بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کیوں توڑی گئی؟

نوابزادہ نصر اللہ خان اور معراج خالد کے علاوہ دو اور کردار تھے جو اس صورت حال سے کئی روز سے باخبر تھے اور یہ دونوں بے نظیر بھٹو کے ’انکل‘ کہلاتے تھے۔

سات اگست، 1990 کو شائع ہونے والے جنگ اخبار کی شہ سرخی کا عکس

چھ اگست 1990 کو صدرغلام اسحاق خان نے محترمہ بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے احکامات تو شام پانچ بجے جاری کیے، لیکن ملتان کے اخبارات کو اسمبلی توڑے جانے اور بے نظیر حکومت کے خاتمے کے بارے میں نوابزادہ نصراللہ خان کا بیان سہ پہر کو ہی موصول ہو گیا تھا۔

نوابزادہ نصر اللہ خان اس روز ملتان میں تھے اور انہیں یہ خبر اُس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی معراج خالد نے دی تھی۔ معراج خالد کو صبح سے ہی معلوم تھا کہ آج حکومت ختم اور اسمبلیاں توڑی جا رہی ہیں لیکن انہوں نے اس خبر سے وزیراعظم کو مطلع کرنے کے بجائے اپوزیشن رہنما کو آگاہ کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔

دو اور کردار تھے جو اس صورت حال سے کئی روز سے باخبر تھے اور یہ دونوں بے نظیر بھٹو کے ’انکل‘ کہلاتے تھے۔ ان میں سے ایک غلام مصطفی جتوئی تھے جنہوں نے نگران وزارت عظمیٰ سنبھالنا تھی اور دوسرے غلام مصطفی کھر، جنہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں بری طرح شکست کھانے والے اپنے دیرینہ دوست غلام مصطفی جتوئی کو ضمنی الیکشن میں اپنے آبائی حلقے سے شاید اسی دن کے لیے کامیاب کروایا تھا۔

چھ اگست کو غلام مصطفی جتوئی صبح سے ہی اپنے گھر سے غائب تھے۔ وہ ہالی ڈے ان کے کمرہ نمبر555 میں غلام مصطفیٰ کھر کے ساتھ موجود تھے۔ کمرے کے باہر ’ڈسٹرب مت کریں‘ کی تختی آویزاں تھی۔

دوپہر تک مصطفی جتوئی یہیں کھر کے ساتھ موجود رہے اور اس کے بعد نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔ حکومت کے خاتمے کا فیصلہ تو دوروز پہلے ہوچکا تھا۔ بہت سے لوگوں کو اس فیصلے سے نہ صرف یہ کہ مکمل آگاہی تھی بلکہ انہیں اس حد تک یقین بھی تھا کہ چھ اگست کی صبح نوائے وقت راولپنڈی میں عارف نظامی کے نام سے یہ خبر شائع ہوئی کہ آج غلام اسحاق خان اسمبلیاں توڑدیں گے اور نگران حکومت قائم کردی جائے گی اور غلام مصطفی جتوئی نگران وزیراعظم ہوں گے۔

اس کے علاوہ عارف نظامی نے اس خبر میں چاروں صوبوں کے متوقع گورنروں اور متوقع وزرائے اعلیٰ کے نام بھی شائع کر دیے تھے۔ اس خبر کا بھی حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا۔

خواجہ احمد طارق رحیم نے صبح کابینہ کے اجلاس میں بتایا کہ آج صدر اہم فیصلہ کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کااجلاس آٹھ اگست کو طلب کرنے سے متعلق جو سمری چار روز قبل ایوان صدر کو ارسال کی گئی تھی اس پر اب تک کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔

ان اطلاعات کے بعد بے نظیر بھٹو نے خود صدراسحاق کو فون کیا اور دریافت کیا: ’کیا آپ اسمبلیاں توڑ رہے ہیں؟‘ صدر نے جواب دیا: ’یہ سب افواہیں ہیں، میں کوئی غیرآئینی کام نہیں کروں گا۔‘ یہ فون دوپہر کے وقت کیا گیا۔

اس وقت تک محترمہ کو ان کے انٹیلی جنس اداروں نے بھی ایسی کوئی خبر نہیں دی تھی، فوج البتہ چوکس تھی۔ ساڑھے تین بجے سہ پہر اسلام آ باد کے کچھ علاقوں سے فوج کے دس، بارہ ٹرک گزرتے دکھائی دیے جن کے آگے ایک جیپ تھی۔

جیپ اور ٹرکوں میں سوار فوجیوں نے سب مشین گنوں کو الرٹ انداز میں اٹھا رکھا تھا اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر تھیں۔ یہ قافلہ ایف 8 سے ہوتا ہوا بلیو ایریا کے اس میدان میں رک گیا جہاں کچھ عرصہ قبل قومی صنعتی نمائش منعقد ہوئی تھی۔ سوا چاربجے یہاں سے فوجی دستوں کو طے شدہ ٹھکانوں پر تیزی سے پہنچنے کا حکم ملا۔

چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی ایڈمرل افتخاراحمد سروہی اس روز ملتان میں تھے۔ دوپہر کے وقت انہیں ملتان سے فوراً اسلام آباد پہنچنے کے احکامات موصول ہوئے۔ انہوں نے ملتان کے کور کمانڈر جنرل حمید گل کو بھی صدرکے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

ساڑھے چار بجے کے لگ بھگ سینیئر صحافیوں کو فوری طورپر ایوان صدر پہنچنے کے لیے کہا گیا، جہاں شام پانچ بجے صدرغلام اسحاق خان نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ وہ اس سے پہلے محترمہ بےنظیر بھٹو کو اسمبلی توڑنے کے فیصلے سے آگاہ کر چکے تھے۔

صدر کی پریس کانفرنس میں بے نظیر حکومت کے خاتمے کی جو وجوہات بیان کی گئیں وہ کم وبیش وہی تھیں جو جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988 کو محمد خان جونیجو حکومت کے خاتمے کے وقت بیان کی تھیں۔

تاہم حقائق کچھ اور تھے۔ حکومت کی برطرفی کا اعلان کرنے کے بعد غلام اسحاق خان ایوان صدر کی بالائی منزل پرپہنچے تو بے نظیربھٹو سے تمغہ جمہوریت حاصل کرنے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ سمیت پاک فوج کی پوری قیادت وہاں موجودتھی۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کا دیرینہ خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔ وہ چور دروازے سے ہی سہی لیکن وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ صدرغلام اسحاق خان نے فوجی قیادت کی موجودگی میں غلام مصطفیٰ جتوئی سے نگران وزیراعظم کا حلف لیا۔

ان کے ساتھ چار رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا، جس میں رفیع رضا، غلام مصطفیٰ کھر، سرتاج عزیز اور الٰہی بخش سومرو شامل تھے۔ اسی روز پنجاب میں غلام حیدر وائیں اور سندھ میں جام صادق علی نے نگران وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

بےنظیر حکومت کے خاتمے کی کوششیں تو بہت عرصے سے جاری تھیں۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی گئی جو ناکام ہو گئی تھی۔ سندھ اورافغانستان کے معاملات پر بھی فوج کے ساتھ ان کے اختلافات جاری تھے۔ اس کے علاوہ راجیو گاندھی کے ساتھ اسلام آباد میں ان کی ملاقات بھی مقتدر قوتوں کو بہت ناگوار گزری تھی۔

اس موقعے پر بے نظیر بھٹو پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے خالصتان تحریک کے لیڈروں کی فہرستیں راجیو گاندھی کر دی تھیں۔ شیخ رشید احمد اور نواز شریف جیسے مخالفین اسے کشمیریوں کے خلاف سازش قراردے رہے تھے۔

بےنظیر بھٹو کے خلاف پہلے روز سے ہی نوازشریف نے محاذ گرم کر رکھا تھا۔ وہ حکومت کے خاتمے کے لیے کوئی موقع نہیں گنوانا چاہتے تھے اس لیے جب اسحاق خان نے انہیں بتایا کہ پنجاب اسمبلی توڑی جا رہی ہے تو وہ بخوشی غلام حیدروائیں کے حق میں دستبردار ہو گئے۔

اس سارے عرصے کے دوران آصف علی زرداری کی حکومتی معاملات میں مداخلت کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بن رہی تھیں اور انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی دیا جا چکا تھا۔

لیکن اس کے باوجود امریکہ کو بے نظیر حکومت کے خاتمے کی فوری ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ انہیں امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اس دوران یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ پاکستان میں امریکی سفیر رابرٹ اوکلے نے چند امریکی سینیٹروں کے ہمراہ غلام اسحاق خان سے ملاقات کی اور انہیں یہ پیغام دیا کہ بے نظیر حکومت کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔

تو پھرفوری وجہ کیا بنی کہ امریکہ کوبھی خاموشی اختیار کرنا پڑ گئی؟ دو اگست 1990 کا واقعہ بے نظیر حکومت کے خاتمے کی اصل وجہ۔ اس روز عراق نے کویت پر قبضہ کرلیا تھا اور کویتی حکمرانوں کو فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب پاکستان کے لیے اپنے دیرینہ دوست سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اپنی فوج وہاں بھیجنا ضروری ہو گیا تھا اور یہی وہ مرحلہ تھا جب غلام اسحاق خان کے لیے بے نظیر حکومت کے خاتمے کے لیے حمایت حاصل کرنا آسان ہو گیا۔

پاکستان میں اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے ایک ہی انداز میں کھیلا جا رہا ہے۔ کچھ طاقتیں ہیں جو تسلسل کے ساتھ اس کھیل کاحصہ ہیں اور کچھ مہرے ہیں جو اس کھیل میں اپنی باری کے منتظر رہتے ہیں۔

1990 میں اسٹیبلشمنٹ کے مہروں میں نوازشریف اور غلام مصطفیٰ جتوئی سب سے نمایاں تھے اور وہ ہرقسم کا کردار نبھانے کے لیے تیارتھے۔ میوزیکل چیئرز کا یہ کھیل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ کب تک جاری رہے گا یہ انہی قوتوں کوعلم ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ