’نیا پاکستان سکور کارڈ‘: خارجہ پالیسی کو ملے ساڑھے سات نمبر

ماہرین نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو اچھا گردانا جبکہ امداد نہ لینے کے دعوؤں کے باجود حکومت کے امداد لینے کے فیصلے کو بری کارکردگی میں شمار کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کی سیریز ’نیا پاکستان سکور کارڈ‘ میں گذشتہ ایک سال کے دوران خارجہ پالیسی کے میدان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکردگی کے حوالے سے جب ماہرین سے ان کی رائے جانی گئی تو انہوں نے حکومت کو دس میں سے ساڑھے سات نمبر دیے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس سلسلے میں یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ایشیا سینٹر کے ایسوسی ایٹ نائب صدر معید یوسف، بوسٹن یونیورسٹی کے گلوبل سٹڈیز سکول کے ڈین عادل نجم اور سابق سفارت کار عاقل ندیم سے بات کی۔

خارجہ امور کے ماہر معید یوسف کے مطابق خارجہ میدان میں حکومت کی کارکردگی کو سات یا آٹھ نمبر ملنے چاہییں جبکہ عادل نجم نے بھی حکومت کو اتنے ہی نمبر دیے، تاہم عاقل ندیم نے حکومت کو فی الحال نمبر دینے سے گریز کیا۔

عالمی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر عمران خان کی حکومت کو مختلف محاذوں پر ایک ساتھ مقابلہ کرنا تھا اور اس لحاظ سے تین میں سے دو ماہرین کے مطابق حکومت کی کارکردگی گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں اچھی رہی۔

عادل نجم اور معید یوسف دونوں کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے جبکہ عاقل ندیم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے وزارت خارجہ کو موثر طریقے سے نہیں چلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پہلے نو مہینوں میں 20 اہم سفارتی مشن ایسے تھے جو خالی رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ان ماہرین سے پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں خارجہ امور کے میدان میں حکومت کا ایک احسن قدم کون سا تھا تو معید یوسف اور عاقل ندیم نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو اچھا گردانا جبکہ عادل نجم نے موجودہ حکومت کی جانب سے وزارت خارجہ کو اہمیت دینے کی حکمت عملی کو سراہا۔

خارجہ پالیسی میں حکومت کے ایک غیر مقبول قدم کے حوالے سے سوال پر عاقل ندیم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی واشنگٹن میں تقریر انہیں پسند نہیں آئی جبکہ معید یوسف کا کہنا تھا کہ حکومت کے امداد نہ لینے کے دعوؤں کے باجود امداد لے کر قوم سے خطاب کرنا اور مبارک باد دینا اچھا قدم نہیں تھا۔ دوسری جانب عادل نجم کے مطابق معاشی سفارت کاری خصوصاً ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔

وزارت خارجہ کے حوالے سے ایک تنقید یہ کی جاتی تھی کہ دفتر خارجہ کا کردار صرف ڈاک خانے کا ہے اور خارجہ پالیسی جی ایچ کیو میں بنتی ہے۔ ماہرین سے جب یہ سوال کیا گیا کہ موجودہ حکومت میں خارجہ پالیسی کا اختیار کس کے پاس رہا تو معید یوسف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں وزارت خارجہ کو تقویت ملی ہے، جس کی وجہ بہتر سول ملٹری تعلقات اور وزارت خارجہ اور جی ایچ کیو کی سوچ میں یکسانیت ہے جبکہ عادل نجم کے مطابق موجودہ حکومت میں وزارت خارجہ اور فوج کے درمیان تناؤ نظر نہیں آتا جس کی وجہ یا تو یہ ہو سکتی ہے کہ وزارت خارجہ جی ایچ کیو کی تمام باتیں مان لیتی ہے یا پھر اس لیے کہ دونوں میں ہم آہنگی ہے۔ دوسری جانب عاقل ندیم نے باقی دو ماہرین کے برعکس کہا کہ وزارت خارجہ کا کردار اہم مسائل میں کم ہوا ہے۔

یاد رہے کہ عادل نجم اور معید یوسف کا انٹرویو بھارت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 5 اگست کے فیصلے سے ہونے والی صورتحال سے پہلے لیا گیا تھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان