’ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے‘: محسن عباس پر اہلیہ کے الزامات

سوشل میڈیا پر اداکار اور میزبان محسن عباس حیدر  کی اہلیہ فاطمہ سہیل کی فیس بک پوسٹ کے چرچے ہیں۔ جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا۔

فاطمہ سہیل نے اپنے شوہر محسن عباس پر گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں (سوشل میڈیا)

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب معروف اداکار اور میزبان محسن عباس حیدر  کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے اپنے فیس بک پیج پر ’ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے‘ کے عنوان سے ایک طویل پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا۔

27 سالہ فاطمہ سہیل کی اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا اور اس معاملے پر تبصروں کا طوفان آگیا۔

فاطمہ نے اپنے سٹیٹس میں لکھا کہ گذشتہ برس نومبر میں انہیں یہ معلوم ہوا تھا کہ ان کے شوہر کے نازش جہانگیر نامی ایک ٹی وی اداکارہ/ماڈل سے تعلقات ہیں اور وہ انہیں دھوکا دے رہے ہیں۔ فاطمہ کے مطابق اُس وقت وہ حاملہ تھیں، لیکن اس کے باوجود بھی بھید کھلنے پر محسن نے انہیں طلاق کی دھمکی کے ساتھ شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جس کی تصاویر بھی انہوں نے اپنی اس پوسٹ کے ساتھ لگائیں۔

فاطمہ نے لکھا کہ وہ اپنے بچے کی خاطر اپنی شادی کو بچانے کی کوشش کرتی رہیں۔ رواں برس انہوں نے بیٹے کو جنم دیا مگر اس کے باوجود محسن کا رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہ ہوا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 20 مئی کو جب ان کے بیٹے کی ولادت ہوئی تو محسن کراچی میں نازش جہانگیر کے ساتھ تھے اور اس کے بعد عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے محسن نے سوشل میڈیا پر اپنے ڈپریشن کے حوالے سے کچھ سٹیٹس بھی پوسٹ کیے (جنہیں بعد میں ڈیلیٹ کردیا گیا تھا)۔

فاطمہ کے مطابق اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے محسن دو روز کے بعد آئے، لیکن انہوں نے بچے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ’بس لوگوں کی ہمدردیاں وصول کرنے کے لیے اس کے ساتھ کچھ تصاویر بنوا کر چلے گئے۔ تاہم جب میں 17 جولائی کو محسن کے گھر گئی کہ وہ میری اور اپنے بچے کی ذمہ داری اٹھائیں تو انہوں نے مجھے پھر تشدد کا نشانہ بنایااور میری اور بچے کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا۔‘

فاطمہ نے مزید لکھا کہ وہ یہ سب اس لیے پوسٹ کر رہی ہیں کہ ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور ان کی یہ حد ختم ہو چکی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتی کہ وہ اکیلے اپنے بچے کو کیسے پالیں گی مگر اب وہ محسن سے عدالت میں ہی ملیں گی۔

فاطمہ کی بڑی بہن عائشہ احتشام، جو خود بھی ںیوز میڈیا سے ہی تعلق رکھتی ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’فاطمہ اس وقت میڈیا سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔‘

عائشہ نے بتایا کہ ان کی بہن فاطمہ نے چار سال قبل محسن عباس سے پسند کی شادی کی تھی، لیکن شادی کے فوراً بعد ہی گالم گلوچ اور مار پٹائی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ فاطمہ، جنہوں نے امریکہ سے فیشن ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے، ہر مشرقی لڑکی کی طرح اپنا گھر بچانا چاہتی تھیں، اسی لیے خاموش رہیں اور کافی عرصے تک گھر والوں کو بھی کچھ نہیں بتایا۔

عائشہ کے مطابق: ’فاطمہ کا خیال تھا کہ بچے کی پیدائش محسن کے رویے میں مثبت تبدیلی لائے گی مگر وہ غلط تھیں۔ گذشتہ برس بھی ان کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی مگر وہ چند روز بعد ہی انتقال کر گئی، جس کے بعد فاطمہ نے رواں برس ایک بیٹے کو جنم دیا مگر حمل کے دوران بھی محسن ان پر تشدد کرتے رہے کیونکہ فاطمہ کو ان کے نازش کے ساتھ تعلقات کا علم ہو گیا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا تھا کہ محسن اگلے چند روز میں نازش سے شادی کرنے والے تھے۔ ’محسن نے چند روز قبل اپنے ڈپریشن کے جھوٹے قصے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ فاطمہ ان کے ظلم کی داستان کسی نہ کسی دن کھول دیں گی۔ محسن اس کے لیے گراؤنڈ تیار کر رہے تھے، وہ 24 گھنٹے ایکٹنگ کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔‘

’محسن بہت مغرور ہیں‘

عائشہ کے مطابق محسن کا رویہ ان کے گھر والوں سے کبھی اچھا  نہیں رہا تھا۔ ’وہ بہت مغرور اور غصہ والے تھے، یہاں تک کہ فاطمہ کو گھر والوں سے بھی بہت کم ملنے کی اجازت تھی۔‘

محسن عباس حیدر اداکاری کے علاوہ ایک نجی نیوز چینل کے لیے شو بھی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ وہاں کام کرنے والے ان کے چند ساتھیوں نے بھی نام نہ بتانے کی شرط پر انکشاف کیا کہ ’محسن کے رویے کا بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ وہ بہت مغرور ہیں اور دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ کافی بداخلاقی سے پیش آتے ہیں۔‘

عائشہ نے محسن کی دوست نازش جہانگیر کی انسٹاگرام سٹوری کے کچھ سکرین شاٹس بھی انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ شئیر کیے، جس میں نازش نے محسن کی تصاویر پر ’صرف میرا‘ کے الفاظ لکھے تھے۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے فاطمہ کا نام لیے بغیر لکھا کہ ’بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک عورت جو خود خوش نہیں ہے وہ دوسروں کو بھی خوش نہیں رہنے دے رہی۔‘

عائشہ نے محسن عباس کے ایک ٹی وی شو کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں محسن خود یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’ان کو غصہ بہت زیادہ آتا ہے اور اس حالت میں وہ بدکلامی کرتے ہیں۔ ان کا غصہ جاہلانہ ہوتا ہے۔‘

کہانی کے مرکزی کردار محسن عباس اور نازش جہانگیر کا موقف

ان سب باتوں اور واقعات کی تصدیق کے لیے جب انڈپینڈنٹ اردو نے محسن عباس سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے قانونی مشیر سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کوئی بات کریں گے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ جلد ہی میڈیا کو بتائیں گے کہ فاطمہ کی اس فیس بک پوسٹ کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔‘ انہوں نے اپنے غصے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاں انہیں غصہ آتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کوئی ہاتھ چھوڑ آدمی ہیں۔ اس تمام معاملے کے حوالے سے وہ جلد ہی اپنے قانونی ماہر سے مشورہ کرکے پریس کانفرنس کریں گے۔‘

دوسری جانب نازش جہانگیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں محسن عباس سے اپنے تعلقات کا نہ تو انکار کیا اور نہ ہی اقرار۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کہانی ایک آدھ دن میں سامنے آجائے گی۔ وہ ٹھوس ثبوت کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئیں گی جبکہ فاطمہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: ’آپ میرا یقین کریں کہ فاطمہ  کی جانب سے پوسٹ ہونے والی تشدد کی تصاویر جعلی ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ محسن عباس سے شادی کرنے والی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتیں۔‘

قانونی کارروائی؟

فاطمہ سہیل کی بڑی بہن عائشہ نے بتایا کہ فاطمہ اس وقت اپنے والدین کے گھر پر ہیں اور پیر کے روز اپنا کیس عدالت میں پیش کریں گی۔ ان کا یہ کیس عائشہ کے شوہر بیرسٹر احتشام دیکھیں گے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر احتشام کا کہنا تھا کہ فاطمہ کی طرف سے ایک ایف آئی آر کے لیے درخواست تھانے میں دی جا چکی ہے جو محسن کی جانب سے کیے جانے والے تشدد اور دھمکیوں وغیرہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ویمن پروٹیکشن آفیسرز نے فاطمہ کی فیس بک پوسٹ کے بعد ان سے رابطہ کر لیا ہے، اب وہ پیر کے روز ویمن پروٹیکشن سینٹر جائیں گی اور اس کے ذریعے ہی وہ عدالت میں جائیں گی۔‘

فاطمہ سہیل کی فیس بک پوسٹ کے بعد تمام سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر پر اس کے چرچے ہیں اور لوگ مختلف ہیش ٹیگز کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے ٹویٹ کیا کہ محسن عباس پر انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی لگ جانی چاہیے۔

 ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی، انسانی اور خواتین کے حقوق کی علمبردار اور معروف وکیل نگہت داد نے بھی اپنی ٹویٹ میں فاطمہ سہیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر اگلے چند روز میں کوئی آپ کی کوئی ذاتی ویڈیو لیک کر دے (جو کہ شاید جعلی ہو)، کوئی آپ پر ہتک عزت کا کیس کردے، محسن عباس کا کوئی روتا ہوا بیان آجائے یا  آن لائن آپ کی ٹرولنگ ہو تو اس سے ہمت نہ ہاریے گا۔‘

نگہت داد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے کیسز میں خواتین کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں اور انصاف تک رسائی میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ پہلے تو آپ کا کوئی یقین نہیں کرتا۔ پھر چاہے آپ کا تعلق کسی بھی کلاس سے کیوں نہ ہو پہلا دباؤ یہ ہوتا ہے کہ صلح کر لی جائے۔‘ نگہت کا ذاتی خیال ہے کہ ایک خاتون سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی کہانی تبھی بیان کرتی ہے جب ظلم کی انتہا ہو جائے اور ایک انسان کی برداشت کی حد ختم ہو جائے۔ ان کے مطابق: ’فاطمہ نے بھی یہی کیا۔ اپنی تصاویر اس لیے لگائیں کیونکہ معاشرہ ثبوت مانگتا ہے۔ ان کے خیال میں فاطمہ سہیل کو دوسری جانب سے بہت ساری تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

نگہت کا مزید کہنا تھا کہ ’گھریلو تشدد کے حوالے سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ جب گھریلو تشدد کا واقعہ ہو تو اگر آپ اُس وقت نہیں بھی بولنا چاہ رہیں تب بھی فوری ہسپتال جائیں اور اس کی میڈیکولیگل رپورٹ بنوائیں اور آپ کا ڈاکٹر اس پر لکھے کہ آپ پر تشدد ہوا ہے۔ لیکن یہاں بھی رکاوٹ آتی ہے کہ ڈاکٹر کہے گا کہ یہ پولیس کیس ہے، پہلے پولیس کو بتائیں اور یہاں پر عورت بعض اوقات ڈر جاتی ہے، اس لیے قانونی طریقہ کار کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی آواز اٹھانے کے لیے دوسرے راستے نہ ڈھونڈیں۔‘

دوسری جانب بہت سے اداکاروں نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، جن میں ماہرہ خان، گوہر رشید اور دعا ملک شامل ہیں۔

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل