امریکہ، طالبان مذاکرات میں مسئلہ ہے کیا؟

افغان مصالحتی عمل میں پاکستان اور سعودی عرب کی سنجیدگی ایک غیرمعمولی اقدام ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے اس بابت پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے۔

افغان طالبان کیسے پاکستان اور سعودی دباؤ کو نذر انداز کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ابھی معلوم نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے کم ہوتے اثر کے علاوہ اس کی بڑی وجہ اسلامی تحریک کا کئی ممالک سے براہ راست رابطے میں ہونا بھی ہے۔

افغانستان کے کئی دھائیوں پر محیط خونریز قضیے میں اکثر تو منفی خبریں ہی چھائی رہی ہیں لیکن کبھی کبھی عارضی جنگ بندی اور جمہوری روایات کے جڑیں پکڑنے جیسی مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا راونڈ بھی شاز و نادر واقعات میں سے ایک ہے۔ لیکن اس مسئلے کے دو اہم ترین فریقین کے درمیان بات چیت کیا آگے بڑھ پائے گی اس بارے میں امکانات کوئی زیادہ روشن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

امریکی صدر کے افغانستان سے متعلق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد جب سے مصالحت کی کوششوں میں مصروف ہوئے ہیں مثبت تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ جنوری میں اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر آمد سے قبل ہی طالبان نے ایک سخت بیان جاری کیا جس سے اندرونی کشمکش اور تناؤ کا پتہ ملتا ہے۔ کشیدگی کی وجہ بظاہر طالبان پر اگلے راونڈ کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر پاکستانی حکام کی طرف سے ان کے پشاور میں ایک رہنما کی گرفتاری اور پھر رہائی تھی۔ افغان طالبان کے مطابق پاکستانی فوج نے طالبان کے دورے حکومت میں مذہبی امور کے وزیر حافظ محب اللہ کو حراست میں لیا تھا۔ ناراض طالبان نے اس بیان میں واضح کیا کہ ”یہ ہمارا حق ہے کہ ہم کیسے اور کس موقع پر مسئلہ حل کریں گے۔ دباؤ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔”

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارتی ذرائع کے مطابق ناصرف پاکستان بلکہ سعودی عرب بھی طالبان کو بغیر کسی شرط کے اگلے راونڈ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ اگلے دور میں افغان حکومتی اہلکار بھی شریک ہوں۔ طالبان ان سے ملنے کو فلالحال ہرگز تیار نہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تو طالبان ان کے مذاکرات تو دور کی بات ایک کمرے میں بھی بیٹھنے حتاکہ نماز پڑھنے کو بھی تیار نہیں۔  

نئے مذاکراتی راونڈ میں مسئلہ محض بظاہر دباؤ کا نہیں بلکہ ایجنڈے پر بھی اختلاف طالبان کے بیان سے واضح ہوا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ دوحا کے اجلاس میں اتفاق ہوا تھا کہ بات چیت کا محور غیرملکی افواج کا انخلاء اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہوتا ہوگا۔ اس جملے کے دوسرے حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان خطے کے دیگر ممالک جیسے کہ پاکستان اور ایران کے خدشات کو دور کرنے اور امریکیوں سے منوانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ یعنی ان کے جذبات کی عکاسی اور دفاع کر رہے ہیں۔

طالبان کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے سینئر امریکی عہدیدار لیزا کرٹس پہلے ہی اسلام آباد کے دورے پر ہیں جس دوران انہوں نے کئی اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ لیزا کرٹس کے دورے کے حوالے سے کوئی تفصیل سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئی ہے البتہ گمان یہی ہے کہ وہ دو طرفہ مسائل کے حل اورطالبان کی امن عمل میں شمولیت کی بحالی کے لیے کوششیں کرنے آئی ہیں۔

پاکستان نے ہی گزشتہ دنوں امریکی مندوبِ خصوصی اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابو ظہبی میں ملاقات کا اہتمام کیا تھا جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے مبصر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔ تاہم اگلے راونڈ کے لیے تاریخ اور مقام کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

افغان مصالحتی عمل میں پاکستان اور سعودی عرب کی سنجیدگی ایک غیرمعمولی اقدام ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے اس بابت پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن دلچسپ امر یہی ہے کہ طالبان دونوں کے دباؤ کے مزاحمت کامیابی سے کر رہے ہیں۔ اس دباؤ سے بچنے کی وجہ کیا ہے ابھی معلوم نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے کم ہوتے اثر کے علاوہ اس کی بڑی وجہ طالبان کا کئی ممالک سے براہ راست رابطے میں ہونا بھی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا