’ہمیں اسرائیل میں داخلے کی اجازت نہ دینا جمہوریت کی بے عزتی ہے‘

الہان عمر اور راشدہ طلیب دونوں ہی نیتن یاہو کی اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں۔

نتین یاہو نے اس فیصلے کے بعد کہا کہ:’ ان دونوں کانگریس خواتین کا مقصد صرف اسرائیل کو بدنام کرنا اور نقصان پہنچانا ہے۔‘

دو خواتین ڈیموکریٹ کانگریس ارکان نے خود کو اسرائیل میں داخل نہ ہونے دینے کے فیصلے کو ’ جمہوری اقدار کی توہین‘ قرار دیا ہے۔ ظاہری طور  پر ان دونوں کی انٹری پر اسرائیلی ریاست کی جانب سے لگائی گئی  یہ پابندی صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔

چار غیر سفید فام اراکین کانگریس کے ساتھ اپنی تازہ ترین تلخی میں صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ اسرائیل اگر  کانگریس کی مسلمان اراکین الہان عمر اور راشدہ طلیب کو داخلے کی اجازت دیتا ہے تو یہ اس کی  ’کمزوری کی علامت‘ ہوگی۔

دونوں اراکین کا یہ دورہ ذاتی طور پر معلومات اکٹھی کرنے کے لیے اس ماہ کے آخر میں کیا جانا تھا۔ مذکورہ سکواڈ کی باقی دو ممبران جن کو ٹرمپ کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں الیگزینڈیا اوکاسیو کورٹز اور ایانا پریسلی اس دورے میں شامل نہیں ہیں۔

صدر کی جانب سے بار بار بغیر کسی ثبوت کے دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں خواتین یہودی مخالف سوچ رکھتی ہیں۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ:’ کانگریس رکن الہان عمر اور راشدہ طلیب ڈیموکریٹ پارٹی کا چہرہ ہیں اور یہ اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں۔‘

اسرائیل کی جانب سے ایسے فیصلہ کی کوئی مثال موجود نہیں جس میں کانگریس ارکان کے داخلے پر اسرائیل میں  پابندی عائد کی گئی ہو۔ دونوں خواتین نے ردعمل میں اس فیصلے کو جمہوری اقدار کی برملا توہین قرار دیا ہے۔

الہان عمر نے ایک بیان کہا کہ:’ یہ ایک ہتک آمیز بات ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے صدر ٹرمپ کے دباو میں آکر امریکی حکومت کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی۔ اسرائیل ٹرمپ کی وجہ سے  مسلمانوں پر پابندی عائد کر رہا ہے لیکن اس بار یہ کانگریس کی دو منتخب اراکین کے خلاف کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ:’ مشرق وسطی میں ’واحد جمہوریت‘ کہلانے والا ملک ایسے فیصلے کر رہا ہے جو نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہے بلکہ ایک اتحادی ملک سے تعلق رکھنے والے سرکاری حکام کے دورے کا سرد رد عمل بھی ہے۔‘

الہان عمر اور راشدہ طلیب دونوں ہی نیتن یاہو کی اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے اس نجی دورے  میں مغربی کنارے اور اسرائیل کا دورہ کرنا تھا۔ راشدہ طلیب کا خاندان مغربی کنارے میں ہی رہائش پذیر ہے۔ اس دورے کا انتظام ایک فلسطینی این جی او نے کیا تھا۔

نتین یاہو نے ان خواتین کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، بے نقاب اور پابندی عائد کرنے کی تحریک (بی ڈی ایس) کی حمایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ان کے اسرائیل داخلے پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔

نتین یاہو نے اس فیصلے کے بعد کہا کہ:’ ان دونوں کانگریس خواتین کا مقصد صرف اسرائیل کو بدنام کرنا اور نقصان پہنچانا ہے۔‘

کئی ڈیموکریٹ ارکان بشمول سپیکر نینسی پیلوسی جن کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ، انہوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

دونوں کانگریس خواتین پر تنقید کرنے والے فلوریڈا سے ری پبلکن سینیٹر رکن مارکو روبیو کے علاوہ کئی اور ری پبلکنز نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ مارکو روبیو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ:’ میں دونوں نمائندوں الہان عمر اور راشدہ طلیب سے اسرائیل کے معاملے پر سو فیصد اختلاف کرتا ہوں اور سینیٹ سے پاس ہونے والا بی ڈی ایس مخالف بل میں نے لکھا ہے لیکن ان ارکان کو اسرائیل میں داخلے کی اجازت نہ دینا ایک غلطی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر تنقید ہمیشہ اسی امید سے کی ہوگی کہ انہیں اجازت نہ دی جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طاقتور اسرائیلی لابنگ گروپ اے آئی پی اے سی نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا:’ ہم کانگریس ارکان الہان عمر اور راشدہ طلیب کی اسرائیل مخالف مہم اور امن مخالف بی ڈی ایس تحریک اور راشدہ طلیب کی ایک ریاسی حل کی تجویز سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہر کانگریس رکن کو اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ ذاتی طور پر ہمارے اتحادی اسرائیل جانے کا تجربہ حاصل کر سکے۔‘

جے سٹریٹ میں جیوش امریکی ایڈوکیسی گروپ کے سینئیرنائب صدر ڈیلن جے ولیمز کا کہنا ہے کہ:’ یہ امریکہ اور اسرائیل کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہ درجنوں امریکی قانون ساز اور تقریبا ہر امریکی جیوش گروپ ٹرمپ اور نتین یاہو کے پیدا کردہ اس بحران کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ ان کی غیر جمہوری سوچ اور ذاتی سیاسی مقاصد کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر ترجیح دینے کا عکاس ہے۔‘

جوابی طور پر پہلی فلسطینی امریکی کانگریس رکن راشدہ طلیب نے ٹوئٹر پر مغربی کنارے میں رہائش پذیر اپنی دادی کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا:’ یہ امن اور عزت کے ساتھ رہنے کی حق دار ہیں۔ میں جو بھی ان کی وجہ سے ہی ہوں۔ اسرائیل کا ان کی پوتی پر پابندی کا فیصلہ، جو کانگریس کی ایک رکن بھی ہیں اس سچ سے خوفزدہ ہونے کی علامت ہے کہ جو فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہا ہے  وہ دہشت ناک ہے۔‘

اس رپورٹ میں واشنگٹن ڈی سی میں مقیم نگار مرتضوی کی معاونت بھی شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا