بھارت: گوشت خوری پر نہرو یونیورسٹی میں تشدد

جے این یو کیمپس میں آخری بار تشدد کا واقعہ پانچ جنوری 2020 کو پیش آیا جب ایک نقاب پوش ہجوم اندر داخل ہوا اور طلبہ کو لاٹھیوں اور سلاخوں سے مارا پیٹا۔ واقعے کی  ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

 نو جنوری 2020 کو نئی دہلی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (JNU) کیمپس میں مظاہرین  (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت کی ممتاز جواہرلعل نہرو یونیوسٹی (جے این یو) میں اتوار کو بڑے ہندو تہوار کے موقعے پر گوشت کھانے پر مبینہ طور پر دائیں بازو کے سیاسی گروپ کے ارکان کی طرف سے کیے گئے تشدد میں متعدد طلبہ زخمی ہو گئے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے طلبہ ونگ اکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشد کے ارکان نے ہندو تہوار رام نومی کے موقعے پر مبینہ طور پر کیمپس میں گوشت کی فراہمی پر مبینہ طور پر ہاسٹل حکام کے خلاف احتجاج کیا۔ رام نومی ہندو دیوتا رام کی پیدائش کا تہوار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کم از کم چھ طلبہ زخمی ہوئے۔ آر ایس ایس بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرستی کرتی ہے۔

اخبار دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق  کیمپس میں بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے طلبہ گروپس کا کہنا ہے کہ 50-60 طلبہ زخمی ہوئے۔ اے بی وی پی کا دعویٰ ہے کہ 15 سے 20 طلبہ زخمی ہوئے جن میں اس کے اپنے آٹھ سے 10 ارکان بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں طلبہ کی پیشانی سے خون بہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جب کہ دیگر طلبہ نے کمر اور بازوؤں پر چوٹیں دکھائیں۔ جے این یو سٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کے کونسل رکن اناگھا پردیپ نے کہا: ’ہر اتوار کو تمام ہاسٹلز میں میں گوشت، دالیں اور سبزیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہ معمول ہے۔‘

اے بی وی پی کے طلبہ نے کاویری ہاسٹل کے قریب کسی تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا اور جب دکاندارچکن پہنچانے آیا تو انہوں نے اسے روک لیا۔ انہوں نے انہیں اور میس کے سکریٹری دونوں کو ہراساں کیا اور برا بھلا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاون (ہندو پوجا) کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور نان ویجیٹیرین کھانا نہیں پکایا جا سکتا۔ پیر کو اے بی وی پی کے جے این یو کے صدر روہت کمار نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مسئلہ گوشت کھانے سے متعلق ہے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انہوں نے کہا: ’یہ چکن کا معاملہ نہیں۔ ہر کوئی آزاد ہے جو وہ کھانا چاہتا ہے کھا سکتا ہے۔ وہ (بائیں بازو کے طلبہ) چکن کو ایجنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمارے کارکنوں پر حملہ کیا۔ ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

پولیس کے مطابق اے بی وی پی کے نامعلوم طلبہ کے خلاف شکایت درج کرلی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوب۔مغرب) منوج سی نے پیر کو بیان میں کہا کہ’ہمیں پیر کو علی الصبح اے بی وی پی کے طلبہ کے خلاف طلبہ کے اس گروپ کی طرف سے ایک درخواست ملی ہے جو جے این یو ایس یو، ایس ایف آئی (لیفٹ ونگ سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا)، ڈی ایس ایف (ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن) اور اے آئی ایس اے (آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن) کے رکن ہیں۔‘ پولیس نے مزید کہا کہ وہ اتوار کو پیش آنے والے واقعے کے بارے میں شواہد اکٹھے کرنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے گی۔

جے این یو کیمپس میں آخری بار تشدد کا واقعہ پانچ جنوری 2020 کو پیش آیا، جب ایک نقاب پوش ہجوم اندر داخل ہوا اور طلبہ کو لاٹھیوں اور سلاخوں سے مارا پیٹا۔ واقعے کی  ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

دریں اثنا رام نومی کے موقعے پر ملک کے دیگر حصوں میں بھی کشیدگی برقرار رہی۔ ہفتے کو بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلعے کھرگون کے مختلف علاقوں میں رام نومی کے جلوس کے دوران ہونے پڑنے والی جھڑپوں میں کم از کم 10 مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا اور ایک سینیئر پولیس اہلکار سمیت دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔

مدھیہ پردیش حکومت نے پیر کو کہا کہ تشدد کے سلسلے میں 77 لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جنوبی ریاست کرناٹک میں دائیں بازو کے گروپس کے ارکان نے ہفتے کو ضلع دھارواڑ میں مسلمانوں کی ملکیت پھلوں کے سٹالز کو توڑا پھوڑا۔

سوشل میڈیا پرپوسٹ کی گئی ویڈیوز میں لوگوں کے ایک گروپ کو سٹال سے تربوز اٹھا کر اسے زمین پر مار کر توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔ قریب کھڑے لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھل فروش نبی صاب کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا: ’میں نے چھ سو کلوگرام تربوز خریدا تھا اور صرف ایک سو کلوگرام فروخت ہوا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً آٹھ سے دس لوگ آئے اور سٹال پر توڑ پھوڑ کی۔

 اقلیتی گروپس کے خلاف تشدد کی اطلاع دینے والی تنظیم ہندوتوا واچ  کے مطابق کرناٹک کے شہر رائیچور میں بھی دائیں بازو کے ہندو گروپس کے ہجوم کو رام نومی کی ریلی کے دوران عثمانیہ مسجد کے سامنے اونچی آواز میں موسیقی بجاتے ہوئے دیکھا گیا۔

مغربی بنگال کے ضلع ہاوڑہ میں شیب پور کے علاقے میں رام نومی کے جلوس کے دوران جھڑپوں کی اطلاع ملی۔

بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے رپورٹ کیا کہ ریاست گجرات کے ضلع آنند کے شہر کھمبات اورضلع سابرکانٹھا کے شہر ہمت نگر میں مختلف برادریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

کھمبات میں پولیس نے بتایا کہ جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص مارا گیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ اجیت راجیان نے بتایا: ’ایک نامعلوم شخص جس کی عمر تقریباً 65 سال دکھائی دتی ہے، کی لاش اس جگہ سے ملی جہاں رام نومی کے جلوس کے دوران دو گروپس میں تصادم ہوا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا