افغان طالبان اور امریکہ سمجھوتے کے قریب

طالبان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ امریکہ کی خطے میں سیاسی پوزیشن کم ہونے جارہی ہے۔ افغانستان میں جو بھی منظرنامہ بنے گا امریکہ کی رضامندی سے ہی بنے گا۔

8 جولائی 2019 کو افغان وفد کے رکن دوحہ میں امریکہ سے  مذاکرات کے دوران (فائل:اے ایف پی)

افغان طالبان اور امریکی وفد کے مابین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا آٹھواں دور بھی اختتام پذیر ہوچکا ہے اور فریقین اپنی اپنی اعلیٰ قیادت کے ساتھ صلاح ومشورہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔

گذشتہ ایک سال سے امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کے اب تک براہ راست آٹھ ادوار ہوچکے ہیں۔ اس آٹھویں نشست کو مذاکرات کا سب سے اہم دور اس لیے کہا جارہا تھا کیونکہ فریقین کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ سات ادوار میں ہونے والی گفتگو کو سمیٹنے کے لیے باہم جمع ہو رہے ہیں۔ 

ایسا خیال کیا جارہا تھا کہ طرفین اب کی بار ابتدائی ڈرافٹ پر متفق ہوجائیں گے مگر ایسا نہیں ہوسکا اور نہ ہی کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا۔ 

لیکن دونوں جانب سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں فائنل ڈرافٹ سامنے آجائے گا۔ اس میں شک نہیں کہ فریقین بڑی حد تک معاملات کو سمیٹ چکے ہیں اور بڑی حد تک اتفاق رائے کے قریب بھی آچکے ہیں، لیکن فی الحال میڈیا کے ساتھ اس کو شئیر نہیں کیا جارہا ہے۔

ان مذاکرات میں جس موضوع  پر سب سے زیادہ بات چیت ہو رہی ہے وہ ہے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ طالبان اور امریکی وفود اس اہم نقطے کو حل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

افغانستان سے امریکی انخلا کب اور کیسے ہوگا؟ اس کا جواب تو آئندہ چند ہفتوں میں سامنے آجائے گا مگر یہ بات واضح ہے کہ یہ انخلا صرف افغانستان اور امریکہ کا موضوع نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑنے والے ہیں۔

اس لیے جہاں طالبان اور امریکہ کے مابین تعلقات کی اہمیت ہے، وہیں خطے کے ممالک کا کردار بھی کسی طور کم نہیں۔ چین اور روس دونوں ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ ہر طرح کی پیش رفت سے باخبر ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے مابین جو بھی ممکنہ ڈیل ہوگی، اس میں ان دونوں ممالک کی موجودگی اور رضامندی ضرور شامل ہوگی، اور یہ ممالک اس  ممکنہ فائنل ڈرافٹ پر بطور ضامن دستخط بھی کریں گے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والے تقریباً سارے  ہی تجزیہ نگار اور مبصرین اس بات سے واقف ہیں کہ طالبان کے لیے اولین اور سب سے اہم موضوع امریکی افواج کا انخلا اور اس کے لیے وقت کا تعین ہے۔ تقریباً ایک سال سے جاری مذاکرات میں یہی طالبان کا بنیادی نقطہ بھی رہا ہے۔ طالبان اس بات پر مُصر رہے ہیں  کہ جب تک امریکی انخلا کا ٹائم فریم سامنے نہیں آتا مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ اب ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان اپنا یہ مطالبہ منواچکے ہیں، مگر اس کے لیے وقت کا تعین اور انخلا کا طریقہ کار مشکل بنا ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان کی حکومت امریکہ کے فوری انخلا کے حق میں نہیں۔

گذشتہ سات ادوار کے مذاکرات میں طالبان نے اس بات کو مان لیا تھا کہ اگر امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہوجاتا ہے تو وہ افغانستان کی سرزمین کو امریکہ کے مفادات کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ یہی مطالبہ طالبان سے مذاکرات کے شروع میں امریکہ کا بھی تھا کیونکہ امریکہ اور مغربی دنیا کو اس  بات کا خطرہ ہے کہ اگر امریکہ افغانستان سے جاتا ہے تو وہ ایک بار پھر عالمی دہشت گردوں کی پناہ گاہ میں تبدیل ہوجائے گا۔ ماضی میں طالبان اپنے اعلامیوں میں اس بات کا اعادہ کرچکے ہیں کہ ان کی تحریک کا دائرہ کار صرف اور صرف افغانستان کے حدود کے اندر ہے۔

18 سال سے جاری اس جنگ میں طالبان اور امریکہ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سے جان چکے ہیں۔ حالات اور واقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جنگ سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

اس طویل جنگ میں ایک نئی چیز جس سے دنیا کے بہت سارے لوگ واقف نہیں ہیں وہ طالبان کی سفارتی کامیابی ہے۔ وہ جہاں ایک جانب امریکہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے تو دوسری طرف کئی سالوں سے ان کے وفود نے دنیا کے تمام اہم ممالک کا دورہ کیا۔ 

طالبان کے سیاسی دفتر کو جہاں موقع ملا اور جو بھی فورم سامنے آیا، وہاں اس نے اپنے نمائندوں کو بھیجا اور افغانستان کے حوالے سے اپنا موقف بیان کیا۔

جس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی تو سوائے پاکستان کے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، خاص طور پر ایران اور روس کے ساتھ۔ مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ اب ان ممالک کے ساتھ طالبان کے رابطے بحال ہوچکے ہیں۔

طالبان کے وفود ان ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں اور ان ممالک کو ایک حد تک باور کرانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں کہ اگر افغانستان  میں طالبان حکومت آتی ہے تو ان کا ملک پڑوسی ممالک کے ساتھ عدم مداخلت اور باہمی احترام کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔

روس، چین اور ایران کے علاوہ انڈونیشیا اور جاپان سیمت یورپی ممالک میں طالبان کے وفود کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور یہ سسلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔

طالبان جہاں بھی گئے ہیں وہاں انہوں نے افغانستان میں جاری مزاحمت کے ساتھ ساتھ اپنا سیاسی پلان بھی بیان کیا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کا پیغام دیا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد وہ سیاسی تشدد کی پالیسی کا تکرار نہیں ہونے دیں گے اور یہی بات  وہ عورتوں کی تعلیم، میڈیا کی آزادی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بیان کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ، طالبان مذاکرات میں مسئلہ ہے کیا؟

افغانستان میں موجود اکثر سیاسی قیادت اور قومی عمائدین طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی حمایت کرچکے ہیں۔ افغان سیاسی قیادت اور قومی مشیر قطر اور ماسکو میں ہونے والی ان کانفرنسوں میں طالبان کے ساتھ بات چیت کرچکے ہیں تاہم افغان حکومت فی الحال مذاکرات کے عمل سے باہر ہے۔

طالبان اور امریکہ مذاکرات کی کامیابی کے بہت قریب آ چکے ہیں اور بڑی حد تک اعتماد کی فضا بھی قائم ہوچکی ہے۔ ایسے میں جنوبی ایشیا کی موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام فریق  اور پڑوسی ممالک کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس میں نیا ایجنڈا شامل نہ کیا جائے۔

 اس میں شک نہیں کہ امریکہ افغانستان سے انخلا چاہتا ہے لیکن وہ خطے میں اپنی بالادستی کو بھی کم ہونے نہیں دے گا، اس لیے طالبان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ امریکہ کی خطے میں سیاسی پوزیشن کم ہونے جارہی ہے۔ افغانستان میں جو بھی منظرنامہ بنے گا امریکہ کی رضامندی سے ہی بنے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ