آسٹریلیا میں بھارتی فلم فیسٹیول کے باہر کشمیر کے حق میں احتجاج

مظاہرے میں شامل ایک سکھ شہری نے کہا: ’بھارت نے جس طرح ہمارے ساتھ کیا اور پنجاب کو تین ریاستوں میں بانٹ دیا تھا، ٹھیک اسی طرح انہوں نے کشمیر کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔‘

شرکا نے بھارت کے خلاف اور کشمیر کے حق میں پلے کارڈز اٹھارکھے تھے (تصویر: فاطمہ جبین)

آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں جاری انڈین فلم فیسٹیول 2019 کے باہر پاکستانی، کشمیری اور سکھ کمیونٹی کی جانب سے کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

جمعرات (آٹھ اگست) سے شروع ہونے والا یہ فیسیٹول ہفتہ (17 اگست) تک جاری رہے گا۔ اس فیسٹیول میں بھارت کی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے مشہور اداکار اور ہدایت کار بھی شریک ہیں، جن میں کرن جوہر، ملائکہ اروڑا، ارجن کپور اور شاہ رخ خان شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہفتے کے روز ہونے والا یہ احتجاج میلبرن کے فیڈریشن سکوائر میں کیا گیا، جہاں انڈین فلم فیسٹیول جاری تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ گذشتہ 70 برس سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جارحیت جاری ہے اور اب نئی دہلی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

اس احتجاج میں بھارتی فلم فیسٹیول میں شریک میلبرن کے شہری اور دیگر راہ گیر بھی شامل ہوگئے جبکہ سکھ کمیونٹی کے افراد نے بھی اس احتجاج میں شرکت کی۔

میلبرن کی سکھ کمیونٹی کے رکن ہرویندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہم بھارت سرکار کے ظلم کے خلاف یہاں اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، کیونکہ اب تو انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ بھارت نے جس طرح ہمارے ساتھ کیا اور پنجاب کو تین ریاستوں میں بانٹ دیا تھا، ٹھیک اسی طرح انہوں نے کشمیر کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

میلبرن میں موجود پاکستانی کمیونٹی کی رکن صائمہ خان کا کہنا تھا: ’فلم فیسٹیول کے باہر احتجاج کا مقصد ہی یہ تھا کہ بھارتی اداکاروں کو پتا چلے کہ میلبرن میں رہنے والے پاکستانی اور کشمیری، بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جاری ظلم کے خلاف ہیں۔‘

انہوں نے زور دیا کہ ’پاکستانیوں اور خاص کر پاکستانی میڈیا کو کشمیر کے خلاف ہونے والے ظلم کو روکنے کے لیے آواز اٹھانی چاہیے، کیونکہ آج جو آگ کشمیر میں لگی ہے وہ کل کو ہمارے ہاں بھی پہنچ سکتی ہے۔

احتجاج کے شرکا نے بعد میں فیڈریشن سکوائر سے وکٹوریا سٹیٹ لائبریری تک مارچ بھی کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا