مشکلات کے باوجود کون فضائی میزبان بننا چاہتا ہے؟

فلائٹ اٹینڈنٹ کا کام اتنا دلکش نہیں رہا جتنا کہ پہلے ہوا کرتا تھا، لیکن ملازمت کے لیے امریکہ میں اب بھی انتہائی سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

ایئر لائن اوپن سکائیز کی ایک فضائی میزبان 24 مارچ 2010  کو ورجینیا کے واشنگٹن ڈیلاس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک طیارے میں پوز دے رہی ہیں (اے ایف پی/ پال جے رچرڈز)

2021 کے موسم بہار میں جب ایک امریکی ایئرلائن ساؤتھ ویسٹ کے مسافر نے فضائی میزبان (فلائٹ اٹینڈنٹ) پر حملہ کرکے ان کے دو دانت توڑ دیے تو باقی مسافر حیران رہ گئے۔

گذشتہ اکتوبر میں ایک شخص نے امریکن ایئرلائنز کی فلائٹ میں فضائی میزبان کے چہرے کی ہڈیاں توڑ دیں۔ تشدد کا سلسلہ گذشتہ ماہ بھی جاری رہا جب ایک شخص کو ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وہ امریکن ایئر لائنز کے فلائٹ اٹینڈنٹ کو سر کے پچھلے حصے میں گھونسا مار رہا ہے۔

پاکستان بھی ان واقعات سے مبرا نہیں۔ دو ہفتے قبل پشاور سے دبئی جانے والی ایک پرواز میں مسافر کی ہلڑ بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ پی آئی اے کی اس پرواز میں مسافر نے کھڑکی توڑنے کی بھی کوشش کی اور بالآخر طیارے کے عملے نے بڑی مشکل سے مسافر پر قابو پایا۔

ان مثالوں کو ایک طرف رکھیں تو بھی واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق پچھلے چند سال اس پیشے کے لیے آسان نہیں رہے۔ وبائی مرض کرونا کے آغاز میں جبری رخصت سے لے کر ماسک لازمی قرار دیے جانے کے خلاف دشمنی کی حد تک آپریشنل ابہام رہا، جس کی وجہ سے اس موسم گرما میں امریکہ میں ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ 

نامہ نگار ہننا سمپسن کی رپورٹ میں 2015 سے فضائی میزبان کے طور پر کام کرنے والی 31 سالہ سوسنہ کار نے کہا: ’یہ قدرے رولر کوسٹر وقت رہا ہے۔‘

انہوں نے 2020 میں جبری رخصت کے بعد برائیڈل کنسلٹنٹ کے طور پر نوکری شروع کر دی اور پچھلے سال فلائنگ کے لیے واپس آئیں۔ ایک بار جب وہ واپس آئیں تو انہوں نے کہا: ’میں کام پر آنے کے لیے گھبرا رہی تھی،‘ کیوں کہ انہوں نے دیکھا تھا کہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ چند مسافروں نے کتنا برا سلوک کیا ہے۔

اس سب کے باوجود جب یہ ملازمت سامنے آتی ہے تو  ہزاروں افراد کیبن کریو کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ لوگ اب بھی اس نوکری کے لیے کیوں زور لگا رہے ہیں؟

ایڈونچر اور لچکدار نظام الاوقات

موجودہ اور سابق فلائٹ اٹینڈنٹس کہتے ہیں کہ وہ لوگوں سے ان کی زندگی کے اہم لمحات میں ملنا پسند کرتے ہیں اور وہ اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ ہر کام کا دن ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نئی جگہیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے، چاہے یہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

ایبی انگر نے، جو 2006 سے 2011 تک اس انڈسٹری میں رہیں اور اب فلائٹ اٹینڈنٹ کیریئر کنکشن نامی کمپنی کی مالک ہیں، نے کہا کہ ’وہ لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ اور ایڈونچر کی خواہش بھی رکھتی ہیں۔ وہ ایک ایسا موقع تلاش کر رہی ہیں جہاں وہ دوسرے لوگوں کی مدد کر سکیں، ان پر اثر انداز ہوں اور یہ بھی چاہتی ہیں کہ ان کا کام متنوع ہو۔‘

ایسوسی ایشن آف فلائٹ اٹینڈنٹس (CWA) کی طرف سے کروائے گئے 2019 کے ایک سروے کے مطابق یونین کے 45 فیصد اراکین کے پاس کم از کم انڈرگریجویٹ ڈگری تھی، لیکن ایئر لائنز کو صرف ہائی سکول کی ڈگری یا اس کے مساوی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے نئے ملازمین کو طالب علموں کے ملنے والے قرض کے بوجھ کے ساتھ ملازمت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

مس کار نے کالج سے گریجویشن کیا اور مختصر طور پر ایک کارپوریٹ نوکری کی۔ وہ سفر کرنا چاہتی تھیں، لہذا انہوں نے سوچا کہ وہ ماسٹر ڈگری حاصل کرنے اور دفتری ملازمت پر واپس آنے سے پہلے چند سال کے لیے فضائی میزبان بن جائیں اور آٹھ سال بعد بھی وہ طیاروں میں پرواز کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ابتدائی اہم بات یہ ہے کہ مجھے سفر کرنے کا موقع ملے گا، پیسے ملیں گے اور ہیلتھ انشورنس رکھ سکوں گی۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف اے کی بین الاقوامی صدر سارہ نیلسن نے کہا کہ یہ کام بااختیار بنا رہا ہے۔ انہوں نے طیارے کو ’ایک غیر منظم کام کی جگہ‘ کے طور پر بیان کیا۔

’جب آپ وہاں جاتے ہیں، تو یہ آپ کا جہاز ہے۔ آپ کو لہجہ ترتیب دینا ہوگا، آپ کے کندھے پر سوار مینیجر نہیں ہوتا۔ آپ نے یونیفارم پہن رکھی ہوتی ہے جس پر پٹیاں لگی ہیں، جو قیادت کو ظاہر کرتی ہیں۔‘

نیلسن نے تسلیم کیا کہ کیبن کے عملے کو اب بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مسافروں کی ’بڑی اکثریت‘ قابل احترام ہے اور فضائی میزبان کو رہنما کے طور پر دیکھتی ہے۔

اسی طرح مس کار نے بتایا کہ ایک بار جب فضائی میزبان کچھ سنیارٹی تک پہنچ جاتے ہیں تو کام میں لچک ایک بہت بڑا فائدہ بن جاتی ہے۔ وہ زیادہ تنخواہ کے لیے اضافی گھنٹے کام کر سکتے ہیں، گھر پر زیادہ وقت گزارنے کے لیے کم گھنٹے کام کر سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کب اور کہاں پرواز کرتے ہیں۔

فضائی میزبان اکثر مفت پرواز کر سکتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ کام نہ کر رہے ہوں تو بھی، حالانکہ یہ سیٹ کی دستیابی پر منحصر ہے، جو اس دور میں بھری پروازوں کی وجہ سے زیادہ نہیں ہوتیں۔

یو ایس بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس کے مطابق 2021 کے وسط میں فضائی میزبان کی اوسط اجرت 61 ہزار 640 ڈالر تھی ۔ سب سے کم 10 فیصد نے 37 ہزار ڈالر سے کم کمایا جب کہ سب سے اوپر 10 فیصد کمانے والے 81 ہزار ڈالر سے زیادہ گھر لے گئے۔ علاقائی ایئر لائنز کا عملہ امریکن، یونائیٹڈ، ڈیلٹا اور ساؤتھ ویسٹ جیسے بڑے نام کے کیریئرز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم کماتا ہے۔

درخواست گزاروں کی بھرمار

امریکی ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ اعلان شدہ ملازمتوں کے لیے امیدواروں کا سیلاب آتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ڈیلٹا ایئرلائن میں فلائٹ اٹینڈنٹ کی ملازمت حاصل کرنا ہارورڈ میں جانے سے مشکل ہوتا ہے، جس میں اس سال داخلے کی شرح تقریباً 3.2 فیصد تھی۔ یہاں تک کہ ایئر لائن نے فضائی میزبان کے تربیتی پروگرام کے بارے میں ’Earning Our Wings‘ کے نام سے ایک ویب سیریز بھی جاری کی اور اسے ’دنیا کی سب سے پسندیدہ ملازمتوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔

ڈیلٹا ایئرلائن تقریباً 4300 فضائی میزبانوں کو فارغ التحصیل کرنے کی توقع رکھتی ہے، جسے ایک تاریخی تعداد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اگلے سال یہ ایئر لائن ’کئی لاکھ درخواست دہندگان میں سے‘ چار سے چھ ہزار فلائٹ اٹینڈنٹ فارغ التحصیل ہونے کی توقع رکھتی ہے۔

یونائیٹڈ ایئرلائن نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ ’جب بھی ہم کوئی اشتہار جاری کرتے ہیں تو ہزاروں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور دلچسپی کی وجہ سے اسے صرف چند دنوں کے لیے کھلا رکھنے کے قابل ہوتے ہیں!‘ ایئر لائن نے کہا کہ وبائی مرض سے پہلے کے مقابلے میں دلچسپی زیادہ رہی ہے۔

ساؤتھ ویسٹ نے کہا کہ اس نے اس سال تین ہزار سے زیادہ فضائی میزبانوں کی خدمات حاصل کی ہیں اور انہیں تربیت دی ہے، جوکہ ایک ریکارڈ ہے، جس سے ایئر لائن میں ملازمین کی کل تعداد 18500 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ وبائی مرض شروع ہونے سے پہلے عملے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

انگر نے کہا: ’اب بھی ان کے لیے بہت سخت مقابلہ ہوتا ہے اگرچہ بنیادی قابلیت کافی کم رکھی گئی ہے۔

برن آؤٹ کی وجوہات

ملازمتوں کی مانگ کے باوجود، نشیب و فراز حقیقی ہیں۔

اس شعبے میں ابتدائی تنخواہ کم ہے اور علاقائی فضائی کمپنیوں میں اس سے بھی کافی کم ہے۔ ابتدائی کیریئر فلائٹ اٹینڈنٹ کا اپنے شیڈول پر بہت کم کنٹرول ہوتا ہے۔

ناس لیوس نے، جو اس ملازمت کا نو سالہ تجربہ کار رکھتے ہیں اور انہوں نے فضائی میزبانوں کی دماغی صحت کی بہتری کے لیے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ہے، کہا: ’بہت سارے نئے لوگ آتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ زبردست ہونے والا ہے۔ انہیں ثقافتی جھٹکا لگاتا ہے۔ میری واقعی کوئی زندگی نہیں ہے۔ کیا مجھے اس کام سے اتنا پیار ہے جسے میں سینیارٹی تک پہنچنے کے لیے کئی سال اور وقت لگاؤں گا؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیلسن نے کہا کہ پرواز کا پہلا سال مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ کارکن ملازمت کے جسمانی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتے، اس دوران انہیں کیبن میں ہوا کے دباؤ کا عادی ہونا پڑتا ہے اور وہ کان کے اندرونی مسائل، ہوا کی بیماری اور سانس کی بیماریوں جیسی بیماریوں سے نمٹتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہر کوئی کام پر اپنے پہلے سال بیمار ہو جاتا ہے۔‘ یہاں تک کہ تجربہ کار کارکنوں کے لیے بھی نقصانات ہو سکتے ہیں۔

ہزاروں فضائی میزبانوں نے گذشتہ ہفتے ایئر لائنز سے آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایئر لائن میں شیڈولز کے درمیان عملے کی کمی کا مطلب ہے کہ کچھ لوگوں کو چھٹی پر ہوٹل حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’اس موسم گرما میں ہمارے بہت سے فضائی میزبانوں کے لیے یہ ناقابل یقین حد تک مشکل تھا۔‘

فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے منگل کو نئے قوانین کا اعلان کیا جس میں ایئر لائنز کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ فضائی میزبانوں کو شفٹوں کے درمیان لگاتار 10 گھنٹے آرام ملے۔ اس اقدام کی یونینوں نے تعریف کی ہے۔

ایبی انگر نے، جنہوں نے اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد پیشہ ورانہ طور پر پرواز کرنا چھوڑ دیا تھا، کہا کہ یونیفارم پہننے اور کام کرنے سے ایک جوش آتا ہے۔

’لیکن پھر جب آپ پہلی بار کسی اور کی الٹی صاف کر رہے ہیں یا آپ کو بیت الخلا کو قابل استعمال بنانا ہے، تو (اس ملازمت) کی کچھ کشش کم ہوجاتی ہے۔‘

سفری افراتفری کے محاذ پر

ایبی انگر نے کہا کہ فضائی میزبانوں کو تھوڑا ڈھیٹ ہونا چاہیے کیوں کہ انہیں اکثر ایسی ایئر لائن کے لیے کھڑا ہونا پڑتا ہے، جس نے ایک مسافر کو بہت ناخوش کیا ہے۔ تنہائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے کیوں کہ فلائٹ اٹینڈنٹس اپنے دوستوں اور خاندان سے طویل عرصے تک دور رہتے ہیں۔

فلائٹ اٹینڈنٹ کے کردار بدل گئے ہیں، لیکن دقیانوسی تصورات نہیں بدلے ہیں۔

لیوس، جن کی تنظیم تھیراپی، فضائی میزبانوں کے لیے ایک ’کرائسس ٹیکسٹ لائن‘ پیش کرتی ہے، یعنی ان لوگوں کے لیے جنہیں ساتھیوں تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے، کہا کہ بہت سے نئے کارکنان تنہائی کے بارے میں پیغامات بھیجتے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ، صارفین برن آؤٹ، بے قاعدہ آپریشنز اور ڈپریشن کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ سب ایک فیس بک گروپ سے شروع ہوا جو انہوں نے 2019 میں فلائٹ اٹینڈنٹس کی دماغی صحت کے بارے میں بات کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2020 میں جب میں نے اپنے ساتھیوں کو تکلیف میں دیکھا اور مجھے ایسا لگا جیسے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ ’اس نے مجھے جذباتی بنا دیا۔‘

اب وہ آنے والے پیغامات کا جواب دینے کے لیے رضاکاروں کا بندوبست کرتی ہیں۔

’مجھے اب بھی فضائی میزبان کے طور پر کام کرنا پسند ہے۔ میں لوگوں سے محبت کرتی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے ساتھی لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور ہم خدمت کرنا پسند کرتے ہیں، ہمیں وہ منزلیں پسند ہیں، جہاں ہم جاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام مشکل رہا ہے، لیکن ’مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس امید پر قائم ہیں کہ حالات بہتر ہونے جا رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر