آئی فون کو مالک کی مرضی کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے

’آئی میسیج‘ میں چھ خامیاں ملی ہیں، جن میں سے ایک ابھی تک دور نہیں کی گئی: سکیورٹی ماہرین۔

آئی فون کی خامیاں گوگل کے ’پراجیکٹ زیرو پروگرام‘ کے تحت تلاش کی گئیں (اے ایف پی)

ڈیجیٹل سکیورٹی سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایپل کمپنی کے آئی فونز میں ایک ایسی خامی ہے جس کی مدد سے فون کو مالک کی مرضی کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گوگل کے مختلف آپریٹنگ سسٹمز میں خامیاں تلاش کرنے والے عملے نے کہا ایپل کی ٹیکسٹ پیغام کی ایپلی کیشن ’آئی میسیج‘ میں چھ خامیاں ملی ہیں، جن میں سے ایک ابھی تک دور نہیں کی گئی۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آئی فون کی یہ خامی ’ناقابل رابطہ‘ ہے جس کا مطلب یہ کہ آئی فون استعمال کرنے والے کو کسی دوسرے شخص کی جانب سے فون میں موجود خامی کا فائدہ اٹھانے کی اجازت دینے کے لیے کچھ نہیں کرنا پڑتا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے آئی فون میں موجود خامیوں کی وجہ سے ہیکر نہ صرف صارف کی فائلیں دیکھ سکتے ہیں بلکہ فون کے نظام کو مکمل خراب کر سکتے ہیں۔

آئی فون کی خامیاں گوگل کے ’پراجیکٹ زیرو پروگرام‘ کے تحت تلاش کی گئیں۔ اس پروگرام میں سکیورٹی تجزیہ کار شامل ہیں جو ہیکرز سے پہلے مختلف سافٹ وئیرز میں سنگین خامیاں تلاش کرتے ہیں۔ اس کے بعد مسئلہ عام کرنے سے پہلے موبائل فون ساز کمپنیوں کو 90 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔

موبائل فونز میں موجود خامیوں سے مختلف انداز میں غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جن میں دور بیٹھ کر فائلوں تک رسائی اور فون کو کام سے مکمل طور پر روک دینا شامل ہے۔

گذشتہ ہفتے آئی فون کی پانچ خامیاں اس کا آپریٹنگ سسٹم 12.4 اپ ڈیٹ کر کے دور کر دی گئی تھیں لیکن چھٹی مبینہ خامی ابھی تک ٹھیک نہیں کی جا سکی۔ اس خامی کے بارے میں گوگل کی جانب سے ایپل کمپنی کی 90 کی مہلت تک کچھ نہیں بتایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی فون میں خامی تلاش کرنے والے تحقیق کاروں میں سے ایک نطالی سلوانوویچ نے خامی کو ’ناقابل رابطہ‘قرار دیا، جس کا مطلب ہے کہ ہیکر فون کے مالک کی جانب سے کچھ کیے بغیر اس خامی سے غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

نطالی سلوانوویچ نے اپریل میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا آئی فون میں کوئی خامی درست کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ اسے بند کر کے نئے سرے سے ریکوری کی جائے جس سے فون کا ڈیٹا ضائع ہو گا۔

ایپل ترجمان نے کہا: ’صارفین کے تحفظ کے لیے کمپنی تحقیقات مکمل ہونے تک فون کے سکیورٹی مسائل کے بارے میں بتائے گی نہ انہیں زیر بحث لایا جائے گا جبکہ سکیورٹی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری سافٹ ویئر پیچز دستیاب ہیں۔‘

’آپ کے موبائل فون کی سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے اس کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ رکھنا سب سے اہم ہے۔‘

گوگل نے موبائل فونز میں سکیورٹی مسائل کی نشاندہی کے لیے پراجیکٹ زیرو 2014 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد لوگوں کو ہیکروں کے حملے سے محفوظ رکھنا ہے۔

اس س پہلے گوگل نے مائیکروسافٹ اور فیس بک کی سروسز اور پلیٹ فارم میں موجود خامیوں کی نشاندہی بھی کی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی