ایئرہوسٹس مسافر سے ’میں آپ کی نوکر نہیں‘ کہنے پر مجبور

ایئر لائن انڈیگو کے سی ای او نے ویڈیو کلپ میں نظر آنے والی ایئر ہوسٹس کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ایئر ہوسٹس مسافر کے ساتپ بات کرتے ہوئے (ویڈیو گریب ٹوئٹر)

سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے ایک انڈین ایئر ہوسٹس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے، جن کی ایک مسافر نے اس قدر توہین کی کہ وہ ان پر چیخنے پر مجبور ہو گئیں۔

ایئر ہوسٹس نے چیختے ہوئے کہا ’میں آپ کی نوکر نہیں۔‘

انڈین ایکسپریس اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق وائرل ہونے والا یہ ویڈیو کلپ استنبول سے نئی دہلی جانے والی پرواز کا ہے۔

یہ واقعہ 16 دسمبر کو پیش آیا جب ایک مسافر نے فوڈ سروس کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے فلائٹ اٹینڈنٹ پر بہت غصہ کیا۔

ایئر ہوسٹس خاموشی سے کھانا پیش کرنے کے لیے صبر کرنے اور اصول بتانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

تاہم مسافر اپنی بات پر بضد رہا تو ائیر ہوسٹس کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے جذباتی ہوکر مسافر کو کھری کھری سنا دی۔

ایک مسافر کی جانب سے بنائی گئی یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایئر لائن انڈیگو کے سی ای او نے ایئر ہوسٹس کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

ویڈیو سے متعلق ٹوئٹر پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کمپنی کے سی ای او نے کہا ’جیسا کہ میں نے پہلے کہا فلائٹ کا عملہ بھی انسان ہے۔‘

ویڈیو میں ایک مسافر نظر آ رہا ہے اور ایئر ہوسٹس مسافر سے بات کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں: ’میری ساتھی میزبان آپ کے رویے کی وجہ سے روتی ہوئی داخل ہوئی۔‘

چنانچہ دونوں میں شدید بحث و مباحثہ ہوا، مسافر کی آواز بلند ہوئی: ’آپ چیخ کیوں رہی ہیں؟ مت چیخیں...‘،

اس پر میزبان نے جواب دیا: ’میں چیخ رہی ہوں کیونکہ آپ نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسافر کہتا رہا: ’چپ رہیں...‘۔ جواب میں ائیر ہوسٹس نے بھی کہا ’آپ چپ کریں...‘!

انڈیگو کمپنی نے کہا کہ واقعہ پرواز 12 سکس ای میں پیش آیا۔ مسئلہ کچھ مسافروں کے منتخب کردہ کھانے سے متعلق تھا۔

کمپنی نے کہا ’ہم اپنے صارفین کی ضروریات کو سمجھتے ہیں اور ہم ہمیشہ انہیں ایک خوش گوار اور پریشانی سے پاک سفر فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم اس بات کی تصدیق کرنا چاہیں گے کہ مسافروں کی سہولت ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔

کمپنی کے صدر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ معاملہ اس بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ گیا ہوگا کہ یہ واقعہ پیش آگیا۔

’میں کئی سالوں سے طیارے کے عملے کو تشدد اور توہین کا نشانہ بنتے دیکھتا آ رہا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر