جب جیکی شروف کو ’قتل‘ کرنے کے لیے فلم ساز کو 10 لاکھ کی آفر ہوئی 

فلم ’پرندہ‘ کی کہانی جس پر فلم ساز ونود چوپڑا کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے۔

فلم ’پرندہ‘ سال کی کامیاب فلموں میں سے ایک تھی (ونود چوپڑا پروڈکشنز)

غصے میں بھرے انیل کپور بہت کچھ کہنا چاہ رہے تھے کہ جیکی شروف نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: ’بس اور کچھ نہیں، آج تیری سہاگ رات ہے۔‘

جیکی شروف واپسی کا راستہ پکڑتے اور انیل کپور اپنی خوبصورت دلہن کے ساتھ حجلہ عروسی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اگر اس رات جیکی شروف قتل کر دیے جاتے تو۔۔۔؟ 

یہ بات ہے ’فلم پرندہ‘ کے کلائمکس کی جو پروڈیوسر اور ہدایت کار ودو ونود چوپڑا کی تیسری فیچر فلم تھی۔ ودو ونود چوپڑا بعد میں ’1942: اے لو سٹوری،‘ ’منا بھائی سیریز،‘ ’تھری ایڈیٹس‘ اور ’پی کے‘ جیسے فلمیں بنا کر مشہور ہوئے۔ 

پونا میں قائم فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ سے ڈپلوما کرنے کے بعد ودو ونود چوپڑا نے ڈاکیومنٹری فلم سے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1981 میں ان کی پہلی فلم ’سزائے موت‘ اور 1985 میں دوسری فلم ’خاموش‘ ریلیز ہوئی۔ دونوں کو باکس آفس پر بھی خاموشی کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ ’پرندہ‘ ایک ایسا کمرشل ایڈوینچر ہے، جس پر متوازی سینیما کی گہری چھاپ محسوس ہوتی ہے۔

’پرندہ‘ کو کیمرے کی آنکھ سے کیچ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا کہ لائٹنگ بہت تیز نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے شوٹنگ کے دوران بڑی بڑی لائٹس پر باریک کپڑا چڑھایا کر روشنی مدھم کی گئی اور یہ تجربہ بہت کامیاب رہا۔ گینگسٹر فلموں کے زمرے میں پرندہ ایک عہد ساز فلم تھی، جس نے ’بینڈت کوئین‘ اور بعد کی بمبئی انڈر ورلڈ پر بننے والی ’ستیہ‘ جیسی کئی لاجواب فلموں کو متاثر کیا۔

’سزائے موت‘ اور ’خاموش‘ کی ناکامی کے بعد ودھو ونود ایک کمرشل ہٹ فلم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے نانا پاٹیکر، انیل کپور، جیکی شروف اور مادھوری کو مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا۔ 

 کشن (جیکی شروف) اور کرن (انیل کپور) دو یتیم بھائی ہیں۔ کشن ایک انڈر ورلڈ ڈان آنّا (نانا پاٹیکر) کے ساتھ کام کرتا ہے۔ بعد میں کرن ایک مخالف گینگ کے ساتھ مل کر آنّا کو جھانسہ دیتا اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر ڈالتا ہے۔

نیو ایئر نائٹ کے موقع پر کرن اور پارو کی شادی ہوتی ہے۔ کشن دونوں کو سجے سنورے بجرے پر بیٹھا کر جیسے ہی واپس پلٹتا ہے، اسے خبر ملتی ہے کہ آنّا کرن کو قتل کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہو چکا ہے۔ 

 ودو ونود نے ڈسٹری بیوٹرز کو فلم دکھائی، انہوں نے کلائمکس تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرن اور پارو کی موت شائقین کے لیے غیر متوقع صدمہ ہو گا۔ اس طرح فلم کی فضا زیادہ ہی ڈارک ہو جائے گی۔ عموماً لوگ ایسی فلم دوسری یا تیسری بار دیکھنے نہیں آتے۔ 

ونود چوپڑا اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ’جب میں نے ’پرندہ‘ بنائی تب میں بہت غریب تھا۔ ڈسٹری بیوٹرز نے فلم دیکھی اور مجھے کہا: ’یہ لیجیے 10 لاکھ۔ آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ انیل اور مادھوری کی جگہ جیکی شروف کو قتل کروانا ہے۔‘

انہوں نے یہ کہہ کر کلائمکس تبدیل کرنے سے انکار کر دیا کہ ’اگر میں نے کشن کو مار ڈالا اور پارو اور کرن کو بچا لیا تو اس کا مطلب ہے، میں وہ نہیں کہہ رہا جو میں کہنا چاہتا ہوں۔‘

ان کے بقول میں فلم میں دکھانا چاہتا تھا کہ ’تشدد کی کوکھ سے تشدد ہی جنم لیتا ہے۔‘ 

’پرندہ‘ کی شوٹنگ میں تقریباً تین سال لگ گئے جس کی بڑی وجہ محدود بجٹ تھا۔ بڑے بڑے سیٹ لگانا ناممکن تھا، اس لیے اصلی مقامات پر شوٹنگ کی گئی۔

کلائمکس کے وقت گیٹ وے آف انڈیا میں نیو ایئر نائٹ کا منظر دکھایا گیا، جسے تین سال تین مختلف نیو ایئر نائٹس پر فلمایا گیا اور بعد میں مہارت سے جوڑ دیا گیا۔ ونود چوپڑا کے بقول: ’اتنا بجٹ تھا نہیں کہ میں اتنی بھیڑ اکٹھی کر سکوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پرندہ‘ میں جیکی شروف اور انیل کپور کا لباس ان کا اپنا تھا البتہ نانا پاٹیکر کے لیے پروڈکشن کمپنی نے لباس مہیا کیا۔ تب عام طور پر ولن ویسٹرن لُک کے بانکے چھبیلے نوجوان ہوا کرتے تھے۔ ونود یہ امیج تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے نانا پاٹیکر کو کرتا اور کوہلہ پوری چپل پہنا کر ذرا غیر مہذب غنڈا دکھایا، جو بہت کامیاب رہا۔ 

ایک بار ونود چوپڑا سے سوال کیا گیا کہ ’فلم میں جیکی شروف کالی فیئٹ کار استعمال کرتے ہیں، جو بعض فلم ناقدین کے مطابق ان کے اندر کی ڈارک سائیڈ کی تصویر کشی ہے۔‘

ونود چوپڑا نے ہنستے ہوئے کہا: ’وہ جیکی کی اپنی کار تھی، ہمارے پاس تو پیسے ہی نہ تھے کہ ہم گاڑی مہیا کر سکتے۔ اگر ان کے پاس سرخ گاڑی ہوتی ہم وہ استعمال کر لیتے۔‘

فلم کے موسیقار آر ڈی برمن (پنچم) تھے۔ آخری گیت ’پیار کے موڑ پہ‘ کی ریکارڈنگ باقی تھی کہ ونود نے پنچم سے کہا: ’ہم یہ گیت ریکارڈ نہیں کر سکتے، میرے پاس بالکل پیسے نہیں ہیں۔‘

پنچم نے کہا: ’اوکے، لیکن کل میری ایک ریکارڈنگ ہے، اگر آپ وہاں آ جائیں تو بہت مزا آئے گا۔‘

دوسرے دن پنچم ’پیار کے موڑ پہ‘ ریکارڈ کر رہے تھے، جس کے پیسے انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے۔ 

بعد میں ’لو سٹوری‘ بناتے ہوئے ڈسٹری بیوٹرز اور ریکارڈنگ کمپنی کی شدید مخالفت کے باوجود ونود چوپڑا نے پنچم کو ہی بطور موسیقار لیا۔ 

اگرچہ ’پرندہ‘ کی موسیقی تب پسند کی گئی تھی لیکن پنچم کے معیار کے مطابق یہ عام سا میوزک ہے۔ البتہ ’لو سٹوری‘ میں پنچم نے سود سمیت یہ حساب چکا دیا۔ 

محض 12 لاکھ کے محدود بجٹ سے بننے والی اس فلم کی پروموشن ’دی موسٹ پاور فل فلم ایور میڈ‘ کی ٹیگ لائن سے کی گئی اور یہ سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں نویں نمبر پر رہی۔ 

 لیکن دھندہ، کشن! دھندہ۔ دھندے میں کوئی کسی کا بھائی نہیں، کوئی کسی کا بیٹا نہیں‘ جیسے ڈائیلاگ بولنے والے نانا پاٹیکر فلم میں چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ان کی بہترین پرفارمنسز میں سے ایک ہے، جس پر انہوں نے بہترین معاون اداکار کا نیشنل ایوارڈ جیتا تھا۔

جیکی شروف کی ایک مشہور تصویر ہے۔ وہ سٹیج پر کھڑے کوئی ایوارڈ وصول کر رہے ہیں اور ان کے بازو میں ایک چھوٹا سا بچہ سویا ہے۔ دراصل یہ فلم فیئر ایوارڈ کی تصویر ہے۔

اس شام جیکی شروف کو امید نہیں تھی کہ انہیں ’پرندہ‘ پر بہترین اداکار کی ٹرافی مل سکتی ہے۔ ان کی بیوی نے بچہ ان کی گود میں رکھا اور خود بیٹھے بیٹھے سو گئیں۔ ان کا نام پکارا گیا تو یہ ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بچہ ساتھ ہی لے کر چل پڑے۔ 

یہ بچہ آج کا نامور فلم سٹار ٹائیگر شروف تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ