’نئے پاکستان‘ کا ایک سال: معاشی میدان میں دس میں سے پانچ نمبر

ٹیکس نظام میں آسانی اور تاجروں کے لیے سہولت حکومت کا احسن قدم ہے جبکہ ڈیم فنڈ مہم میں حصہ لینا حکومت کی غلطی تھی، معاشی ماہرین کی رائے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپنا ایک سال مکمل کرلیا ہے، جو معاشی لحاظ سے کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے معاشی میدان میں حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے ماہرین سے گفتگو کی اور ان سے پوچھا کہ اگر انہیں تحریک انصاف کی حکومت کو معیشت کے میدان میں دس میں سے نمبر دینے ہو تو  وہ کتنے نمبر دیں گے جس کے

جواب میں ماہرین نے اوسط دس میں سے پانچ نمبر دیے۔

معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی خرم حسین نے حکومت کو دس میں سے چار، اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر احمد حسن مغل نے چھ اور ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار احمد نے صرف چار نمبر دیے۔

حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر خرم حسین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان، کابینہ اور تحریک انصاف کا معاشی امور کے حوالے سے کوئی دخل نہیں اور ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے زیر سایہ ایک آزاد ٹیم چلا رہی ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ عوام کی توقعات تھیں کہ تبدیلی آ جائے گی، چیزیں سستی ہوں گی اور حالات بہتر ہوں گے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ حکومت کی کارکردگی عوام اور تاجروں کی توقعات کے برعکس رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب ماہرِ معاشیات ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے آنے کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے میں دیر کی، جس کی وجہ سے معیشت میں بے یقینی کی فضا نے جنم لیا۔

ماہرین سے حکومت کی کارکردگی کا سکور کارڈ بھی لیا گیا اور اُن سے پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر بہتر تھے یا موجودہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ۔ جس کے جواب میں ماہرین نے دونوں کو ہی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کا وزیر خزانہ ایسا ہو، جس میں دونوں کی خوبیاں ہوں اور دونوں کی خامیاں نہ ہوں۔

اسلام آباد تاجر برادری کے رہنما اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر احمد حسن مغل کا کہنا تھا کہ اسد عمر کو مزید وقت ملنا چاہیے تھا جبکہ ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا تھا کہ دونوں کی کارکردگی کو جانچنا مشکل ہے کیونکہ اسد عمر کو کم وقت ملا ہے اور حفیظ شیخ کو دفتر سنبھالے کم وقت گزرا ہے۔

جب ماہرین سے پوچھا گیا کہ حکومت کا ایک سال میں سب سے اچھا قدم کون سا تھا تو ڈاکٹر وقار کے مطابق وفاقی حکومت کا غربت کے خاتمے کے لیے ’احساس‘ پروگرام قابل ستائش ہے۔ خرم حسین کے مطابق معاشی سرگرمیوں کی ریکارڈ سازی کا فیصلہ نہایت ضروری تھا اور احمد حسن مغل کے مطابق حکومت کی جانب ٹیکس نظام میں آسانی اور تاجروں کے لیے سہولت حکومت کا احسن قدم ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے غیر مقبول قدم کے بارے میں جب ماہرین سے پوچھا گیا تو ڈاکٹر وقار کا کہنا تھا کہ حکومت کو سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں اور موافق ماحول دینے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔ خرم حسین کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیم فنڈ مہم میں حصہ لینا حکومت کی غلطی تھی جبکہ احمد حسن مغل ڈالر کی قدر میں اضافے کو حکومت کا غیر مقبول قدم سمجھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان