دریا جس کا رنگ پراسرار طور پر اچانک چمکدار نیلا ہو گیا

برطانوی حکام سمرسیٹ کاؤنٹی کے ایک دریا کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جس کے پانی کا رنگ پراسرار طور پر اچانک چمکدار نیلے رنگ میں تبدیل ہو گیا۔

سرکاری ماہرین اس ہفتے کے آخر تک اس دریا  کی نگرانی جاری رکھیں گے اور جانچ کے لیے پانی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں(ماحولیاتی ایجنسی)

برطانوی حکام سمرسیٹ کاؤنٹی کے ایک دریا کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جس کے پانی کا رنگ پراسرار طور پر اچانک چمکدار نیلے رنگ میں تبدیل ہو گیا۔

برطانیہ کی ماحولیاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ دریائے فروم کے معاون دریا کی رنگت کو شدید متاثر کرنے والی تبدیلی ’آلودگی کا واقعہ‘ تھا۔

ایجنسی کے جنوب مغربی کمان کے ترجمان نے جمعے کو بتایا کہ اس تبدیلی سے آبی حیات کے متاثر ہونے یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

سرکاری ماہرین اس ہفتے کے آخر تک اس دریا کی نگرانی جاری رکھیں گے اور جانچ کے لیے پانی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے مقامی رہائشیوں نے اس دریا کی صورتحال کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے۔

2018 میں ماحولیاتی تحفظ کی مہم چلانے والوں نے دریائے فروم کو آلودگی سے بچانے کے لیے فروم ٹاؤن کونسل کے ساتھ مل کر ایک ضمنی قانون پر کام کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق مرکزی حکومت کی منظوری حاصل کرنے کے لیے درخواست وزارت ہاؤسنگ، کمیونٹیز اور بلدیاتی حکومت (ایم ایچ سی ایل جی) کو دی گئی تھی۔

مہم چلانے والوں نے کہا کہ ایم ایچ سی ایل جی اس درخواست کو کافی وقت تک دوسرے کئی محکموں کو بھجواتی رہی جب تک ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نیچرز رائٹس کی وکیل ممتا اِتو نے انہیں خط نہیں لکھا۔ اس خط کے بعد ایم ایچ سی ایل کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ اس حوالے سے مارچ میں فیصلہ کیا جائے گا۔

تاہم قانون سازی کے لیے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایم ایچ سی ایل جی سے اس بارے میں تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

سمرسیٹ میں یہ واحد پراسرار واقعہ نہیں ہے کیونکہ اس سے ایک ہفتہ قبل دریائے شیپی میں ہزاروں مردہ مچھلیاں پائی گئی تھیں۔

لگ بھگ چھ ہزار ٹراؤٹ، بل ہیڈز اور دیگر اقسام کی مچھلیوں کی اموات کا ذمہ دار آلودگی کو ٹھہرایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ماحولیات کی ایجنسی نے پانی میں آکسیجن کی سطح کو بڑھانے کے لیے دریا پر ہائیڈروجن پیرو آکسائیڈ کا سپرے بھی کیا تھا۔   

   

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات