پشاور سے تعلق رکھنے والے افغان کرکٹر محمد شہزاد کا کنٹریکٹ معطل

افغانستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری شدہ بیان کے مطابق بیرون ملک سفر کے لیے ہر کھلاڑی کو بورڈ سے پیشگی اجازت لینی ہوتی ہے جو شہزاد نے نہیں لی تھی۔ بورڈ کے مطابق شہزاد نے اس پالیسی کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے۔

محمد شہزاد 2018 کے ایشیا کپ میں سنچری سکور کرنےکے بعد۔ (اے ایف پی)

افغانستان کرکٹ بورڈ نے ہفتے کو قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر (اور بلے باز) محمد شہزاد کا کنٹریکٹ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر غیرمعینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق بیرون ملک سفر کے لیے ہر کھلاڑی کو بورڈ سے پیشگی اجازت لینی ہوتی ہے جو محمد شہزاد نے نہیں لی تھی۔ بورڈ کے مطابق شہزاد نے اس پالیسی کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے۔

خیال ہے کہ شہزاد پشاور میں مقیم ہیں اور وہیں پریکٹس بھی کرتے رہے ہیں۔

بورڈ کے بیان کے مطابق شہزاد نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں بھی افغان بورڈ کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورّی کی جس پر انہیں انضباطی کمیٹی نے تفتیش کی لیے طلب کیا تھا۔ بورڈ کے جاری شدہ بیان کے مطابق شہزار گذشتہ ماہ کی 20 اور 25 تاریخ کو کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورڈ کے بیان کے مطابق ڈسپلنری کمیٹی عید کے بعد دوبارہ محمد شہزاد کی مذکورہ خلاف ورزیوں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی۔

بورڈ کا اصرار تھا کہ افغانستان کے اندر پریکٹس کے لیے مناسب آلات سے لیس تربیتی سہولتیں دستیاب ہیں لہذا کھلاڑیوں کو اس مقصد کے لیے ملک سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

بورڈ نے گذشتہ برس شہزاد کو واپس افغانستان میں مستقل طور پر بسنے کے لیے کہا تھا ورنہ دھمکی دی تھی کہ ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا جائے گا۔

افغانستان کی ٹیم کے کئی کھلاڑی پشاور میں ہی پلے بڑھے ہیں۔ محمد شہزاد نے شادی بھی پشاور ہی میں کر رکھی ہے۔

مبصرین اسے ان کے کرکٹ کرئیر میں ایک مشکل دور قرار دے رہے ہیں۔ انہیں برطانیہ میں ہونے والے ورلڈ کپ سے بھی جلد واپس وطن بھیج دیا گیا تھا اور وجہ ان کی ٹخنے کا زخمی ہونا بتائی گئی تھی لیکن ان کے بقول وہ ٹھیک تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ