’سپر سٹار‘ پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے روشن ستارہ

ہدایت کار احتشام الدین کا کمال یہ ہے کہ ایک لڑکا لڑکی کی محبت کی سادہ سی داستان میں سنیما کا جادو چلا دیا اور اذان سمیع خان کے سکرین پلے نے اس میں مزید رنگ بھر دیے۔

فلم سپرسٹار سے ایک سین (بشکریہ ہم فلمز)

پاکستانی فلم ’سپر سٹار‘ بنیادی طور پر محبت کے مد وجزر کی داستان ہے، جہاں اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے آگے بڑھنا، تیزی سے اوپر جانا اور پھر محبت کی خاطر واپس نیچے جانا ہوتا ہے۔

ماہرہ خان اور بلال اشرف کی فلم ’سپر سٹار‘ محبت کی سادہ سی داستان ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سمیرخان (بلال اشرف) پاکستانی فلموں کے سپرسٹارہیں جبکہ نورملک (ماہرہ خان) ایک تھیٹرمیں کام کرتی ہے جو اس کے دادا آغاجان (ندیم بیگ) چلاتے ہیں۔

آغا جان ماضی کے بہت بڑے فلمی ہدایت کار ہیں مگراب انہوں نے خود کو صرف تھیٹر تک محدود کرلیا ہے۔

نور فلموں میں کام کرنا چاہتی ہے اوراسی تگ و دو میں چھوٹے موٹے ٹی وی اشتہارات میں کام کرتی رہتی ہے کہ اچانک ایک بڑا شتہار ملتا ہے اور وہاں سمیر سے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔ جلد ہی دونوں میں ایک دوسرے کے لیے انسیت پیدا ہوجاتی ہے جو رفتہ رفتہ محبت پھر عشق میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

سمیرخان ایک بہت بڑے صنعت کار ذوالفقارخان (جاوید شیخ) کا بیٹا ہے جنہیں اس کا فلموں میں کام کرنا بالکل پسند نہیں۔ وہ اسے اپنے ساتھ کاروبار میں لگانا چاہتے ہیں۔ سمیر کی والدہ لیلیٰ خان (مرینہ خان) ماضی کی مقبول فلمی اداکارہ ہیں جن سے فلموں کا شوق سمیر کو ورثے میں ملا ہے۔

مختصر یہ کہ ایک دن سمیر اپنے ہدایت کار دوست شان (علی کاظمی) کےساتھ نور کا تھیٹر دیکھنےجاتا ہےجہاں اس کی عمدہ اداکاری دیکھ کر شان اسے اپنی پہلی فلم میں سمیر خان کے ساتھ کاسٹ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اس مقام تک کہانی کافی روایتی مگرپرکشش ہے، اور اسی مقام سے کہانی میں ایک غیر روایتی اور دلچسپ موڑ آتا ہے جب سمیر کی خودغرضی اسے دوسری طرف کھینچ لیتی ہے۔

فلم کے پہلے چند منٹ کہانی ذرا سست رفتاری سے آگے بڑھتی ہے، مگر پھر جلد ہی رفتار پکڑلیتی ہے اور شروع ہوتا ہے سینما کا جادو۔

 

ہدایت کار احتشام الدین کا کمال یہ ہے کہ ایک لڑکا لڑکی کی محبت کی سادہ سی داستان میں سینما کا جادو چلادیا اور اذان سمیع خان کے سکرین پلے نے اس میں مزید رنگ بھر دیے۔

اگر ہم اداکاری کی بات کریں تو بلاشبہ ماہرہ خان نے اپنے تمام ناقدین کو کرارا جواب اپنے کام سے دیا ہے۔ نور کا یہ کردار یقیناً ماہرہ خان کے کرئیر کا اب تک کا سب سے بہتریں کردار ہے جس میں انہوں نے کئی سین میں اپنی جاندار، بےباک اور زندگی سے بھرپور اداکاری کی ہے۔ نور کی زندگی کے اتار چڑھاؤ، خاص کر فلم میں بطور تھیٹر اداکار  کا کردار  جس میں وہ مونچھ لگاکر انسپکٹر بنیں اور کبھی جادوگر کا کردار ادا کیا ،اور وہاں سے اس کی زندگی کے آگے کا سفر، غرض ہر سین میں انہوں نے دیکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور جتا دیا کہ آخر وہ سپرسٹار کیوں ہے۔ انہوں نےاپنی شخصیت نہیں بلکہ اپنی اداکاری سے متاثر کیا ہے۔ یہ فلم دیکھ کر آپ کو ماہرہ خان سے ایک دفعہ پھر پیار ہوجائےگا۔

دوسری جانب بلال اشرف نے پہلی بار بطور ایک رومینٹک ہیرو بہترین کام پیش کیا۔ بلال نے اس فلم کے لیے اپنے جسم کو کسرتی بنانے کے لیے خاص محنت کی ہے مگر انہوں نے یہ صرف ایک گانے کی حد تک محدود رکھا۔ ’دھڑک بھڑک‘ کے علاوہ ان کا سارا زور اپنی اداکاری اور ماہرہ خان سے سکرین پر پیار کرنے پر ہی رہا، جو ان کی سب سے بڑی کامیابی رہی۔

حقیقت یہ ہے کہ سینما کے بڑے پردے پر بلال اشرف نے ماہرہ خان کو فواد خان سے چھین لیا ہے۔ یہ دونوں سینما کی نئی اور بہت کامیاب جوڑی بن کرابھرے ہیں جن کی ایک دوسرے کے ساتھ کیمسٹری دیدنی اور قابلِ تحسین ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت فلم کا گانا ’بےکراں‘ ہے جو صرف ان دونوں ہی پر فلمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے گانے ’دوستوں‘ میں تقریباً  20 سیکنڈ کا سین اس کا دوسرا ثبوت ہے۔

اذان سمیع خان کے لکھے سکرین پلے میں ندیم بیگ صاحب کو بہت اہم کرداردیا گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح ندیم صاحب نے اسے نہایت اعلیٰ طریقے سے نبھایا ہے بلکہ شاید کوئی 10 سال بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ندیم صاحب پر کسی گانے کا حصہ فلمایا گیا ہے جو آپ کے لیے ماضی کے جھروکے کھول دے گا۔ ندیم صاحب کا سب سے دلچسپ سین جاوید شیخ کے ساتھ ہے جس میں وہ نورملک کے دادا اور جاوید شیخ سمیر خان کے والد کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہاں کہانی ایک متاثرکن مقام پر پہنچتی ہےاور کئی ادھورے سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیگر اداکاروں میں علی کاظمی نے بطور شان اپنا کردار بہت اچھا ادا کیا جبکہ مرینہ خان اور جاویدشیخ اگرچہ بہت مختصر وقت کےلیے پردے پر آئے مگر اثر چھوڑ گئے۔

’سپرسٹار ‘نے جہاں ماہرہ خان کے سٹار ہونے کی سند پر مہر لگائی وہیں پاکستانی سینما کو بلال اشرف کی شکل میں ایک  اورسپر سٹار دیا ہے۔ تاہم یہاں فلم میں ماہرہ خان کی بہن چھٹکی کا کردار ادا کرنے والی علیزے شاہ کا ذکر کرنا بہت ضروری ہو گا جن کی وجہ سے سینما کے پردے پر تازگی کا احساس ہوا۔ علیزے شاہ نے بطور چھٹکی اپنے بےساختہ جملوں اور بانکے پن سے اپنے ہرسین میں جان ڈال دی ۔اس لیے یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ ممکنہ طور پر اس فلم نے ایک ابھرتا ہوا ستارہ بھی دے دیا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ فلم میں کبریٰ خان کا آئٹم نمبر، سائرہ شہروز اور ہانیہ عامر کی بطور مہمان اداکار آمد بھی ہے جو فلم کی چاشنی میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

اگر ہم فلم کی موسیقی کی بات کریں تو اس فلم میں  سات  گانے ہیں جس کے باوجود فلم کا دورانیہ صرف دو گھنٹے 15 منٹ ہے۔ اس فلم کی موسیقی معروف موسیقار اور گلوکار عدنان سمیع خان اور راج کپور کے خواب ’حنا‘ کی زیبا بختیار کے صاحبزادے اذان سمیع خان نے ترتیب دی ہے جس میں جہاں ’دھڑک بھڑک‘ اور نوری جیسے ’ڈانس نمبرز‘ بھی ہیں وہیں میلوڈی سے بھرپور ’بےکراں‘ اور جیز سٹائل کا ’دوستوں‘ بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی گلوکارہ رکتیما مکھرجی نے ’دھڑک بھڑک‘ جبکہ بھارت ہی کے گلوکارہ سنیدھی چوہان نے ’نوری‘ گایا ہے۔ پاکستان بھارت کے درمیان جاری تناؤ کی تناظر میں یہ بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ ’انجانا‘ اور ’ان دنوں‘ پاکستان کے مقبول ترین گلوکار عاطف اسلم نے گائے ہیں۔ اس لیے اگر اس فلم کا کوئی پسِ پردہ سپر سٹار ہے تو وہ اذان سمیع خان ہیں۔

ہدایت کار احتشام الدین نے فلم کے ہر فریم پر محنت کی ہے۔ پاکستانی فلموں میں کلائمکس اچھے نہیں ہوتے ،یہ عام تاثر ہے، مگر اس فلم کا کلائمکس ہی اس کا سب سے دلچسپ مقام ہے۔

غرض یہ کہ پاکستانی فلم سپرسٹار ایک مکمل رومان پرور کہانی ہے جہاں محبت ، خوشی ، غم ، آنسو ، تفکر ، یقین بے یقینی، اعتبار، دھوکہ سب ہی کچھ ہے، جو عید کے موقع کی مناسبت سے بہترین تحفہ ہے، ایک ایسی فلم جو آپ کے اندر محبت کی چاہ بڑھا دے گی۔

Rating: 4.0 / 5.0

زیادہ پڑھی جانے والی فلم