بھارت کی زور آزمائی کا ردعمل پلوامہ جیسے واقعات ہو سکتے ہیں: وزیراعظم

قومی اسمبلی میں کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم عمران خان کا خطاب؛ مجوزہ ردعمل ترتیب دینے کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم۔

اسمبلی میں اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد بھارت کی کسی آئینی تبدیلی سے ختم نہیں ہوگی (پی آئی ڈی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور بھارت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی نیم خودمختار حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس منگل کو ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا پالیسی بیان دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا جس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر بھی شریک تھے۔

وزیراعظم راجہ فاروق بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر اسمبلی پہنچے جبکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی ایوان میں موجود تھے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، رضا ربانی، راجہ ظفر الحق، مشاہد اللہ خان، حاصل بزنجو، حنا ربانی کھر، مریم اورنگزیب اور ایاز صادق بھی اجلاس میں شریک تھے۔

وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیرکی موجودہ صورتحال کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس میں بھارتی فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کا ذکر شامل تھا۔

اسمبلی میں اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد بھارت کی کسی آئینی تبدیلی سے ختم نہیں ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری بھارت کے اقدامات زور آزمائی کے ہیں اور اس کا ردعمل پلوامہ جیسے واقعات کی صورت میں ہوگا۔ ’میں پیشگوئی کرتا ہوں، بھارتی حکومت وہی کرے گی جو پہلے کیا۔ یہ پاکستانی حکومت کو الزام دیں گے۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کی آئیڈیالوجی نسل پرستی پر مبنی ہے۔ ’یہ نسلی برتری پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آنے والا رد عمل پلوامہ جیسا ہی ہو سکتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں روایتی جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو ہمارے سامنے یا تو ٹیپو سلطان والا راستہ ہو گا یا بہادر شاہ ظفر والا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’بحیثیت مسلمان ہم امن کی کوشش اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں انسانیت کی فکر ہے۔ لیکن اگر ہم خون کے آخری قطرے تک جنگ لڑنے پر مجبور ہوں گے تو وہ ایسی جنگ ہوگی جس میں کوئی نہیں جیتے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں ایٹمی جنگ کی دھمکی نہیں دے رہا، کامن سینس کی بات کر رہا ہوں۔ اس سارے معاملے کا انجام کیا ہوگا؟ کیا دنیا اس سارے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے؟ اگر اس وقت کوئی اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا تو یہ سب کچھ بہت آگے چلا جائے گا۔‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی پارٹی نے الیکشن میں وہ حرکتیں کی ہیں جو نازیوں نے جرمنی میں کی تھیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ یہ وہ آئیڈیالوجی ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا۔ ’اگر دنیا آج اپنے بنائے ہوئے قوانین کو نافذ نہیں کرتی تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ بھارت کے اس عمل کے نتائج ساری دنیا کو متاثر کرسکتے ہیں۔‘

اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس سیشن کی اہمیت صرف کشمیریوں اور پاکستان کے لیے نہیں ہے بلکہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت کے اس قدم کے خلاف ہر فورم پر لڑے گا، اسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھائے گا اور بتائے گا کہ اس کا نقصان ساری دنیا کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس پر غور کر رہی ہے کہ کس طرح اس مسئلے کو قوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل یا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اٹھائے۔ ’کشمیریوں کے ساتھ سارا پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلمان دنیا کی آواز ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا: ’کشمیر کی تحریک بھارت کی ایک آئینی تبدیلی سے ختم نہیں ہو سکتی۔ دنیا کو نہیں معلوم کہ کشمیر میں کیا مظالم ہو رہے ہیں۔ دنیا ایک طرف کہتی ہے کہ ایٹمی بلیک میلنگ نہ کرو اور دوسری طرف بھارت کے اقدامات پر نظر نہیں رکھتی۔ میں ایک بار پھر وارننگ دیتا ہوں کہ اگر اس معاملے کا نوٹس نہیں لیا گیا تو بات دور تک جائے گی۔‘

کمیٹی تشکیل

اجلاس کے بعد منگل کی شام کو وزیراعظم نے ایک سات رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی جو سیاسی، سفارتی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور کشمیر کی صورتحال پر پاکستان کا مجوزہ ردعمل ترتیب دے گی۔ 

ایک علامیے کے مطابق یہ کمیٹی وزیر خارجہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری خارجہ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی (ملٹری آپریشنز)، ڈی جی (آئی ایس پی آر) اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی پر مشتمل ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا