سبزی خور ہونا جزوی طور پر جینیات کا حصہ ہوسکتا ہے: تحقیق

امریکہ میں کی گئی تحقیق کےشریک مصنف ڈاکٹر نبیل یاسین کے مطابق:’اگرچہ مذہبی اور اخلاقی تحفظات یقینی طور پر سبزیوں کو بطور خوراک اپنانے کی ترغیب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اعدادوشمار کےمطابق ہمارے جینز ایسی خوراک کےاستعمال کی صلاحیت کو کم کرتے ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس کے ایگزیکٹو شیف کرس کامرفورڈ نے 21 جون 2023 کو انڈین وزیراعظم نریندر مودی کو دیے جانے والے سرکاری عشائیے کے لیے سبزیوں پر مشتمل پکوان تیار کیے تھے۔ نریندر مودی سبزی خور ہیں اس لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دیے گئے اس عشائیے میں گوشت پر مشتمل کوئی ڈش پیش نہیں کی گئی تھی (اینا منی میکر/ اے ایف پی)

ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کسی شخص کی جینیاتی بناوٹ اس بات کا تعین کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے کہ آیا وہ سبزی خوری کی عادت پر ثابت قدمی سے قائم رہ سکتا ہے یا نہیں۔

سائنسی جریدے ’پلاس ون‘ (PLOS One) میں بدھ کو شائع ہونے والی یہ تحقیق غذائیت کے حوالے سے سفارشات اور گوشت کے متبادل کی تیاری پر مزید مطالعات میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے وابستہ اور دیگر سائنس دانوں نے کہا: ’اگرچہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خود کو بنیادی طور پر ’سبزی خور‘ کے طور پر متعارف کرواتی ہے لیکن رپورٹس ہیں کہ وہ مچھلی، پولٹری مصنوعات اور بعض اوقات سرخ گوشت بھی یہ کہہ کر استعمال کرتے ہیں کہ مکمل طور پر سبزی خوری پر قائم رہنے میں ماحولیاتی یا حیاتیاتی رکاوٹیں ہوسکتی ہیں۔‘

مطالعے کے شریک مصنف نبیل یاسین نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ حقیقی سبزی خوروں کے مقابلے میں زیادہ تر لوگ ایسا کرنا پسند کریں گے اور ہمارا خیال ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ یہاں کوئی ایسی چیز ہے، جو پہلے لوگ نہیں کر رہے تھے۔‘

مطالعے میں محققین نے پانچ ہزار 324 ایسے سبزی خوروں کا ’یو کے بائیو بینک‘ کے جینیاتی ڈیٹا کے 329,455 کنٹرولز سے موازنہ کیا جو مچھلی، انڈے، مرغی یا سرخ گوشت استعمال نہیں کرتے تھے۔

اس موازنے سے سائنس دانوں کو سبزی خوروں سے جڑے تین جینز (Genes) اور دیگر 31 ایسے جینز کا پتہ چلا، جو ممکنہ طور پر اس عادت سے وابستہ ہیں۔

مطالعے کے مطابق ان میں سے کئی جینز لپڈ میٹابولزم اور دماغی فعالیت میں شامل ہیں، جن میں سرفہرست تین جینز میں سے دو NPC1 اور RMC1 شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر نبیل یاسین نے اس حوالے سے کہا: ’میرا خیال ہے کہ گوشت میں ایک یا زیادہ لپڈ کمپونینٹ موجود ہوسکتے ہیں، جن کی کچھ لوگوں کو ضرورت ہے اور ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کی جینیات میں سبزی خوری موجود ہو، ان کا جسم اندورنی طور پر ان اجزا کو خود بنانے کی قابلیت رکھتا ہو۔‘

تاہم ان کے بقول: ’اس وقت یہ محض قیاس آرائی ہے اور سبزی خوروں کی فزیالوجی کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اگرچہ سبزی خوری کی مقبولیت بڑھ رہی ہے لیکن سبزی خور دنیا بھر میں اب بھی بہت کم ہیں، جیسا کہ برطانیہ میں 2.3 فیصد بالغ اور 1.9 فیصد بچے خود کو سبزی خور کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کھانے پینے کی ترجیحات کے محرک کا عنصر صرف ذائقہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ کسی فرد کا جسم اسے کس طرح جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پہلی بار الکوحل چکھی جاتی ہے تو زیادہ تر لوگوں کو اس کا ذائقہ خوشگوار نہیں لگتا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں الکوحل کے ذائقے کی عادت ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ ڈاکٹر نبیل یاسین نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ گوشت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ شاید آپ کو کسی خاص جزو، میں یہاں ایک لپڈ جزو کا قیاس کر رہا ہوں، جس کی وجہ سے آپ کو اس کی ضرورت پڑتی ہے اور آپ کو اس کی طلب ہوتی ہے۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ ’اگرچہ مذہبی اور اخلاقی تحفظات یقینی طور پر سبزیوں کو بطور خوراک اپنانے کی ترغیب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے جینز ایسی خوراک کے استعمال کی صلاحیت کو کم کرتے ہیں۔‘

سائنس دانوں کو امید ہے کہ مستقبل کے مطالعے سے سبزی خوروں اور گوشت کھانے والوں کے درمیان جسمانی فرق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی معلومات ہمیں ذاتی غذا کی سفارشات اور گوشت کے بہتر متبادل پیدا کرنے کے قابل بنائے گی۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی صحت