پاکستان سے بیرون ملک سفر کے لیے چارٹرڈ فلائٹس تین گنا مہنگی

بااثر ٹریول ایجنٹس سعودی عرب جانے والوں کو کینیا یا براستہ دبئی لے جانے کے دو سے ڈھائی لاکھ روپے یکطرفہ کرایہ وصول کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے چارٹرڈ فلائٹس بک کر کے سروس شروع کر رکھی ہے۔

کئی ٹریول ایجنٹس پی آئی اے، سیرین ایئر لائن کا پورا جہاز  بک کرتے ہیں اور بذریعہ کینیا اور دبئی میں قرنطینہ کر کے 15 روز بعد سعودی عرب لے جاتے ہیں (ا ےایف پی/ فائل فوٹو)

ویسے تو کرونا وبا جب سے پھیلنا شروع ہوئی ہے دوسرے ممالک میں کام کرنے والے کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد کی مشکلات بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔

اب کرونا کی چوتھی لہر کے بعد بھی کئی کئی ماہ سے مختلف ممالک میں سفری پابندیوں کے پیش نظر ہزاروں پاکستانی پہلے تو واپس نہیں جا سکتے تھے لیکن اب اگر اجازت ملی بھی ہے تو اس کی شرائط مشکل ہیں۔

چند ممالک کی جانب سے پابندیاں نرم کی گئی ہیں مگر سعودی عرب نے یورپ یا امریکہ سے ویکسین لگوا کر آنے والوں کے لیے ڈائریکٹ فلائٹس کی اجازت تو دے دی ہے لیکن پاکستان سے ویکسین لگوا کر جانے والوں کو ڈائریکٹ فلائٹس میں داخلے کی اجازت تاحال نہیں مل سکی۔

دوسری جانب سعودی عرب یا دبئی جانے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، خاص طور پر جنہیں کمپنیوں سے بلاوا آچکا ہے کہ وہ واپس آئیں ورنہ نوکری سے نکال دیا جائے گا۔

اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹریول ایجنٹس کئی گنا زیادہ کرائے وصول کر رہے ہیں۔

بااثر ٹریول ایجنٹس کینیا یا براستہ دبئی سعودی عرب لے جانے والوں سے دو سے ڈھائی لاکھ روپے یکطرفہ کرایہ وصول کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے چارٹرڈ فلائٹس بک کر کے سروس شروع کر رکھی ہے۔

کرایوں میں اضافہ کیوں؟

ارسلان ٹریولز نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن لاہور کے صدر اظہر محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی چوتھی لہر کے بعد سے سعودی عرب نے پاکستان یا بعض دیگر ممالک سے ویکسین لگوانے والوں کے لیے براہ راست داخلے پر پابندی نہیں اٹھائی اس لیے کئی ٹریول ایجنٹس پی آئی اے اور سیرین ایئر لائن کا پورا چارٹرڈ بک کرتے ہیں اور بذریعہ کینیا اور دبئی میں قرنطینہ کر کے 15 روز بعد سعودی عرب لے جاتے ہیں۔

’سعودی عرب کی براہ راست فلائٹ کی جو ٹکٹ 45 ہزار روپے کی تھی اب وہ دو سے ڈھائی لاکھ میں مل رہی ہے۔‘

اظہر محمود کے مطابق ’جو سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں ان کی مجبوری ہے، اسی طرح براہ راست فلائٹ کا کرایہ بھی سوا لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس صورت حال میں ٹریول ایجنٹس اور حکومت دونوں کمائی کر رہے ہیں اور ایک ماہ میں صرف لاہور سے دس ہزار مسافر سعودی عرب سفر کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ ایئر لائنز کے کرایوں میں آفیشل اضافہ ہوئے بغیر کیسے زیادہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دبئی کا یکطرفہ کرایہ 35 ہزار سے تجاوز کر کے 70 سے 75 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے حالانکہ پاکستان میں ویکسین لگوانے والوں کو دبئی میں براہ راست فلائٹس سے داخلے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

کیا چارٹرڈ طیارہ بک کرنا قانونی ہے؟

ترجمان پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز ( پی آئی اے) اطہر حسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے سمیت کئی ایئر لائنز میں قانونی طور پر کوئی بھی چارٹرڈ طیارہ مطلوبہ رقم ادا کر کے بک کرایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ان کے اپنے ملک، یورپی ممالک یا امریکہ سے کرونا ویکسین لگوانے والوں کو براہ راست داخلہ کی اجازت دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جنہوں نے پاکستان سے ویکسین لگوائی ہے انہیں براہ راست داخلہ کی اجازت نہیں۔ لہذا جو یہاں سے ویکسین لگوا کر جا رہے ہیں انہیں ٹریول ایجنٹس چارٹرڈ فلائٹس سے کینیا یا دبئی لے جاتے جہاں 15 دن قرنطینہ کر کے بعد انہیں سعودی عرب پہنچایا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’دوسرے ممالک لے جاکر قرنطینہ کرنے، کھانے پینے اور دوبارہ سعودی عرب لے جانے کے اخراجات کی مد میں وہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے فی مسافر کرایہ وصول کر رہے ہیں۔‘

ساہیوال کے رہائشی علی ندیم جو سعودی عرب میں گذشتہ دس سال سے ایک الیکٹرانک سٹور پر ملازمت کرتے ہیں چند ماہ پہلے پاکستان آئے تھے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دو ماہ کی چھٹی پر آئے تھے، اس وقت ویکسین لگنا شروع نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ سعودی عرب میں سفری پابندی کے باعث مقررہ وقت پر واپس نہیں جاسکے۔

اب وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہاں (پاکستان) سے کرونا ویکسین بھی لگوا لی لیکن انہیں براہ راست جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ سٹور سے کالز آ رہی تھیں کہ وہ جلد واپس پہنچیں کیونکہ اب تو واپس آنے پر پابندی نہیں۔‘

علی کے بقول انہوں نے اپنے مینیجر کو آگاہ کیا کہ براہ راست فلائٹ سے آنے پر پابندی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ پھر کوئی اور ملازم رکھ رہے ہیں لہذا نوکری کی مجبوری میں چارٹرڈ فلائٹ سے دو لاکھ 60 ہزار روپے کا ٹکٹ خریدا ہے جو بذریعہ کینیا لے کر جائیں گے۔

’کیا کریں نوکری بچانا بھی مجبوری ہے ادھار لے کر ٹکٹ لی ہے، واپس جاکر تنخواہ سے قرض واپس ہوسکتا ہے لیکن نوکری چلی جائے تو زیادہ مشکل ہوتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان