شمالی کوریا کا میزائل تجربہ: جنوبی کوریا اور جاپان کی تصدیق

اتوار کو جنوبی کوریا کی فوج کے بیان میں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی نشاندہی کی گئی جبکہ جاپانی کوسٹ گارڈز کے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ ’بظاہر شمالی کوریا نے ایک میزائل فائر کیا ہے۔‘

تین نومبر 2022 کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے ایک ریلوے سٹیشن پر ایک خاتون ٹیلی ویژن سکرین کے پاس سے گزر رہی ہیں، جس میں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی فائل فوٹیج کے ساتھ خبر نشر کی گئی ہے(اے ایف پی)

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کی جانب ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو جنوبی کوریا کی فوج کے بیان میں شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے کی نشاندہی کی گئی جبکہ جاپانی کوسٹ گارڈز کے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ ’بظاہر شمالی کوریا نے ایک میزائل فائر کیا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک روز قبل ہی پیانگ یانگ نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ہتھیاروں کے نئے موٹر سسٹم کا کامیاب تجربہ کر چکا ہے جو ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔

جنوبی کوریا کے چیفس آف سٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ’شمالی کوریا نے ایک ناقابل شناخت بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر کی سمت داغا ہے۔‘

سمندر کے اس حصے کو ’سی آف جاپان‘ بھی کہا جاتا ہے۔

شمالی کوریا نے گذشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں میزائل تجربات کیے ہیں اور اس کے جنگی طیاروں نے بھی کئی علاقوں میں پروازیں کی ہیں جس کے بعد سے جنوبی کوریا اور جاپان کے کچھ علاقوں میں لوگوں کے انخلا کی وارننگز بھی جاری کی گئی تھیں۔

شمالی کوریا کے مطابق یہ سب امریکہ اور جنوبی کوریا کی فضائیہ کی بڑی مشقوں کے جواب میں کیا گیا تھا۔

تاہم امریکی اور جنوبی کوریا کے حکام نے شمالی کوریا کے ان میزائل تجربے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی مشقیں دفاعی نوعیت کی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری ایک بیان میں شمالی کوریا کے جنرل سٹاف نے کہا تھا کہ ’کورین پیپلز آرمی کی حالیہ اسی طرح کی فوجی کارروائیاں شمالی کوریا کا واضح جواب ہے کہ دشمنوں کی اشتعال انگیز فوجی حرکتیں اگر مستقل طور پر جاری رہیں گی تو کوریا اتنی ہی طاقت اور بے رحمی سے ان کا مقابلہ کرے گا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے تجربات میں وار ہیڈز سے لدے بیلسٹک میزائل اور زیر زمین حملہ آور ہونے والے وار ہیڈز شامل تھے جن کا مقصد دشمن کے فضائی اڈوں پر حملہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ان میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے اور سٹریٹجک کروز میزائل بھی شامل تھے۔‘

اس بیان میں شمالی کوریا کے حکام نے جمعرات کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی مبینہ لانچ کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا جس کا مقصد امریکی سرزمین کو نشانہ بنانا تھا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر شمالی کوریا کا مقصد امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کو اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے اور مستقبل کے معاملات میں امریکہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کے لیے اپنا فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرنا ہے۔

امریکی اور جنوبی کوریا کی فوجیں مئی میں جنوبی کوریا کے قدامت پسند صدر یون سک یول کی فتح کے بعد سے اپنی باقاعدہ فوجی مشقوں کو بڑھا رہی ہیں، جنہوں نے شمالی کوریا کی اشتعال انگیزیوں پر سخت موقف اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اکتوبر میں بھی شمالی کوریا نے دو ہفتے سے بھی کم وقت میں پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے چھ سے زائد میزائل میزائل تجربات کیے تھے۔ جبکہ گذشتہ ہفتے کو بھی جدید میزائلوں کے تازہ ترین تجربات کیے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا