فلپائنی ملکہ حسن اور فلسطین کے خواب

رواں برس مقابلے میں شامل 40 دیگر خواتین کو پیچھے چھوڑ کر غازینی کرسٹینا مس فلپائن کا مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔

5

غزینی نے 15 برس کی عمر میں ماڈلنگ شروع کی اور 2014 آتے تک وہ مس فلپائن مقابلے کے لیے منتخب ہونا شروع ہو چکی تھیں۔(انسٹاگرام)

24 سالہ غازینی کرسٹینا کی آنکھیں انہیں اپنے باپ سے ملیں اور ان کے بال بالکل ان کی ماں جیسے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ سب انہیں اس لیے بہت پسند ہے کیوں کہ ان کے ماں باپ کی علیحدگی کے بعد غازینی کا چہرہ ہی انہیں احساس دلاتا ہے کہ وہ دونوں کبھی اکٹھے بھی تھے۔ 

فلسطینی باپ اور فلپائنی ماں کی اولاد غازینی کرسٹینا جورڈی گانادوس اپنی خوبصورتی، خاص طور پر لمبی ناک اور قد کے لیے اپنے والد کو کریڈٹ دیتی ہیں۔ مس یونیورس مقابلے کے لیے فلپائن سے منتخب ہونے والی غازینی کبھی نہ کبھی اپنے عرب باپ سے ملنے کی آرزو رکھتی ہیں۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ’مجھے ماں باپ کی علیحدگی کے حوالے سے کوئی بھی پچھتاوا نہیں ہے لیکن پھر بھی میں کبھی نہ کبھی اپنے باپ سے ملنا چاہوں گی۔ بلکہ میں تو ان کا شکریہ ادا کروں گی اور یہ دیکھ کر خوش ہوں گی کہ وہ زندہ ہیں۔‘

’مجھے ان کے خاندان سے مل کر خوشی ہو گی۔ کیا خبر میرے دادا یا دادی اب تک زندہ ہوں؟ یا شاید میری کوئی سوتیلی بہن ہو یا بھائی ہو۔ میں ساری زندگی اکیلی پلی بڑھی ہوں، میری شدید خواہش تھی کہ میرا ایک بڑا سا خاندان ہوتا۔‘

’میرا نام ’غازینی‘ میری ماں نے رکھا تھا اور یہ میرے باپ کے ہی نام پر تھا۔ ان کا نام غسان تھا۔ کرسٹینا کا لفظ میرے نام میں اس لیے آیا چونکہ میری ماں ایک مذہبی کیتھولک خاتون ہیں اور جورڈی شاید دریائے جورڈن سے متاثر ہو کے رکھا گیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غازینی نے 15 برس کی عمر میں ماڈلنگ شروع کی اور 2014 آتے تک وہ مس فلپائن مقابلے کے لیے منتخب ہونا شروع ہو چکی تھیں۔

رواں برس مقابلے میں شامل 40 دیگر خواتین کو پیچھے چھوڑ کر وہ مس فلپائن کا مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔ وہ مقابلہ جیتنے کے بعد ان کی منزل قریب تھی۔ دنیا کے سب سے بڑے مقابلہ حسن ’مس یونیورس‘ میں شرکت ان کا وہ خواب تھا جس کا ذکر وہ اپنی ماں سے بھی کیا کرتی تھیں۔ 

غازینی کہتی ہیں کہ یہ سب میری ماں کے بغیر کبھی ممکن نہ ہوتا۔ ’سنگل مدر کے طور پر جیسی تربیت میری ماں نے کی، اس نے مجھے مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ باپ کا سایہ سر پہ نہ ہونے کی وجہ سے میری ماں مجھے بتاتی تھیں کہ اگر کوئی مرد ایک کام کر سکتا ہے تو دیکھو، ایک عورت بھی وہی سب کچھ کر سکتی ہے۔ میں فخر محسوس کرتی ہوں کہ میری ماں ایک مضبوط عورت ہے۔‘

وہ اپنے نانا نانی کے بہت قریب ہیں اور اگر وہ یہ مقابلہ جیت گئیں تو ان کا ارادہ ہے کہ وہ بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گی۔ وہ فلپائن کے ہر صوبے میں ایسے گھر بنانا چاہتی ہیں جہاں بوڑھے لوگوں کی بہترین دیکھ بھال کی جائے اور وہ اپنی زندگی آرام سے گزار سکیں۔ غزینی کرسٹینا کے مطابق فلپائن ہو یا عرب ثقافت، دونوں جگہ خاندان کے بوڑھے افراد برابر قابل عزت ہوتے ہیں۔ 

’میں نے عرب معاشرے کے بارے میں بہت سی اچھی باتیں سن رکھی ہیں۔ ان کے کھانے بہت مزے کے ہوتے ہیں۔ میں فلسطین کی بہت سی باتیں گوگل پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھتی رہتی ہوں۔ وہاں کا طرز تعمیر، وہاں کی ثقافت، سب مجھے بہت دلچسپ لگتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن میں وہاں جانے میں کامیاب ہو جاؤں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن