یورپ گرمی سے بلبلا اٹھا

رواں ہفتے یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے اور اس دوران ریکارڈ گرمی، گلیاں ویران، دفاتر بند اور پانی کے تالاب لوگوں سے بھرے دیکھے گئے۔

8

پیرس میں دریا سیئن کے کنارے پانی کے سپرے میں کھڑا ایک لڑکا(اے ایف پی)

پیرس کبھی بھی اتنا گرم نہیں تھا جتنا جمعرات کو تھا۔ شمالی یورپ میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری ہیٹ ویوو کے نتیجے میں شہر کا انفراسٹرکچر درہم برہم ہوگیا، سرکاری عمارتیں بند اور پانی کے فوارے لوگوں سے بھر گئے۔

فرانسیسی دارالحکومت میں 1947 کے بعد سے درجہ حرارت کبھی بھی 40 سیلسیس سے اوپر نہیں گیا تھا، لیکن جمعرات کو قومی موسمیاتی محکمے نے 42.6  سیلسیس ریکارڈ کیا۔

زمینی درجہ حرات 50 سیلسیس کے قریب تھا جس کی وجہ ’اربن ہیت آئی لینڈ‘ کہلائے جانے والا مظہر تھا، جس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی کے دوران شہر کئی دنوں تک ٹھنڈا نہیں ہوتا، کیونکہ سڑکیں اور عمارتیں گرمی کھینچ لیتی ہیں اور رات میں ریڈی ایٹر کی طرح کام کرتی ہیں۔

جمعرات چوتھا اور بہت سوں کے خیال میں اس شدید گرمی کا آخری دن تھا، اور صبح 10 بجے #AlerteRouge  ٹوئٹر پر پہلے ہی ٹرینڈ کرنے لگا۔

ٹرینیں یا تو بند کر دی گئی ہیں یا پھر ریلوے ٹریکس کے گرمی کی وجہ سے ٹیڑھے ہونے کے خوف سے انہیں کم سپیڈ پر چلانے کا کہا گیا ہے۔

ان ویلیڈز سٹیشن میں آر اے ٹی پی کے اہلکار نے بتایا کہ ’میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘ اس اہلکار کے پاس مسافروں کو مفت سفر کی اجازت دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ سٹیشن پر نصب گھومنے والے دروازے خراب ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ایسی گرمی نہیں پڑی کہ چیزیں ہی ٹوٹنے لگیں۔‘

دوپہر کو شہر کے کئی سرکاری دفاتر نے اعلان کیا کہ وہ آفس بند کر رہے ہیں کیونکہ عمارت میں ایئر کنڈشننگ نہیں ہے۔

جس وقت گرمی اپنے عروج پر پہنچی تو شہر کی گلیاں ویران ہو گئیں اور پانی کے تالاب اور فوارے سوئمنگ پولز میں تبدیل ہوگئے تھے۔ جبکہ بعض نے تو سپر مارکیٹس کے فروزن سیکشن میں پناہ لے لی۔

ایسا صرف پیرس میں ہی نہیں بلکہ پورا یورپ ہی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے جرمنی میں بھی گرمی کے گذشتہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

جرمنی میں بھی ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ 40.5 سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

بدھ کو پڑنے والی گرمی نے 2015 کے 40.3 سیلسیس کا ریکارڈ توڑا ہے۔ 2015 میں جنوبی ریاست بواریا میں ایسی شدید گرمی پڑی تھی۔

ادھر برطانیہ میں بھی جمعرات کو پارہ آسمان سے باتیں کرنے لگا جب کیمبرج میں برطانوی تاریخ کا دوسرا گرم دن ریکارڈ کیا گیا۔

کیمبرج میں جمعرات کو 38.1 سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو مستقبل میں اس طرح کی ریکارڈ گرمی کا اکثر سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ