ہے، جان کیپ ہاؤس سے ٹوپی بنوائی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے  بات کرتے ہوئے مظفر کا کہنا تھا: ’میں اس کام میں اپنے  خاندان کی چوتھی نسل ہوں۔ میں کئی طرح کے قراقلی ڈیزائن بناتا ہوں جن میں جناح، افغان، روسی، گاندھی ڈیزائن وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔  جناح ڈیزائن سب سے زیادہ بکتا ہے۔‘

مظفر نے بتایا کہ 1944 میں جب محمد علی جناح کشمیر آئے تو ان کے دادا نے ان کے لیے قراقلی ٹوپی بنائی تھی ۔

’میرے والد نے مجھے بتایا کہ جب محمد علی جناح کشمیر آئے تو والد نے ان سے قراقلی ٹوپی بنانے کو کہا۔ ان کے علاوہ کشمیر اور کشمیر سے باہر مختلف لیڈروں نے ہم سے ٹوپیاں بنوائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ 1984 میں ان کے والد نے راجیو گاندھی کے لیے قراقلی ٹوپیاں بنائیں اور 2014 میں جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر آئے تو مظفر نے خود ان کے لیے دو قراقلی ٹوپیاں بنائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نےکئی عالمی رہنماؤں بشمول عمان کے سابق بادشاہ قابوس بن سعید، میرواعظ مولوی عمر فاروق سمیت علیحدگی پسند رہنماؤں کے لیے قراقلی ٹوپیاں  بنائیں۔

’مرحوم اشرف صحرائی اور مرحوم سید علی شاہ گیلانی بھی یہاں سے قراقلی ٹوپی بنواتے تھے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا