نواب آف کالاباغ کے کپڑے بنانے والے 112 سالہ کاریگر

پنجاب کے علاقے میانوالی کے 112 سالہ فتح خان اپنی جوانی میں روز 40 گز تک کپڑا بنتے تھے۔

پنجاب کے علاقے میانوالی کے 112 سالہ فتح خان اپنی جوانی میں روز 40 گز تک کپڑا بنتے تھے۔

قصبہ ماڑی کے رہائشی فتح خان اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب وہ سابقہ گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالاباغ کے لیے کھدر کے کپڑے بنتے اور رنگتے تھے۔

فتح خان بتاتے ہیں کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کو بھی دو بار عوامی اجتماعات میں دیکھ چکے ہیں۔

ان کے مطابق تقسیم ہند سے پہلے ان کا زیادہ تر کاروبار ہندو تاجروں کے ساتھ ہوتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صرف اپنی مادری زبان سرائیکی بولنے والے فتح خان فالج کے مرض کے باعث بولنے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں تاہم ان کی یاداشت آج بھی بہترین ہے۔

فتح خان کہتے ہیں کہ ’میری پیدائش 1909 کی ہے۔ اب میری عمر 112 سال ہے۔ میرا نام فتح محمد ہے۔ والد کا نام خیر محمد دادا کا نام شیر محمد ہے پردادا کا نام محمد اکبر اور جھردادا کا نام فتح تھا جن پر میرا نام رکھا گیا۔ پتا نہیں 50 سال یا 60 سال کام کیا ہے کپڑے رنگ خود کرتا تھا سوتر خود بناتا تھا کھڈی پر خود بنتا تھا۔‘

ان کے مطابق ’میری نواب امیر محمد خان سے واقفیت تب ہوئی جب کوٹ گلہ کے علاقے کے لوگ جن سے ان کی دشمنی تھی انہوں نے ہاتھی خان کے ہاں کبڈی کے مقابلے دوران نواب صاحب پر حملہ کر دیا، نواب کے ساتھ میرے والد بھی تھے تو انہوں نے دفاع کرتے ہوئے ان حملہ آوروں کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان کو بھگا دیا۔ اس واقعے کے بعد نواب صاحب کے کہنے پر ہم نے ان کے لیے کپڑے بننے شروع کیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا