انڈیا: میچ میکنگ ویب سائٹ پر 15 خواتین سے شادی کرنے والا شخص گرفتار

انڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق دھوکے سے شادیاں کرنے والے شخص کو ایک 45 سالہ سافٹ ویئر انجینئر کی شکایت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ دونوں کی شادی رواں سال کے دوران ہی ہوئی تھی۔

گرفتار شدہ شخص جس خاتون سے شادی رچاتا ان سے پیسے اور قیمتی سامان بھی ہتھیا لیتا (انواتو)

انڈیا میں پولیس نے میچ میکنگ ویب سائٹس پر ملنے والی کم از کم 15 خواتین سے شادی کرنے اور ان میں سے کچھ سے بچے پیدا کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

ملزم کی شناخت مہیش کے بی نائک کے نام سے ہوئی ہے، جو خود کو اکثر انجینیئر یا ڈاکٹر ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر خواتین کو شادی کا جھانسہ دیتے رہے ہیں۔

ملک کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ملزم نے اس مقصد کے لیے جنوبی ریاست کرناٹک کے تماکورو شہر میں (جعلی) کلینک تک قائم کر لیا تھا، جہاں انہوں نے اسے سچ دکھانے کے لیے ایک نرس کو ملازمت پر بھی رکھا ہوا تھا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے زیادہ تر مالی طور پر خود مختار اکیلی خواتین کو نشانہ بنایا تاہم ان کی تعلیم اکثر ان کی کمزور انگریزی کے باعث مشکوک رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملزم نے مبینہ طور پر محض پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق نائک نے 2014 سے کم از کم 15 خواتین سے شادی کی اور ان میں سے چار کے بچے ہیں۔

دی نیو انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق ان کی شکار خواتین یا تو طلاق یافتہ تھیں یا بیوہ اور سماجی بدنامی کی وجہ سے وہ ان کی رپورٹ کرنے میں شرم محسوس کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ملزم نے مبینہ طور پر ان کا قیمتی سامان تک لوٹ لیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں ایک 45 سالہ سافٹ ویئر انجینئر کی شکایت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جن سے ان کی رواں سال شادی ہوئی تھی۔

ہیملتا نامی خاتون نے پولیس کو مطلع کیا کہ وہ انہیں اپنا نیا کلینک قائم کرنے کے لیے رقم فراہم کرنے کے لیے مجبور کر رہا تھا اور بعد میں ان کے آٹھ لاکھ انڈین روپے مالیت کے زیورات اور 15 لاکھ نقد لے کر فرار ہو گئے۔

ان کی شکایت کی بنیاد پر حکام نے ملزم کا سراغ لگانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی اور تماکورو میں انہیں گرفتار کر لیا۔

اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ نائک کے والد نے ان کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا