ایران اور چین مذہبی آزادی کی ’مخصوص بلیک لسٹ‘ میں

مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر مبنی امریکہ کی اس فہرست میں پاکستان، کیوبا، اریٹیریا، نکاراگوا، تاجکستان اور ترکمانستان پہلے سے ہی شامل ہیں۔

30 نومبر 2022 کی اس تصویر میں امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن رومانیہ کے شہر بخارسٹ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران(اے ایف پی)

امریکہ نے ایران، چین اور روس کو مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی ’مخصوص فہرست‘ میں شامل کرتے ہوئے ان ممالک میں اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کو امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ ’امریکہ چین، ایران اور روس کو مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت شدید خلاف ورزیوں پر خاص تشویش والے ممالک کے طور پر نامزد کر رہا ہے۔‘

بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شمالی کوریا اور میانمار بھی شامل ہیں۔

امریکہ کی اس فہرست میں کیوبا، اریٹیریا، نکاراگوا، پاکستان، تاجکستان اور ترکمانستان بھی شامل ہیں۔

امریکہ میں یو ایس آزادی ایکٹ 1998 وزیرخارجہ کو یہ ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ ان ممالک کو ’مخصوص تشویش‘ والے ممالک نامزد کریں جو مذہبی آزادیوں کی منظم اور مسلسل خلاف ورزی کرتے ہیں۔

نامزد کیے جانے والے ممالک کے علاوہ الجزائر، وسطی افریقی جمہوریہ، کوموروس اور ویتنام کو واچ لسٹ میں رکھا گیا تھا۔

امریکہ نے کریملن سے منسلک نجی نیم فوجی تنظیم ویگنر گروپ جو شام، افریقہ اور یوکرین میں سرگرم ہے، سمیت کئی گروپوں کو بھی خاص تشویش کے حامل اداروں کے طور پر نامزد کیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن نے مزید کہا کہ ویگنز گروپ کو وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کی سرگرمیوں پر نامزد کیا گیا ہے۔

بلنکن نے بیان میں مزید کہا کہ ’دنیا بھر میں، حکومتیں اور غیر ریاستی عناصر لوگوں کو ان کے عقائد کی بنا پر ہراساں، دھمکیاں، جیل، اور یہاں تک کہ قتل بھی کرتے ہیں۔‘

’امریکہ ان زیادتیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’واشنگٹن ان ممالک کو فہرستوں سے ہٹانے کے لیے ٹھوس اقدامات کا خاکہ پیش کرنے اور تمام حکومتوں سے ملاقات کے مواقع کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیرخارجہ نے اس حوالے سے انڈیا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جسے واشنگٹن اپنا قریبی اتحادی مانتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انٹنی بلنکن کا یہ فیصلہ امریکہ کے غیر جانبدار کمشین انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم کی ان سفارشات کی نفی ہے جس نے کہا تھا کہ ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ برے سلوک میں ’بڑا اضافہ‘ ہوا ہے۔

امریکہ نے حالیہ مہینوں میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ میں ہونے والے ان سب سے بڑے مظاہروں کے دوران کئی خواتین نے سر سے سکارف اتار کر اس کو جلایا ہے۔ ایران میں یہ سکارف قوانین کے تحت لازمی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 16 ستمبر کو 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی مذہبی پولیس کی زیر حراست ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حکام نے 14 ہزار کو گرفتار کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم اور انہیں ہراساں کرنا بند کرے جبکہ بنیادی حقوق کی راہ روکنے کے لیے مذہب کا استعمال ترک کر دے۔

ایران کے علاوہ امریکہ نے چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں بھی انسانی حقوق کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جہاں ایک کروڑ نسلی اویغور مسلمان آباد ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مغربی حکومتیں طویل عرصے سے بیجنگ پر نسلی اقلیت اویغور کے خلاف بدسلوکی کا الزام لگاتی رہی ہیں، جس میں حراستی کیمپوں میں جبری مشقت بھی شامل ہے۔

امریکہ نے چین پر نسل کشی کا الزام بھی لگایا ہے تاہم بیجنگ کسی بھی قسم کی زیادتیوں کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا