پاکستانی خواتین ہراساں کیے جانے کی شکایت کیوں نہیں کرتیں؟

بیشتر خواتین سمجھتی ہیں کہ اگر انہوں نے شکایت کی تو ان کے اور ان کی بہنوں کے رشتے نہیں ہوں گے یا انہیں ملازمت سے نکال دیاجائے گا۔

پاکستان میں خواتین کو شکایات کے لیے صرف موبائل ایپلیکیشن اور ہیلپ لائن کی سہولت دینے سے یا سخت قانون سازی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کے لیے شعور بیدار کرنے اور خواتین کی بات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

عالمی سطح پر کام کرنے والی تنظیم تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی جانب سے 2018 میں دس ممالک میں خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق کیے گئے ایک سروے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان واقعات کی سب سے بڑی وجہ مردوں کے لیے جنسی ضروریات (سیکس)کے مواقع کم ہونا اور عورتوں پر مردانہ سبقت کا احساس ہے جبکہ خواتین کو اپنی شکایات تسلیم کرانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

جن دس ملکوں میں سروے کیا گیا، ان میں بھارت کے بعد افغانستان، شام، صومالیہ، سعودی عرب، پاکستان، ری پبلک جمہوریہ کانگو، یمن، نائیجیریا اور امریکہ شامل ہیں۔

سروے کے بعد بھارت کو خواتین کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملک قرار دیا گیا جبکہ پاکستان فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔

ٹی آر ایف کے مطابق خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں مختلف طریقوں سے خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق شکایات معمول سے زیادہ ریکارڈ کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیشتر واقعات میں اکیلی خواتین کو مردوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی شرح زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل کے ایک افسر نے بتایا کہ انہیں زیادہ تر شکایات سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک سے متعلق موصول ہوتی ہیں جن میں تقریباً 68 فیصد شکایات ہراساں کرنے کی ہیں اور ان میں 90 فیصد شکایات خواتین کی جانب سے ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال ایف آئی اے کو ہراساں کرنے کی 4500 سے زائد شکایات موصول ہوئیں جبکہ رواں سال وصول ہونے والی شکایتوں کی تعداد 2100 سے زائد ہے۔ زیادہ تر شکایات کرنے والے خاندان یا متاثرہ فریق معاملے کو عدالت میں لے جانے سے پہلے ہی ختم کردیتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی اور اپنے خاندان کی ساکھ خراب نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی 85 فیصد شکایات ملزم کی جانب سے معافی نامہ لکھنے، تصاویر سوشل میڈیا سے ہٹانے اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کی یقین دہانی پر واپس لے لی جاتی ہیں۔ صرف 15 فیصد شکایات کرنے والےعدالت میں قانونی کارروائی کے لیے جاتے ہیں۔

آئی جی کمپلینٹ سیل ریکارڈ کے مطابق ہیلپ لائن نمبر8787 پر روزانہ آنے والی کالز کی تعداد 1200سے بڑھ کر7ہزار ہوچکی ہے جن پر فوری ردعمل دیا جا رہا ہے۔ ان میں 18 فیصد سے زائد کالز خواتین کو ہراساں یا تنگ کیے جانے سے متعلق ہوتی ہیں۔

سماجی اور قانونی امداد

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں چند روز پہلے خواتین کو بازار میں نوجوانوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے دو مختلف واقعات سامنے آئے، جہاں  ٹھوکر نیاز بیگ اور ساندھا کے علاقے میں اوباش نوجوانوں نے خواتین کو ہراساں کیا۔

یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو لاہور پولیس کے سربراہ بی اے ناصر کے حکم پر ان دونوں نوجوانوں طیب علی اور اشرف خان کو حراست میں لے کر پولیس نے اپنی مدعیت میں ان کے خلاف مقدمات درج کیے۔

قانون دان شعیب چوہدری کے مطابق ان دفعات کے تحت خواتین سے معمولی بدتمیزی یا چھیڑ خوانی پر زیادہ سے زیادہ تین ماہ سزا ہوتی ہے جبکہ 2010 میں خواتین کو ہراساں کرنے کی خصوصی قانون سازی کے تحت 509 کی دفعہ کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت خواتین کو ہراساں کرنے، چھیڑ چھاڑ اور آوازیں کَسنے کے جرم کو سنگین قرار دے کر تین سال کی سزا اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی، لیکن پولیس اہلکاروں کی لاعلمی یا کوتاہی کے باعث ایسی دفعات ایف آئی آرز میں درج نہیں ہوسکتیں، جس کا نقصان یہ ہے کہ ان جرائم میں ملوث ملزمان باآسانی قانون کے شکنجے سے بچ جاتے ہیں۔

ایس ایچ او تھانہ چوہنگ محمد طاہر نے بتایا کہ خواتین کو گلیوں، بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور پبلک مقامات پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف پولیس کو شکایت درج کرانے سے اجتناب کیا جاتا ہے اور ایسے کیسوں میں درخواست گزار نہ ہونے پر پولیس اپنی مدعیت میں مقدمات درج کر کے ملزمان کو گرفتار کرتی ہے اور ایف آئی آر میں دفعات کا اندراج جرم کی نوعیت کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی درخواست گزار رجوع کرلے تو اس کی شکایت کے مطابق دفعات کا اضافہ ضمنی میں بھی ہوسکتا ہے۔

خواتین کوشکایات کرنے میں مسائل

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساؤتھ ایشیا ویمن اِن میڈیا کی رہنما محمل سرفراز کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں خواتین کی شکایات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گلوکارہ میشاشفیع کیس میں انہوں نے عدالتوں تک معاملہ اٹھایا لیکن بیشتر لوگ سمجھتے ہیں کہ میشا نے علی ظفر کو بلیک میل کرکے دولت کمانے اور سستی شہرت کے لیے جھوٹا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایک سال میں 15 سو سے زائد خواتین نے مختلف دفاتر، محلوں اور تعلیمی اداروں میں ہراساں کیے جانے کی شکایات کیں لیکن کسی نے بھی پولیس کو شکایات درج کرانے کی اجازت نہ دی کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انہوں نے شکایت کی تو ان کے اور ان کی بہنوں کے رشتے نہیں ہوں گے یا انہیں ملازمت سے نکال دیاجائے گا۔

محمل کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے ہر چوتھی لڑکی یا خاتون متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔ اس معاملے کو اقوام متحدہ نے بھی سنجیدگی سے لیا ہے اور ایسے ممالک میں جہاں خواتین کو ہراساں کیے جانے جیسے مسائل درپیش ہیں، ان پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بارے میں قرارداد پیش ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کو شکایات کے لیے صرف موبائل ایپلیکیشن اور ہیلپ لائن کی سہولت دینے سے یا سخت قانون سازی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کے لیے شعور بیدار کرنے اور خواتین کی بات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر زائل کرنا ہوگا کہ خواتین سے چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں۔ جس طرح ہر ایک اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین