بھارت: ویب سائٹ پر مسلم خواتین کی ’نیلامی‘ کی تحقیقات کا آغاز

آن لائن ’نیلامی‘ کا نشانہ بننے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پروفائل ویب سائٹ پر دیکھنے کے بعد یہ سوال کرتے رہ گئی ہیں کہ بھارت میں مسلم خواتین کی ہراسانی کب ختم ہوگی۔

خواتین کے قومی کمیشن کے مطابق تازہ ترین معاملے میں متاثرین میں محققین، تجزیہ نگار، فنکار اور صحافی خواتین شامل ہیں (اے ایف پی فائل)

بھارت میں پولیس نے مسلم خواتین کے آن لائن فروخت کے لیے پیش کی کیے جانے والے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جب کہ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ ’نیلامی‘ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی مثال ہے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دا پرنٹ‘ کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران 90 مسلم خواتین کی تصاویر ایک سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ پر ’سلی ڈیل آف دا ڈے‘ کے عنوان کے ساتھ اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ ’سلی‘ مسلم خواتین کے لیے طنز کے طور پر استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔

ویب سائٹ جو خود کو ’کمیونٹی ڈرائیون اوپن سورس پروجیکٹ‘ کے طور پر بیان کرتی ہے، پر نیلامی کے لیے پیش کی گئی خواتین کی اکثریت کا تعلق بھارت سے تھا جب کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی خواتین کی پروفائلز بھی اس پر اپ لوڈ کی گئیں تھی۔

متاثرہ خواتین صحافت، فنون، سماجی کارکن اور ریسرچر سمیت دیگر پیشوں سے وابستہ ہیں۔ 

ایک ایئرلائن میں بطور پائلٹ کام کرنے والی حنا محسن خان کو گذشتہ ہفتے ان کی ایک دوست نے ان کی پروفائل اس ویب سائٹ پر موجود ہونے کی اطلاع دی تھی۔

حنا خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ویب سائٹ پر چوتھی تصویر میری تھی۔ وہ باقاعدہ طور پر مجھے ایک غلام کے طور پر نیلام کر رہے تھے۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ دیکھ کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس دن سے لے کر آج تک میں مستقل طور پر غصے کی آگ میں جل رہی ہوں۔‘

’گٹ ہب‘ کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ نے ان صارفین کے اکاؤنٹس کو معطل کردیا ہے جنہوں نے ایسی پوسٹس لگا کر ہراساں کرنے، امتیازی سلوک اور تشدد کو بھڑکانے سے متعلق اس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب دہلی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کر لیا ہے کیونکہ وہ تاحال قصورواروں کی شناخت نہیں کر سکی ہے۔

ویب سائٹ پر فروخت کے لیے پیش کی گئیں ایک اور بھارتی خاتون 34 سالہ ثانیہ احمد نے اس کا الزام انتہا پسند ہندو مذہبی جماعتوں کی ’آن لائن ٹرول آرمی‘ پر لگاتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ہندو شدت پسندوں نے اس حد تک صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر افراد کو ہزاروں گالیوں پر مشتمل پیغامات بھیجے ہیں کہ ان میں سے کچھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پر مجبور کر دیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت کے 17 کروڑ مسلمانوں میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح برتاؤ کیا جا رہا ہے۔

ہندوؤں کے مقدس جانور گائے کے تحفظ کے نام پر ہندو بلوائیوں نے کئی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے جس سےاس اقلیتی برادری میں خوف اور مایوسی پھیل گئی ہے۔

بھارتی صحافی فاطمہ خان، جو خود بھی گٹ ہب پر نشانہ بننے والی خواتین میں شامل تھیں، نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جعلی نیلامی بھی اسی طرز کا حملہ ہے۔ ’یہ کس طرح قابل قبول ہے؟ اس فہرست کو بنانے والے لوگوں کو کیا سزا دی جائے گی؟ یہاں مسلمان مردوں کو تشدد کر کے ہلاک کردیا جاتا ہے جب کہ مسلم خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے اور آن لائن فروخت تک کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب کب ختم ہوگا؟‘

خواتین اور لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنا، جن میں تشدد، ریپ اور پورنوگرافی سے متعلق دھمکیاں بھی شامل ہیں، بھارت میں ایک بہت سنگین مسئلہ ہے۔

برطانیہ میں قائم تنظیم ’پلان انٹرنیشنل‘ کے 2020 سروے کے مطابق 31 ممالک میں 14 ہزار لڑکیوں کو اس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارتی میڈیا کمپنی میں کام کرنے والی 34 سالہ ثانیہ احمد نے آن لائن ہراسانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت میں مسلمان خواتین خاص طور پر ان کے نشانے پر ہیں۔‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’اس کا آغاز چھوٹی موٹی گالیوں کے ساتھ ہوتا ہے اور پھر بات موت اور ریپ کی دھمکیوں تک بڑھ جاتی ہے۔ میں نے ریپ کی 782 دھمکیوں کے سکرین شاٹس لے رکھے ہیں جو زیادہ تر ٹوئٹر پر مجھے دی گئیں۔ اور یہ صرف پچھلے سال کی ہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ ایسے ملزموں کو بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت  کی ’سیاسی حمایت‘ حاصل ہے جو خود بھی اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کا باعث ہے۔ 

ثانیہ احمد نے ٹوئٹر کو ایک سے زیادہ توہین آمیز پوسٹس کی رپورٹ کرتے ہوئے قانونی نوٹس بھجوائے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ٹوئٹر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مودی حکومت مسلمان مخالف ہونے کی تردید کرتی ہے، مگر اس نے اب تک حالیہ سکینڈل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ 

خواتین کے قومی کمیشن کے مطابق تازہ ترین معاملے میں متاثرین میں محققین، تجزیہ نگار، فنکار اور صحافی خواتین شامل ہیں۔

ثانیہ احمد، جو اب ہر صبح فون چیک کرنے سے پہلے خوف میں مبتلا ہو جاتی ہیں، نے کہا کہ اس بدسلوکی کا مقصد مسلمان مردوں کی بھی توہین کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: ‘جب آپ کسی پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس کے گھر کی خواتین پر حملہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ حساس مقام ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین