وہ ہٹ فلم جو دو کہانیاں جوڑ کر بنائی گئی

یہ فلم ایسی کہانی پر مشتمل تھی جسے اس وقت کے تمام پروڈیوسر مسترد کر چکے تھے۔

یہ فلم اتنی مقبول ثابت ہوئی کہ آج تک اس کے سیکوئل بن رہے ہیں (نریمان فلمز)

فلم کی کہانی میں تبدیلیوں کے بہت قصے سنے مگر یہ انوکھا واقعہ ہے جب دو مختلف کہانیوں کے ملاپ سے ایک نئی کہانی نے جنم لیا اور فلم ’ڈان‘ بنی۔

فلم کے بننے، سینما تک پہنچنے اور سپر ہٹ ہونے کی کہانی اتنی دلچسپ ہے کہ اس پر ایک الگ فلم بن سکتی ہے۔ مگر فی الحال بالی رنویر کپور کے روپ میں نیا ڈان پیش کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔

 فلم ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کی شوٹنگ جاری تھی اور اس دوران محفلیں زیادہ جمتیں، کام تھوڑا ہوتا۔ سب ہی خوش تھے مگر سینماٹوگرافر نرمل ایرانی کچھ دن سے چپ چپ سے تھے۔ وہ لنچ بریک میں یونٹ کے ساتھ بیٹھتے مگر ہنسی مذاق میں کم ہی حصہ لیتے۔

روٹی کپڑا اور مکان کے ہدایت کار منوج کمار تھے۔ مرکزی کرداروں میں امیتابھ بچن، زینت امان اور پران شامل تھے۔ نرمل کی پریشانی یونٹ کے باقی لوگوں کے اچنبھے کی بات نہ تھی۔ سب جانتے تھے کہ ان کی فلم ’زندگی زندگی‘ (1972) باکس آفس پر فلاپ ہو چکی ہے اور آج کل لکشمی دیوی ان پر نامہربان ہے۔

نرمل ایرانی اپنے وقت کے جانے پہچانے سینماٹوگرافر تھے۔ 1972 میں انہوں نے فلم پروڈیوس کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’زندگی زندگی‘ ان کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئی۔ فلم کی کل کمائی آر ڈی برمن کی موسیقی ہے جس پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔ باکس آفس کی ناکامی نے نرمل کی کمر توڑ دی اور وہ بجھے بجھے سے نظر آنے لگے۔

امیتابھ بچن، زینت امان اور پران نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم نرمل ایرانی کو نئی فلم کے لیے سرمایہ اور اپنی خدمات پیش کرتے ہیں، روٹی کپڑا مکان میں منوج کمار کے اسسٹنٹ چندر باروٹ فلم ڈائریکٹ کریں گے اور کہانی سیلم جاوید سے لی جائے گی۔

سیلم جاوید نے ایک ایسی کہانی پکڑا دی جسے اس وقت کے تمام پروڈیوسر مسترد کر چکے تھے۔ نرمل کو ایک انوکھا خیال سوجھا۔ وہ ان دنوں بطور سینماٹوگرافر ’چھلیا بابو‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ انہوں نے دونوں کہانیوں کو مکس کر کے نئی فلم بنانے کی ٹھانی۔ اب ذمہ داری ہدایت کار چندر باروٹ کے کندھوں پر تھی۔ فلم کا نام مرکزی کردار کی مناسبت سے ’ڈان‘ رکھا گیا۔

تقریباً ساڑھے تین سال اور 70 لاکھ کے سرمائے سے بننے والی فلم سے بلند توقعات وابستہ تھیں۔ امیتابھ کی فلمیں ویسے بھی دھڑا دھڑ چل رہی تھیں اور پھر ڈان میں مصالحہ بھی کافی تیز رکھا گیا تھا۔ توقعات کے برعکس فلم باکس آفس پر لڑکھڑانے لگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے ہدایت کار چندر باروٹ اپنے گرو منوج کمار کے پاس پہنچے کہ ’کچھ بتائیے ورنہ فلم پہلے ہفتے ہی سینما گھروں سے اتر جائے گی۔‘

منوج کمار نے کہا، ’فلم میں ٹینشن کا ماحول بری طرح حاوی ہے، اسے ذرا ہلکے پھلکے لمحات کی ضرورت ہے تاکہ مسلسل تناؤ کی کیفیت کم ہو اور سامعین پرسکون محسوس کریں۔‘

فوری طور پر ایک گانا شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بول انجان نے لکھے اور موسیقی کلیان جی آنند جی نے ترتیب دی۔ گیت تھا، ’کھائیکے پان بنارس والا۔‘

جب کشور کمار نے گانے کے بول سنے تو کہا، ’یہ کھائیکے کیا ہوتا ہے؟ میں اسے کھا کے بولوں گا۔‘ جیسے ہی گیت آگے بڑھا انہوں نے 'بھنگ کا رنگ' اور چکا چک‘ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ گانا نہیں گاؤں گا۔

گیت کار انجان نے انہیں قائل کیا کہ ’بنارس کی گلیوں میں ایسے ہی بولا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہی اگر سیدھی سادی زبان میں کر دیا تو گلیوں کی خوشبو نہ آئے گی۔‘ 

کشور مان گئے اور انہوں نے محض ایک ٹیک میں گانا اوکے کر دیا۔

فلم میں یہ گیت شامل ہوتے ہی نئی جان پڑ گئی اور اس طرح فلم نے سات کروڑ کما کر دم لیا۔ یہ  سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنےوالی فلم تھی۔

ممکن ہے آپ سوچ رہیں ہوں کہ پروڈیوسر نرمل ایرانی اتنی بڑی کامیابی سے کتنے خوش ہوئے ہوں گے۔ مگر افسوس کہ وہ یہ سب دیکھنے سے پہلے ایک حادثے کا شکار ہو کر دنیا چھوڑ چکے تھے۔

سال 1977 میں ’کرانتی‘ فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ نرمل ایرانی ایک بار پھر منوج کمار کے سینماٹوگرافر تھے۔ ایک منظر کی شوٹنگ کے دوران دیوار ان پر آ گری۔ وہ بری طرح زخمی ہوئے اور ڈان کی ریلیز سے پہلے ہی کسی اور دنیا میں پہنچ گئے۔

ڈان میں بہترین اداکاری پر امیتابھ بچن کو فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا جو انہوں نے نرمل ایرانی کی بیوہ کی نذر کر دیا۔

ڈان کی گونج ساؤتھ میں بھی سنائی دی۔ 1980 میں تمل زبان کی فلم بلا ریلیز ہوئی جو ڈان کی کہانی پر مبنی تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس سے رجنی کانت نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔

تقریباً 28 سال بعد 2006 میں ہدایت کار فرحان اختر نے اسے دوبارہ بنانے کا فیصلہ کیا جس میں مرکزی کردار شاہ رخ خان نے نبھایا تھا۔  یہ فلم خوب کامیاب رہی تھی جس کے بعد 2011 میں فرحان اختر نے ڈان 2 بنائی۔ اس بار بھی شاہ رخ خان ہی ڈان کے کردار میں نظر آئے۔

آج کل ڈان 3 کی تیاریوں کی خبریں گردش میں ہیں۔ فرحان اختر نے اپنے چند روز قبل ایکس پر یہ خبر سنائی کہ وہ ڈان تھری بنانے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ڈان کی وراثت کو آگے بڑھایا جائے اور اس نئے ورژن میں ہمارے ساتھ شامل ہونے والا نیا اداکار ہو گا جس کی قابلیت کی میں نے طویل عرصے سے تعریف کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اسے وہ محبت دکھائیں گے جو آپ نے مسٹر بچن اور شاہ رخ خان کو دکھائی۔‘

انہوں نے فلم کا ٹیزر بھی جاری کیا جس میں ڈان کی شکل دیکھے بغیر ہی یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اس مرتبہ کون اس کردار کو نبھاتا نظر آئے گا لیکن ویڈیو میں رنویر سنگھ کی شکل بھی دکھائی دیتی ہے۔

اسی لمحے اس راز سے پردہ ہٹ جاتا ہے کہ بالی وڈ کا تیسرا ’ڈان‘ رنویر سنگھ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ